مشرقِ وسطیٰ کے معرکۂ خونیں میں اگرچہ کسی سرِ پُرغرور کو خمیدگیِ تسلیم کا تجربہ نہ ہوا، تاہم شکستِ فاش کا مکتوبِ عبرت ہر دہلیز پر جلی حروف میں رقم ہو چکا ہے۔ عصرِ حاضر کے افقِ سٹرٹیجک پر معرکۂ ایران کے جو ہولناک نقوش ابھرے ہیں، انہوں نے فکری اور تجزیاتی حلقوں کو یہ اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ کارزارِ ہستی روایتی عسکری فتوحات کا مظہر نہیں، بلکہ ایک ایسا نوحۂ خسارِ باہمی ہے جس میں کوئی بھی فریق سرخروئی کا تاج پہن کر نہ نکل سکا۔
امریکی جریدے "فارن پالیسی" کا تازہ ترین قرطاسِ تجزیہ اسی تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ بارود کی ہولناک بو میں لپٹے اس منظرنامے میں فاتح کی جستجو اک کارِ لاحاصل ہے، یہاں ہزیمت سب کا مقدر ٹھہری اور ہر ایک کا دامن سیاسی و معاشی رسوائی کے داغوں سے ملوث ہے۔ یہ جنگ میدانِ کارزار کی حد تک اگرچہ تکنیکی و ٹیکٹیکل تفوق کے چند عارضی مظاہر سامنے لائی، لیکن سیاسی دور اندیشی اور پائیدار ثبات کے تناظر میں یہ تزویراتی ناعاقبت اندیشی کا ایک ہولناک اور عبرت ناک شاہکار ثابت ہوئی۔
معاملے کا سب سے دقیق اور عبرت خیز پہلو واشنگٹن اور تل ابیب کی وہ موہوم عسکری کامیابیاں ہیں جو اپنے بطن سے ایک گہرے اور لاینحل سیاسی بحران کو جنم دے چکی ہیں۔ دونوں قوتوں نے اپنے تکنیکی اعجاز اور مہیب اسلحے کے بل بوتے پر فضائی و زمینی معرکوں میں چند جزوی اہداف تو حاصل کر لیے، لیکن جب ان فتوحات کو سیاسی استحکام اور ایک نئے علاقائی نظم و ضبط (Regional Order) میں ڈھالنے کا مرحلہ آیا، تو یہ دونوں طاقتیں ایک تزویراتی بنبست (بند گلی) میں ایستادہ نظر آئیں۔ عسکری برتری اس وقت تک عقیم (بانجھ) رہتی ہے جب تک وہ مطلوبہ سیاسی نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے اور یہی وہ تزویراتی خلا ہے جس نے ان کی عسکری فتوحات کو سیاسی ناکامی کے لبادے میں ملبوس کر دیا۔ اسرائیل کی اندرونی سکیورٹی اور خطے میں اس کی قبولیت کا خواب پہلے سے زیادہ مخدوش اور دھندلا چکا ہے، جبکہ امریکہ کی عالمی بالادستی اور رعبِ دبدبہ پر شکوک کے گہرے سائے منڈلا رہے ہیں۔
دوسری جانب، تہران کا منظرنامہ بھی کسی فتحِ مبین کا پتہ نہیں دیتا۔ ایران کا مروجہ ریاستی ڈھانچہ اور نظام اگرچہ مسمار ہونے سے محفوظ رہا اور اس نے ہجومِ بلا میں اپنی بقا برقرار رکھی، مگر اس بقا کا تاوان اتنا سنگین ہے جس نے ایرانی ریاست کے وجود کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ ایرانی معیشت جو پہلے ہی دہائیوں کی عقوبت ناک پابندیوں کے سبب دگرگوں تھی، اس معرکے کے بعد شدید ترین تنزلی کا شکار ہو چکی ہے اور اس کا وہ علاقائی نفوذ و اثر جو اس کی سکیورٹی لائن مانا جاتا تھا، اب شدید زوال پذیر ہے۔ تہران کی تزویراتی گہرائی (Strategic Depth) سمٹ چکی ہے اور اس کی جڑیں کمزور ہوئی ہیں۔
