Friday, 23 April 2021
  1.  Home/
  2. Ashraf Sharif/
  3. Asooda e Khak Kitaben

Asooda e Khak Kitaben

بچپن میں سب سے پسندیدہ کام ردی اخبارات پڑھنا ہوتا۔ کوئی چیز پڑیا میں آتی تو کاغذ کا وہ ٹکڑا میرے ہاتھ لازم لگتا۔ سودا سلف کاغذ کے بنے لفافوں میں آتا۔ ان پر کئی اہم معلومات ہوتیں۔ ردی لینے والا گلی میں آتا۔ میری نظر اس کی بوریوں میں بھرے کاغذ اور کٹی پھٹی کتابوں پر ہوتی۔ ایک بار ردی والی دکان کے پاس سے گزرا تو بیس کے قریب بڑی تختی کی کتابیں گتے کی جلدوں میں پڑی تھیں۔ میں نے ان کی ورق گردانی کی تو عربی اور فارسی کی شاندار کتابیں تھیں، کچھ کے اوراق پر خون کے دھبے تھے۔ تاریخ اشاعت 1935ء کے لگ بھگ کی تھی۔ دکاندار سے بیچنے والے کی بابت پوچھا تو معلوم ہوا مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے لاہور آنے والے کسی خاندان کے بزرگ فروخت کر گئے۔ کتابیں ان کے والد بزرگوار کی تھیں اگلی نسل عربی اور فارسی سے لابلد ہونے کی وجہ سے کتابوں کی قدر دان نہ ہو سکی۔ ایک جاننے والے جامعہ نعیمیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اگلے روز انہیں لے آیا۔ انہوں نے پندرہ سو روپے میں خرید کر جامعہ نعیمیہ کو تحفہ کر دیں۔

ہمارے ارگرد بہت سی کتابیں ہوتی ہیں، وہ کتابیں جنہیں ہمارے بچوں نے پڑھا اور پھر کونے میں پھینک دیا، وہ کتابیں جو کسی نے تحفہ دیں لیکن آپ کے ذوق سے میل نہ کھانے کے سبب التفات سے محروم رہیں، وہ کتابیں جو انگریزی، عربی، فارسی، ہندی یا گورمکھی رسم الخط میں ہیں اور ان کی تفہیمی افادیت ختم ہو گئی ہے۔ یہ کتابیں بیکار نہیں۔ جو آپ کے لئے بیکار ہیں وہ کسی دوسرے کی ضرورت ہو سکتی ہیں۔ ترکی کے نوجوان نے یہ ثابت کیا ہے۔ دورسن انقرہ میں کوڑا کرکٹ جمع کرنے کا کام کرتا ہے، ایک روز کچرا اٹھا رہا تھا کہ اسے ایک تھیلا مل، ا ردی کتابوں سے بھرا تھیلا۔ کہتے ہیں ایک آدمی کا کچرا دوسرے کے لئے خزانے کا درجہ رکھتا ہے۔

دورسن کے لئے یہ کتابیں خزانہ تھیں۔ اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے گلیوں اور کوڑے دانوں سے بیکار قرار دے کر پھینکی گئی کتابیں جمع کرنا شروع کر دیں۔ شہر کے لوگوں کو کچرا اٹھانے والوں کی کتاب دوستی کا علم ہوا تو انہوں نے کتابیں پھینکنے کی بجائے انہیں عطیہ کرنا شروع کر دیں۔ محکمہ صفائی کے دفتر سے ملحق جگہ خالی تھی، یہاں کسی زمانے میں اینٹیں بنانے کا کارخانہ تھا۔ دورسن اور اس کے ساتھیوں نے اسے صاف کیا، ارد گرد کے لوگوں نے کچھ فرنیچر فراہم کیا، لائبریری بن گئی۔ شروع شروع میں صرف محکمہ صفائی کا عملہ اور ان کے خاندان اس لائبریری سے استفادہ کر سکتے تھے۔ رفتہ رفتہ انقرہ شہر میں اس کا شہرہ ہو گیا۔ دسمبر 2017ء میں اس لائبریری کو عام آدمی کے لئے کھول دیا گیا۔ شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ ہم نے بیکار قرار دے کر پھینکی گئی کتابوں سے لائبریری بنانے کا سوچا تو ہر ایک نے ہماری مدد کی۔

