Thursday, 21 October 2021
  1.  Home/
  2. Asif Mehmood/
  3. Lala Eesa Khelvi Jhoot Nahi Bolta

Lala Eesa Khelvi Jhoot Nahi Bolta

عطاء اللہ عیسٰی خیلوی ہمارا لالہ ہے اور لالے سے ہمیں پیار ہے۔ معاملہ اب یہ ہے کہ خلق خدا مہنگائی سے بلبلا رہی ہے اور لالہ سر لگاتا ہے: "اچھے دن آئے ہیں "۔ دوست پوچھتے ہیں تمہارے لالے کو کیا ہو گیا، اتنی دیدہ دلیری سے غلط بیانی کرتا ہے اور میں انہیں سمجھاتاہوں ہمارا لالہ بہت پیارا آدمی ہے جھوٹ نہیں بول سکتا۔ ہو سکتا ہے اس کے سچ مچ میں اچھے دن آ گئے ہوں۔ اور ز یر لب مسکراکر جب وہ سُر لگاتا ہو تو اپنی کہانی بیان کرتا ہو لیکن سننے والے سمجھتے ہوں کہ وہ تبدیلی کا سہرا کہہ رہا ہے۔

لالہ بہت اچھا گاتا ہے لیکن جتنا بھی اچھا گاتا ہو اس کی محدودیت اب بڑھتی جا رہی تھی۔ ایک تو اس کا کلام اداس ہے، شادی کی تقاریب میں بھی جائے تو سب کو دکھی کر آتا ہے۔ دوسرا وہ لوک فنکار ہے جو مقبولیت کے عروج پر بھی پہنچ جائے تب بھی ایک خاص دائرے میں رہتا ہے۔ دیہی علاقوں میں تو لالے کو پسند کیاجاتا ہے اور لوک فنکاروں میں اس کا مقابل دور دور تک کوئی نہیں۔ شہری علاقوں میں میرے جیسے اس کے عادی پرستار اس کی محبت کے گرفتار ہیں لیکن نئی نسل کی موسیقی کی طلب اور ترجیح مختلف ہے۔

تحریک انصاف کے نغمے گا کر البتہ ماحول بدل گیا ہے اور تحریک انصاف کے چاہنے والوں کی نوجوان نسل جس نے زندگی میں شاید ہی کبھی لالے کو سنا ہو، اب اس کے گانوں پر جھومتی ہے۔ عمر کے اس حصے میں جب آواز کا سرگم بھی گھائل ہو چکا ہو ایک فنکار ایک سیاسی جماعت کے قصیدے پڑھ کر پھر سے شمع محفل بن جائے تو اسے اور کیا چاہیے؟ اب آپ ہی بتائیے میرا لالہ اب بھی یہ دعوی نہ کرے کہ " اچھے دن آئے ہیں " تو پھر کب کرے؟

ایک فنکار کو سیاسی صف بندی سے خود کو الگ رکھنا چاہیے لیکن ظاہر ہے یہ رائے کسی فنکار پر مسلط نہیں کی جا سکتی۔ لالے نے عمر کے اس حصے میں سیاسی عشق پالا اور انجام یہ ہے کہ اب سوشل میڈیا پر میرے لالے کے ساتھ وہ ہو رہی ہے جو جیدی کے ہاتھوں ڈھولک کے ساتھ ہوتی تھی۔ ایسی ایسی ظریفانہ ویڈیو سامنے آ رہی ہیں کہ دیکھنے والا الامان پکار اٹھتا ہے۔

گھر میں مستری کام کر رہے ہیں، ان کا تعلق بھی سرگودھا سے ہے۔ کل ان میں سے ایک گنگنا رہا تھا " روٹی ویئاں دی لے آئے ہیں تے چائے تیئاں دی پی آئے ہیں، اچھے دن آئے ہیں "۔ اس کی شاعری سن کر خیال آیا کہ اگر افضل عاجز تازہ ترین زمینی حقائق کی روشنی میں اچھے دن آئے ہیں، کو طر ز مصرع سمجھتے ہوئے کچھ لکھ ڈالیں تو شاید اچھے دنوں کی تشریف آوری کا قصیدہ مکمل ہو جائے۔

