مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی بساط پر طاقت، نظریے اور مفاد کی کشمکش کبھی محض سفارتی بیانیوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ عالمی طاقتوں کے اعصاب، مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تعلقات کی نزاکت کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں خطے کے دو مؤثر اسلامی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی فکری و اسٹریٹجک خلیج نے اسی حقیقت کو ایک نئے اور نہایت پیچیدہ انداز میں اُجاگر کیا ہے۔ ایک جانب وہ ریاست کھڑی ہے جس نے علاقائی تنازعات کو ٹھنڈا کرنے، کشیدگی کو قابو میں رکھنے اور اپنی داخلی و خارجی حکمتِ عملی کو معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کی توسیع سے جوڑنے کی سعی کی ہے۔ دوسری طرف وہ ملک ہے جو نظریاتی محرکات، وسیع جغرافیائی اثرانداز قوت اور پراکسی نیٹ ورکس کی عملی سیاست کے ذریعے ایک ایسے کردار کے طور پر ابھر رہا ہے جس کے عزائم کو ماہرین سلطنتی نوعیت کا رجحان قرار دیتے ہیں۔ یہی متضاد جہتیں خطے کی نئی طاقتاتی ترتیب کو نہ صرف بکھیر رہی ہیں بلکہ عالمی نظام کے توازن پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر رہی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا اور معروف تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق یمن، سوڈان اور بحیرۂ احمر کے گرد ابھرنے والے تنازعات محض مقامی بحران نہیں رہے، بلکہ یہ بیرونی سرمایہ کاری، عالمی تجارت، توانائی کی رسد اور حساس سفارتی مذاکرات تک اپنی بازگشت رکھتے ہیں۔ معاشی ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ جب دو ایسے ممالک جن کا اثرورسوخ خلیج سے افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے بین الاقوامی معیشت تک پھیلا ہوا ہو اپنی پالیسی ترجیحات کے باب میں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہو جائیں، تو نتیجتاً عالمی منڈیوں میں غیر یقینی، علاقائی اتحادوں میں اضطراب اور عالمی سفارت کاری میں پیچیدگی بڑھ جاتی ہے۔ ایک طرف مفاہمتی اور حقیقت پسندانہ رویے کے ذریعے تنازعات کو سمیٹنے کا تصور پروان چڑھتا دکھائی دیتا ہے، دوسری طرف نظریاتی خود اعتمادی اور پراکسی ڈھانچوں کے ذریعے قوت کے پھیلاؤ کا ماڈل سامنے آتا ہے، جو خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سیاسی اور عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اس کشمکش کا سب سے نازک پہلو یہ ہے کہ اسے محض دو ریاستوں کی سرد مہری سمجھ لینا ایک بڑی سادہ انگاری ہوگی۔ یہ معاملہ اس سے کہیں آگے، ایک وسیع تر حکمتِ عملی کے تصادم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک ملک نے گزشتہ برسوں میں علاقائی کشیدگی کم کرنے، سفارتی راستوں کو ترجیح دینے، سرمایہ کاری پر مبنی اشتراک بڑھانے اور اپنے معاشی وژن کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ اس کے برعکس، دوسرا ملک غیر ریاستی ملیشیاؤں، متوازی سکیورٹی نیٹ ورکس اور نظریاتی ہمدردی رکھنے والے گروہوں کے ذریعے خطے میں ایک ایسے اثرورسوخ کا جال بُن رہا ہے جو سرحدی حدود سے نکل کر افریقہ، مشرقی بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر تک پھیلتا جا رہا ہے۔ یہی پراکسی ماڈل نہ صرف عسکری توازن میں خلل ڈالتا ہے بلکہ ریاستی خود مختاری اور علاقائی نظم کے سوال کو بھی مزید الجھا دیتا ہے۔