اس وقت لائبریری میں سات ہزار کے لگ بھگ کتابیں ہیں۔ ان میں فکشن اور نان فکشن دونوں نوع کی کتب شامل ہیں۔ لائبریری کا سب سے پررونق گوشہ بچوں والا حصہ ہے۔ یہاں سے لوگ کوئی سی کتاب دو ہفتوں کے لئے جاری کروا سکتے ہیں، یہاں سے سکولوں، کالجوں اور جیلوں کے لئے کتابیں بھیجی جاتی ہیں، اس وقت پورے ترکی کے مختلف دیہات سے لوگ اور استاد اس لائبریری سے کتابیں کچھ وقت کے لئے جاری کرانے کے مجاز ہیں۔

ہمارے دوست خالد ارمان مطالعے کا عمدہ ذوق رکھتے تھے، ادب، تاریخ اور سماجیات ان کے پسندیدہ موضوع تھے۔ وہ میرے دفتری ساتھی تھے، انتہائی حساس خالد ارمان دنیا کے مسائل کا دبائو سہہ نہ پائے اور اپنا خاتمہ کر لیا۔ خالد کے بھائی نے ان کی سینکڑوں کتابیں پروفیسر جاوید اکرام کو دیدیں۔ جاوید اکرام خدائی خدمت گار ہیں، ٹائون شپ کے سی ون سیکٹر میں رانا کاشف اور دوسرے دوستوں کی مدد سے ایک لائبریری بنا دی۔ پروفیسر صاحب کاپڑھے لکھے دوستوں سے تعلق ہے، سب سے کتابیں لے کر رکھ دیں۔ اب بچے ان سے استفادہ کرتے ہیں۔

لاہور عجائب گھر کی لائبریری سے زیادہ لوگ واقف نہیں، تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات پر تحقیق کے سلسلے میں دو ماہ تک وہاں جاتا رہا۔ تہہ خانے میں ایم اے شیدا، امتیاز علی تاج اور عبدالمجید سالک کی ذاتی لائبریری سے عطیہ کی گئیں کتابیں رکھی ہیں۔ ان لوگوں کا ذوق جس سطح پر تھا ظاہر ہے کتابیں بھی اسی عمدہ درجے کی ہوں گی۔

میرے بزرگ دوست ڈاکٹر گوہر نوشاہی نے اپنی ذاتی لائبریری کا ایک حصہ نیشنل لائبریری اسلام آباد کو دیدیا۔ نیشنل لائبریری محققین اور ادیبوں کی ذاتی لائبریری قیمتاً حاصل کرتی ہے۔ گوہر صاحب نے لاہور قدیم کتابوں کا ایک ذخیرہ سید مسعود حسنین زیدی کی لائبریری کو تحفہ دیدیا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور نے ڈاکٹر وحید قریشی سمیت کئی نامور علمی و ادبی شخصیات کے ذاتی کتب خانے جمع کر رکھے ہیں۔ جھنڈیر کی لائبریری سے کون کتاب دوست واقف نہیں۔ لاہور، کراچی اور راولپنڈی میں ابھی کئی ایسی فاضل شخصیات کے ذاتی کتب خانے موجود ہیں جو اولاد کی عدم توجہی کا شکار ہیں۔

ڈہنی ساخت دو طرح کی ہوتی ہے، ناقابل تبدیل اور نشوو نما پسند۔ نشوو نما والی ساخت کی بنیاد اس یقین پر ہے کہ شخصی خوبیاں ایسی چیز ہیں جنہیں آپ اپنی محنت سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس ذہنی اپج میں کسی طرح کی ناکامی بہت تکلیف دہ تجربہ ہوتی ہے لیکن اس ناکامی سے آپ لڑتے اور سیکھتے ہیں۔ ناقابل تبدیل مائنڈ سیٹ والے فرد کے لئے ناکامی ہمیشہ کا ناسور بن جاتی ہے۔ ہم اب کتاب کی بات نہیں کرتے افراد پر بحث میں دلچسپی لیتے ہیں، کتاب دلیل عطا کرتی ہے، افراد اشتعال منتقل کرتے ہیں۔ زمانہ بدل گیا، کتاب اور کتابوں جیسے لوگ بے قدری کا شکار ہیں، بادشاہوں نے سارے قلم خرید لیئے، وقت ضائع کرتے قصے ہیں، دانشمندی والے صفحات کوڑے دانوں پر آسودہ خاک ہیں۔