فنکاروں اور سیاست میں تعلق کوئی نیا اور اچھوتا خیال نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیے اور فنکاروں نے بھی گایا لیکن وہ اپنے فن تک محدود رہے۔ گایا اور چلدیے۔ لالہ تو مگر تبدیلی پر فدا ہی ہو بیٹھا۔ یقینا اس نے یہ سب کچھ بے لوث ہو کر کیا ہو گا اور وہ قومی اسمبلی یا سینیٹ کا رکن بننے کا متمنی بھی نہیں ہو گا۔ کیونکہ ایک تو یہ اس کا مزاج نہیں اور دوسرا وزیر اعظم کے گرائیں ہونے کے ناطے وہ جانتا ہو گا کہ کپتان کتنا یار باش، ہے۔

لوگ تو بہت باتیں بناتے ہیں لیکن لوگوں کا کیا ہے۔ مجھے تو یقین ہے کہ اس نے یقینا کبھی چیئرمین پی ٹی وی کے منصب کی بھی خواہش نہیں کی ہو گی کیونکہ اسے معلوم ہو گا نعیم بخاری کے معاملے میں عدالت نے عمر کا اصول طے کر دیا تھا اور لالہ تو نعیم بخاری سے بھی پانچ سات سال بڑا ہے۔ اسی طرح پی این سی اے کی سربراہی کی کوئی بھولی بھٹکی خواہش بھی لالے کے قریب نہیں بھٹکی ہو گی کیونکہ وہاں بھی تعلیمی قابلیت کا سوال اٹھتا ہے۔

حسن ظن ہے کہ لالے نے تبدیلی کی امید میں ایک بہتر مستقبل کے لیے تحریک انصاف کا ساتھ دیا ہو گا اور گنگنایا ہو گا " اچھے دن آئیں گے"۔ ایسا کرتے ہوئے اس کے پیش نظر کوئی فائدہ یا مفاد ہر گز نہیں ہو گا۔ یہ اس کے دل کی آواز ہو گی کہ تحریک انصاف کی حکومت آئے گی، تبدیلی دستک دے گی اور وطن عزیز کے دن بدل جائیں گے۔ بہت سارے سادہ لوحوں کی طرح لالہ بھی سمجھتا ہو گا کہ نوے دن کے اندر اندر اچھے دن آ جائیں گے۔

لیکن یہاں تو کسی حسن ظن کی بھی آتما رُل جاتی ہے جب مہنگائی اور بد انتظامی سے سسکتے عوام کے سامنے وہ ترنگ میں آ کر گنگناتا ہے:" اچھے دن آئے ہیں "۔ بندہ پوچھے یہ جو اچھے دن آئے ہیں یہ کہاں آئے ہیں؟ پنڈی تے پشور، میں تو یہ نظر نہیں آ رہے کہیں سارے اچھے دن عیسی خیل تو نہیں چلے گئے کہ لالے سے ملیں اور بتائیں لالہ جی، جو تم نے کہا، کپتان نے جو فرمایا ہے، سب مایا ہے۔

روپے کا برا حال ہے، افراط زر بدترین سطح کو چھو رہا ہے، مہنگائی نے لوگوں کا جینا عذاب کر رکھا ہے، پٹرول اور گیس بجلی کی قیمتیں آئے روز بڑھ جاتی ہیں، ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا ہے۔ لاکھوں گھر تو خیر کیا ہی بننے تھے، اینٹ، سیمنٹ اور سریے کی قیمتیں بھی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں اور ایسے میں ہمارا لوک فنکار لوگوں کے شعور کا مذاق اڑاتا ہے کہ اچھے دن آئے ہیں،۔

کل تک لالہ سانجھا تھا، سب اسے پیار کرتے تھے۔ آج لالہ تحریک انصاف کو پیارا ہو گیا ہے۔ لوگوں کو غصہ حکومت پر ہے لیکن سوشل میڈیا پر نکال وہ لالے پر رہے ہیں۔ خاک اچھے دن آئے ہیں۔

لالے کو چاہیے وہ اپنے فیس بک پر اپنے پرستاروں کے نام ایک پیغام جاری کرے کہ سوہنیو میں جھوٹ نہیں بولتا، میں تو اپنی بات کر رہا تھا کہ میرے اچھے دن آئے ہیں،۔ اس صورت میں بھی البتہ یہ خطرہ موجود رہے گا کہ واقفان حال میں سے کوئی کہ دے چل جھوٹا،۔