امریکی و یورپی پالیسی حلقوں میں یہ صورتِ حال واشنگٹن اور عالمی طاقتوں کے لیے ایک سخت امتحان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عالمی میڈیا کی متعدد رپورٹس میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی اختلافات اگر اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو یہ عالمی سرمایہ کاری کے بہاؤ کو متاثر کر سکتے ہیں، مالیاتی منصوبوں کو غیر یقینی سے دوچار کر سکتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر جاری حساس مذاکرات خواہ وہ توانائی کی راہداریوں سے متعلق ہوں یا سکیورٹی تعاون سے انہیں کسی بھی مرحلے پر تعطل کا شکار کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی فیصلہ ساز حلقے اسے محض ایک علاقائی سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ عالمی طاقت کے توازن کے لیے ایک ممکنہ خطرہ تصور کر رہے ہیں۔
سیاسی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب کسی خطے میں نظریاتی خودتصور اور حقیقت پسندانہ اسٹیٹ کرافٹ کا ٹکراؤ شدت اختیار کرے تو اس کے اثرات صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہتے۔ خطے کے چھوٹے ممالک، غیر مستحکم ریاستیں اور معاشی طور پر کمزور معاشرے ایسے تصادم کی زد میں سب سے پہلے آتے ہیں۔ آج یہی منظرنامہ یمن اور سوڈان کے تنازعات میں جھلکتا ہے، جہاں پراکسی گروہ، متوازی وفاداریاں اور خارجہ اثرات، ریاستی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں ماہرین اسے محض علاقائی سیاست نہیں بلکہ طاقت کی نئی عالمی انجینئرنگ کا مظہر قرار دیتے ہیں جہاں عسکری اور سفارتی حکمتِ عملی کے ساتھ بیانیاتی جنگ بھی اسی شدت کے ساتھ جاری ہے۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ خطے میں ابھرنے والا یہ تناؤ کسی ایک سمت میں نہیں جا رہا بلکہ دو مختلف راستوں کو ایک ہی وقت میں کھول رہا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو معاشی تعاون، سرمایہ کاری، علاقائی مفاہمت اور ریاستی استحکام کو ترجیح دیتا ہے، دوسرا راستہ نظریاتی توسیع، پراکسی اثرورسوخ، اسٹرٹیجک رسائی اور طاقت کے علامتی اظہار سے عبارت ہے۔ انہی متوازی راستوں نے وہ صورتحال پیدا کی ہے جسے بعض عالمی مبصرین "نئے اسلامی محور" کے ابھرنے سے تعبیر کرتے ہیں ایک ایسا محور جو بظاہر اشتراک سے زیادہ رقابت کی سمت میں حرکت کر رہا ہے اور جس کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اس تناظر میں سوال یہ نہیں کہ کون سی ریاست درست ہے اور کون سی غلط، اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کی یہ نئی کشمکش خطے کے مستقبل کو کس سمت لے جائے گی۔ اگر یہ اختلافات اس نہج پر پہنچ گئے کہ سفارتی مکالمہ نیچے چلا جائے اور پراکسی مقابلہ صفِ اوّل میں آ جائے، تو اس کا نتیجہ دیرپا عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے ایک ایسا عدم توازن جو عالمی معیشت، توانائی کی رسد، بحری راستوں کی سلامتی اور بین الاقوامی سفارت کاری کے بنیادی ڈھانچوں تک کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ لمحہ عالمی برادری، علاقائی قیادتوں اور خود اِن دونوں طاقتور اسلامی ممالک کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ نظریاتی کشش اور طاقت کے توسیعی رجحانات جب سفارتی توازن اور ذمہ دارانہ ریاستی حکمتِ عملی پر غالب آ جائیں، تو نتیجتاً خرابی کا دائرہ بہت وسیع ہو جاتا ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ اسی موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک طرف مفاہمت، معاشی حقیقت پسندی اور ذمہ دارانہ اسٹریٹجی کا راستہ موجود ہے اور دوسری طرف پراکسی مقابلہ، نظریاتی کشمکش اور طاقت کی اعصابی سیاست۔
یہ فیصلہ اب خطے کی قیادتوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ کو کس سمت موڑتی ہیں استحکام کی طرف یا تصادم کی طرف کیونکہ اس بساط پر ہونے والی ہر حرکت محض دو ممالک تک محدود نہیں، بلکہ عالمی نظام کے اعصاب تک سرایت رکھتی ہے۔