خیبر پختونخوا کی کہانی ایک ایسی المناک داستان ہے جو ہر سال بجٹ کے اعداد و شمار میں گم ہو جاتی ہے، جس میں اربوں روپے کی منتقلیاں تو ہوتی ہیں مگر زمین پر کچھ بدلتا نظر نہیں آتا، یہ وہ صوبہ ہے جہاں وفاقی خزانے سے سب سے زیادہ فی کس خطیر رقم وصول کی جاتی ہے، جہاں وسائل کی بارش ہوتی ہے مگر زمین پر تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی حالت ناگفتہ بہ ہے، جہاں ترقی کے اعلانات ہوتے ہیں مگر عملاً زبوں حالی کا راج ہے۔
یہاں کا المیہ یہ نہیں کہ وسائل نہیں آئے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کہاں گئے؟ 2018ء میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو سالانہ ایک سو ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر حیرت انگیز طور پر انہیں اس سے بھی زیادہ، ایک سو اڑسٹھ ارب روپے سالانہ ملے، لیکن آپ آج وہاں کا سفر کریں تو سڑکیں وہیں کی وہیں ٹوٹی پھوٹی ملیں گی، اسکول ویران اور عمارتیں نامکمل نظر آئیں گی، صحت کی سہولیات مفقود ہیں اور نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔
صوبے کی کل آمدنی کا چورانوے فیصد سے زیادہ حصہ محض وفاقی منتقلیوں پر انحصار ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہر سو روپے میں سے صرف چھ روپے صوبائی حکومت خود کماتی ہے، باقی چورانوے روپے ملکی ٹیکس دہندگان کی محنت کا ثمر ہے جسے احسن طریقے سے خرچ کرنا حکومت کا فرض تھا مگر یہ فرض ادا ہوتا نظر نہیں آتا۔ مالی سال 2025ء -26ء کا ہی بجٹ دیکھ لیں، دو ہزار ایک سو انیس ارب روپے کے کل بجٹ میں خود کی کمائی ہوئی رقم محض ایک سو انتیس ارب روپے ہے، یہ اعداد و شمار کسی معاشی بدحالی کا نہیں بلکہ انتظامی نااہلی اور خود انحصاری کے فقدان کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اس پر مستزاد یہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کی قربانیوں کے اعتراف میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت ایک فیصد اضافی حصہ بھی پندرہ سال میں سات سو ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، مگر ان قربانیوں کا احترام اس طرح نہیں کیا جا رہا کہ ان کے علاقوں میں ترقی کے منصوبے مکمل کیے جائیں، بلکہ یہ رقم بھی کسی بے نام گڑھے میں گرتی نظر آتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سب پیسہ کہاں گیا؟ جب فی کس بجٹ کے لحاظ سے یہ صوبہ پنجاب سے آگے ہے، جہاں ہر شہری پر خرچ ہونے والی رقم تقریباً بائیس ہزار روپے ہے، تو پھر خواندگی کی شرح پچپن فیصد پر کیوں اٹکی ہوئی ہے؟
ویکسینیشن اکہتر فیصد تک کیوں نہیں پہنچ پاتی؟ صاف پینے کے پانی تک رسائی کا مسئلہ کیوں حل نہیں ہو رہا؟ اور ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد ہزار افراد پر محض آدھا کیوں ہے؟ یہ تمام اشاریے اس بات کا برملا اعلان ہیں کہ مسئلہ خطیر فنڈز کی عدم دستیابی کا نہیں، بلکہ ان کے استعمال میں نیت اور دیانتداری کی کمی کا ہے، ترجیحات کی غلطی کا ہے، احتساب کے فقدان کا ہے۔ صوبائی حکومت نے عوامی فلاح کے بجائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کو ترجیح دی، وفاق کو مورد الزام ٹھہرانے کا کھیل عوامی توجہ بٹانے کا ایک ذریعہ بنا لیا گیا، جبکہ اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے یہی رویہ اختیار کیا گیا۔
یہ ایک ایسا المیہ ہے جہاں ترقیاتی منصوبے کاغذوں تک محدود رہے، جہاں عوامی آڈٹ کا کوئی تصور نہیں، جہاں شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہی نہیں کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کس طرح اور کہاں لگایا جا رہا ہے۔ حقیقی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس مالی بہاؤ کو شفاف بنایا جائے، ہر روپیہ کھلے احتساب کے دائرے میں لایا جائے، ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کرکے خود انحصاری کی طرف سفر شروع کیا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکمرانی کی ترجیحات میں عوامی صحت، معیاری تعلیم اور مضبوط بنیادی ڈھانچے کو اولین مقام دیا جائے۔
خیبر پختونخوا کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے، ارادوں کی کمی ہے۔ اگر حکمرانوں کی نیت صاف ہو اور ترجیحات درست ہوں تو اس صوبے کی قسمت بدلنا کوئی مشکل کام نہیں، ورنہ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا، اربوں روپے کے اعداد و شمار اخباروں کی زینت بنتے رہیں گے اور عوام کی حالت زار میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام جو پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے، اب بھی ترقی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، ان کے بچوں کے لیے معیاری سکول نہیں ہیں، ان کے مریضوں کے لیے مناسب ہسپتال نہیں ہیں، ان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع نہیں ہیں، حالانکہ ان کے لیے مختص کیے گئے وسائل عام اضلاع سے بھی زیادہ تھے۔