تاہم، اس پورے قضیے میں "آبنائے ہرمز" ایک نئے اور ہولناک ہائبرڈ ہتھیار کے طور پر جلوہ گر ہوئی ہے۔ عالمی توانائی کی اس شہ رگ نے یہ ثابت کر دیا کہ روایتی میزائلوں اور ڈرونز سے ماورا، جغرافیائی پوزیشننگ دنیا کی مقتدر ترین معیشتوں کا گلا گھونٹنے کے لیے سب سے مہلک حربہ بن سکتی ہے، جس کے مہیب خوف نے عالمی منڈیوں کے ایوانوں کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔
اس معرکے کی حرارت نے خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جو اب ایک مستقل عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات کے جہنم میں دھکیل دی گئی ہیں۔ برسوں کی معاشی نمو اور سیاحتی و تجارتی مرکز بننے کی ان کی طویل جدوجہد اب خطے کی اس غیر یقینی صورتحال کی نذر ہو رہی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ کی روایتی "سکیورٹی ضمانتوں" پر اس کے خلیجی اتحادیوں کا اعتماد بری طرح متزلزل ہو چکا ہے۔ خلیجی دارالحکومتوں میں یہ احساس راسخ ہو رہا ہے کہ بحران کے عین نقطۂ عروج پر واشنگٹن کے دفاعی وعدے محض ایک سراب ثابت ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں اب یہ ریاستیں اپنی بقا کے لیے متبادل عالمی اتحادوں اور علاقائی سمجھوتوں کی طرف مائل ہونے پر مجبور ہیں۔
جہاں تک روس اور چین کا تعلق ہے، انہوں نے اس بحران سے وقتی طور پر سفارتی اور جیو پولیٹیکل فوائد تو سمیٹے، کیونکہ اس جنگ نے امریکہ کی توجہ اور وسائل کو یوکرین اور تائیوان کے محاذوں سے ہٹا کر مشرقِ وسطیٰ کے دلدل میں الجھائے رکھا۔ لیکن طویل المدتی بنیادوں پر یہ مخدوش صورتحال ماسکو اور بیجنگ کے لیے بھی زیاں کار ہے۔ چین کی وسیع تر تجارتی گزرگاہیں، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور توانائی کی بلا تعطل فراہمی اسی خطے کے امن سے مشروط ہیں، جو اب تار تار ہو چکا ہے۔ روس کے لیے بھی مشرقِ وسطیٰ کا یہ بگاڑ کسی نئے سکیورٹی دلدل کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یوں، اس جنگ نے مجموعی طور پر پورے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو اس طرح درہم برہم کر دیا ہے کہ اب یہاں کسی نئے اور متفقہ نظام کی تشکیل ناممکن حد تک دشوار دکھائی دیتی ہے۔
اس ابتر صورتحال کا سب سے تشویشناک داخلی نتیجہ ایران کے اپنے سیاسی نظام پر مرتب ہوا ہے۔ بحران کے باعث ایران کے اندر عوامی و سیاسی اداروں کے مقابلے میں سکیورٹی اور عسکری اداروں کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ طاقت کا یہ ارتکاز اگرچہ وقتی طور پر اندرونی خلفشار کو دبانے کے کام آ رہا ہے، لیکن اس نے ایرانی نظام کو لچک سے محروم کرکے مزید نازک (Fragile) اور غیر لچکدار بنا دیا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں طاقت کا توازن صرف بندوق کے پاس رہ جائے، وہ اندرونی طور پر کسی بھی وقت بڑے دھماکے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ "فارن پالیسی" کا یہ تجزیہ دراصل اس نوحے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ جدید دور کی جنگیں اب کسی کو فاتح کا تاج نہیں پہناتیں، بلکہ وہ زمین کو بارود کا ایسا ڈھیر بنا دیتی ہیں جہاں صرف ہارنے والوں کی مختلف اقسام باقی رہ جاتی ہیں۔