انسان کی زندگی صدیوں سے ایک ہی بنیادی سوال کے گرد گھومتی رہی ہے: کامیابی کسے کہتے ہیں؟ کیا دولت کا انبار، اقتدار کی مسند، شہرت کی چکاچوند، یا علمی اسناد کی قطار انسان کو واقعی کامیاب بنا دیتی ہے؟ یا پھر کامیابی کا کوئی ایسا پیمانہ بھی ہے جو وقت کی گرد میں دھندلا نہیں پڑتا، حالات کی سختیوں میں ٹوٹتا نہیں اور موت کی سرحد پر آ کر بھی انسان کے ساتھ رہتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو ہر سنجیدہ ذہن کو بے چین کرتا ہے اور ہر باشعور دل کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
عصرِ حاضر میں کامیابی کو عموماً مادی پیمانوں سے ناپا جاتا ہے۔ زیادہ کمانے والا کامیاب، زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والا بااثر، زیادہ فالوورز والا مقبول اور زیادہ ڈگریاں رکھنے والا معتبر سمجھا جاتا ہے۔ مگر تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ تمام پیمانے وقتی ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے عہد میں طاقت کے استعارے سمجھے جاتے تھے، آج تاریخ کے اوراق میں عبرت بن کر پڑے ہیں اور وہ افراد جن کے پاس نہ دولت تھی نہ اقتدار، آج بھی زندہ ضمیر انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مادی کامیابیاں انسان کی ضروریات پوری کرتی ہیں، مگر اس کی روح کی پیاس بجھا نہیں سکتیں۔
اصل کامیابی دراصل انسان کے باطن سے جڑی ہوتی ہے۔ وہ باطن جو انسان کے کردار، نیت، شعور اور اخلاق سے تشکیل پاتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو سچ بولتا ہے، امانت کی حفاظت کرتا ہے، کمزور کا سہارا بنتا ہے اور طاقت پا کر ظلم نہیں کرتا، وہ بظاہر گمنام ہو کر بھی حقیقت میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص جو تمام ظاہری کامیابیاں سمیٹ لے مگر اپنے ضمیر کو ہار دے، وہ تاریخ میں شاید بڑا نام کہلائے، مگر حقیقت میں ناکام ہی رہتا ہے۔
انسان کی اصل کامیابی کا ایک بڑا پہلو مقصدِ حیات سے جڑا ہے۔ وہ شخص جو یہ جان لیتا ہے کہ وہ کیوں پیدا ہوا، اس کی زندگی کا ہدف کیا ہے اور اسے اپنے مختصر سے وقت میں کیا کردار ادا کرنا ہے، وہ بھٹکنے سے بچ جاتا ہے۔ مقصد کے بغیر زندگی ایسے مسافر کی مانند ہے جو قیمتی وقت اور توانائی تو صرف کرتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ منزل کہاں ہے۔ مقصد شعور کو سمت دیتا ہے اور سمت انسان کو سکون عطا کرتی ہے اور یہی سکون کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔
اصل کامیابی کا تعلق انسان کے تعلقات سے بھی ہے۔ وہ شخص جو رشتوں کو نبھانا جانتا ہے، والدین کی خدمت کو فخر سمجھتا ہے، اولاد کو ذمہ داری تصور کرتا ہے، دوستوں میں وفا اور دشمنوں میں بھی انصاف کو نہیں چھوڑتا، وہ معاشرتی اعتبار سے بھی کامیاب ہے۔ دولت کے بغیر بھی عزت کمائی جا سکتی ہے، مگر کردار کے بغیر عزت خریدی نہیں جا سکتی۔ معاشرہ آخرکار اسی شخص کو یاد رکھتا ہے جس کا رویہ انسان دوست اور جس کا کردار قابلِ اعتماد ہو۔
روحانی زاویے سے دیکھا جائے تو اصل کامیابی وہ ہے جو انسان کو اپنے خالق کے قریب کر دے۔ وہ دل جو شکرگزاری جانتا ہو، وہ زبان جو تکبر سے پاک ہو اور وہ عمل جو خیر کا سبب بنے، انسان کو ایسی کامیابی عطا کرتے ہیں جو نہ کسی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتی ہے اور نہ وقت کے بدلتے ذوق سے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی فکر میں کامیابی کو صرف دنیا تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے انجام، یعنی آخرت سے جوڑا گیا ہے، جہاں نہ دولت کام آئے گی نہ سفارش، بلکہ نیت اور عمل ہی اصل معیار ہوں گے۔
اصل کامیابی کا ایک اہم امتحان ناکامی کے لمحات میں سامنے آتا ہے۔ جو شخص ٹھوکر کھا کر بھی حوصلہ نہیں ہارتا، محرومی میں بھی شرافت نہیں چھوڑتا اور آزمائش میں بھی اخلاق کو قربان نہیں کرتا، وہ دراصل کامیاب انسان ہے۔ کامیابی صرف بلندی کا نام نہیں، بلکہ گرنے کے بعد سنبھلنے اور سنبھل کر بہتر انسان بننے کا نام ہے۔ یہی وہ کامیابی ہے جو انسان کو اندر سے مضبوط بناتی ہے۔
تعلیم، ٹیکنالوجی اور ترقی اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اگر یہ سب انسانیت سے خالی ہو جائیں تو یہ کامیابی نہیں بلکہ خطرہ بن جاتی ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ذہین لوگ ہوں مگر حساس نہ ہوں، ماہر ہوں مگر منصف نہ ہوں، ترقی یافتہ ہو مگر رحم سے خالی ہو، وہ معاشرہ ظاہری طور پر آگے ہو سکتا ہے مگر حقیقی معنوں میں ناکام ہی رہتا ہے۔ اصل کامیابی ترقی اور اخلاق کے امتزاج کا نام ہے۔
بالآخر، انسان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بامعنی بنا لے۔ وہ صبح اٹھے تو کسی کے لیے آسانی کا سبب بنے، دن گزارے تو دیانت کے ساتھ اور رات کو سوئے تو ضمیر مطمئن ہو۔ وہ دنیا سے رخصت ہو تو پیچھے دولت نہیں بلکہ دعا چھوڑ جائے، عمارتیں نہیں بلکہ اقدار چھوڑ جائے اور شور نہیں بلکہ اثر چھوڑ جائے۔ یہی وہ کامیابی ہے جو انسان کو فانی دنیا میں بھی معتبر بناتی ہے اور ابدی زندگی میں بھی سرخرو۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اصل کامیابی نہ تو صرف حاصل کرنے کا نام ہے اور نہ ہی جیتنے کا، بلکہ خود کو بہتر بنانے، دوسروں کے لیے مفید ہونے اور اپنے خالق کے حضور جواب دہ ہونے کا شعور رکھنے کا نام ہے۔ یہی کامیابی خاموش ہوتی ہے، مگر اس کی بازگشت صدیوں تک سنائی دیتی ہے۔