یہ سوال اب صرف اعداد و شمار کا نہیں رہا، یہ انسانی المیے کا سوال بن چکا ہے، جہاں ایک طرف تو بجٹ کے کاغذات پر اربوں روپے کی رقوم دکھائی جاتی ہیں اور دوسری طرف زمین پر ایک غریب ماں اپنے بیمار بچے کے لیے دوائی تک نہیں خرید سکتی، ایک طالب علم روشنی کے بغیر رات کو پڑھائی نہیں کر سکتا، ایک کسان پانی کی کمی سے اپنی فصلیں برباد ہوتے دیکھتا ہے۔ یہ وہ حقیقتیں ہیں جو ہمارے حکمرانوں کی آنکھوں سے اوجھل ہیں، جو شاید انہیں نظر نہیں آتیں۔
انتظامیہ کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ صوبے میں محکمہ جات کا آپس میں کوئی مربوط نظام نہیں، ہر محکمہ الگ تھلگ کام کر رہا ہے، کوئی اجتماعی حکمت عملی نظر نہیں آتی، کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی نہیں ہے، بس وقتی اعلانات اور فوٹو سیشنز ہیں جو عوام کی توجہ بٹانے کا کام کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنی ذمہ داریاں بھول کر صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں، جبکہ عوام کے مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ میڈیا بھی بس سطحی خبریں دکھا کر اپنا فرض پورا کر لیتا ہے، گہرائی میں جاکر حقائق کو بے نقاب کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔
سول سوسائٹی کی آواز بھی یا تو دبائی جاتی ہے یا پھر وہ بھی کسی نہ کسی سیاسی ایجنڈے میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان صوبے کے عام شہری کا ہو رہا ہے، جو نہ تو صحت کی سہولیات حاصل کر پا رہا ہے، نہ ہی معیاری تعلیم، نہ روزگار کے مواقع، نہ ہی بنیادی انفراسٹرکچر۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ٹیکس کے طور پر وفاق کو پیسہ دیتے ہیں اور پھر وہی پیسہ انہیں واپس ملتا ہے مگر ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کی بجائے کسی اور ہی جگہ غائب ہو جاتا ہے۔ ان کے مسائل کا حل پیسے کے بہاؤ کو روکنے میں نہیں، بلکہ اس بہاؤ کو صحیح سمت دینے میں ہے، شفافیت لانے میں ہے، احتساب کا نظام قائم کرنے میں ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ترقیاتی منصوبے کا کھلا ریکارڈ رکھا جائے، ہر روپے کا حساب ہو، مقامی لوگوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے، ان کی ضروریات کو سمجھا جائے، ان کی ترجیحات کو مدنظر رکھا جائے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیاں بناتے وقت ماہرین معاشیات، سماجی سائنسدانوں اور مقامی رہنماؤں سے مشورہ کرے، تاکہ ایسے منصوبے بنائے جا سکیں جو نہ صرف زمینی حقائق کے مطابق ہوں بلکہ دیرپا ثمر بھی دیں۔ تعلیم کے شعبے میں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، سکولوں کی عمارتیں بنانا ہی کافی نہیں، معیاری اساتذہ کی فراہمی، جدید نصاب کا اجراء اور طلباء کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہنر مند بنانا بھی ضروری ہے۔
صحت کے شعبے میں صرف ہسپتال کھول دینا کافی نہیں، بلکہ ڈاکٹرز، نرسیں، ادویات اور جدید آلات کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوگا۔ بنیادی ڈھانچے میں سڑکوں کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور بجلی کی مستقل سپلائی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان تمام تر باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کو ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس میں شفافیت، احتساب اور عوامی شرکت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ان وسائل کے صحیح استعمال کی کمی ہے اور یہ کمی تب تک دور نہیں ہو سکتی جب تک حکمران اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کریں گے اور عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے متحد ہو کر آواز نہیں اٹھائیں گے۔
وقت آ گیا ہے کہ اس صوبے کے عوام بیدار ہوں، اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں اور ان حکمرانوں کو جواب دہ بنائیں جو ان کے وسائل کو ان کی بہبود پر خرچ کرنے کی بجائے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ صوبہ اپنے وسائل، اپنی محنت اور اپنی لگن کے بل پر ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی قیادت میں ایمانداری اور دیانتداری ہو، ترجیحات درست ہوں اور عوامی فلاح کو اولین مقام حاصل ہو۔