Tuesday, 18 June 2024
  1.  Home/
  2. Amir Khakwani/
  3. Saifal Nama Bil Tehqeeq Az Molvi Lutf Ali Bahawalpuri

Saifal Nama Bil Tehqeeq Az Molvi Lutf Ali Bahawalpuri

قصہ سیف الملوک ایک بہت مشہور دیومالائی یا اساطیری داستان ہے، جسے دنیا کی بہت سی زبانوں میں بے شمار مرتبہ لکھا گیا ہے۔ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی، مختلف روایات ہیں۔ ان میں سے ایک روایت کے مطابق یہ ہندوستان کی قدیم دیومالائی داستانوں میں سے ایک ہے جو مختلف ادوار اور زبانوں سے گزر کر عربی تک پہنچی، وہاں سے داستان الف لیلہ کا حصہ بنی اور پھر کئی مغربی زبانوں میں بھی ترجمہ ہوئی۔ اردو، فارسی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، پشتو، بنگلہ وغیرہ میں بھی یہ لکھی گئی۔ پنجابی میں اسے میاں محمد بخش (کھڑی شریف، جہلم)نے قصہ سیف الملوک میں منظوم کرکے لافانی کر دیا۔ سرائیکی میں اسے کئی لوگوں نے ترجمہ کرکے منظوم کیا۔ ان میں سب سے قدیم اور مشہور مولوی لطف علی بہاولپوری کا قصہ سیفل نامہ ہے۔ یہ کوئی ڈھائی سو سال قبل لکھا گیا۔

اکثر قدیم نظموں کی طرح سیفل نامہ کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ اسے زبانی بے شمار جگہوں پر گایا، سنا اور یاد کیا جاتار ہا۔ اس کے مستند نسخے کم ہی دستیاب ہیں۔ ہیر وارث شاہ کی طرح مولوی لطف علی کے سیفل نامہ میں بھی مختلف سرائیکی شاعروں نے کئی الحاقی مصرعے شامل کر دئیے جو بعد میں گائے جاتے رہے۔ اس کی شدید ضرورت تھی کہ سرائیکی شاعری کی اس کلاسیک کتاب کو تحقیق کرکے غلطیوں اور الحاقی اشعار سے پاک کرکے چھاپا جائے۔ یہ مشکل اور کٹھن کام مگرکون کرے؟ اسی وجہ سے اس میں تاخیر آتی رہی۔

مجاہد جتوئی معروف سرائیکی قوم پرست دانشور، ادیب اور محقق ہیں۔ سرائیکی زبان اورسرائیکی قوم کی جداگانہ شناخت اور اس کے سیاسی مقدمے کو پیش کرنے میں مجاہد جتوئی نے بھی اپنی عمر کھپا دی۔ انہوں نے زندگی کے کئی برس تحقیق کرکے دیوان فرید بالتحقیق شائع کیا۔ اس کے بعد سرائیکی وسیب کے ایک اور مخلص سپوت انیس شاہ جیلانی(صادق آباد) نے مجاہد جتوئی کو سیفل نامہ کو تحقیق کے بعد اغلاط سے پاک کرکے چھاپنے کا مشورہ دیا۔ انیس شاہ جیلانی کے والد مرحوم کی مبارک لائبریری میں سیفل نامہ کے بہت سے قلمی نسخے موجود تھے۔ انہوں نے مجاہد جتوئی کے حوالے کئے او رمسلسل ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ تیس کے قریب مختلف مطبوعہ اور قلمی نسخوں پر سالہا سال تک مجاہد جتوئی کام کرتے رہے۔

مجاہد جتوئی نے بے پناہ محنت اور عرق ریزی سے کام لیااور اس محنت کا ثمر اب بڑے سائز کی تین سو صفحات پر مشتمل کتاب" سیفل نامہ بالتحقیق از مولوی لطف علی بہاولپور، تحقیق وترجمہ مجاہد جتوئی "کی صورت میں سامنے آیا۔ لاہور کے عکس پبلی کیشنز نے اس کتاب کو حسین انداز میں چھاپا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بہت ہی شاندار علمی، تحقیقی کام ہے۔ مجاہد جتوئی کا دیوان فرید بالتحقیق میں نہیں دیکھ سکا، مگر اس کی بھی تعریف سنی ہے، سیفل نامہ البتہ پڑھ رہا ہوں اور سچی بات ہے کہ مولوی لطف علی کا سحر انگیز کلام تو فسوں خیز ہے ہی، مگر اس پر جو کام مجاہد جتوئی نے کیا ہے، اس نے کتاب کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ شاعری کے ہر جز کے بعد مشکل الفاظ کے معنی، آسان لفظی ترجمہ اور مختصراً مگرعمدگی سے ان میں تحقیقی نکات بھی شامل کر دئیے گئے۔ یوں سرائیکی کا یہ کلاسیک شاہکار ایک بہترین شکل میں آ گیا ہے۔ یہ کام اس قابل ہے کہ اسے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ایوارڈ دیا جائے جبکہ اپنی اس تحقیق پر مجاہد جتوئی صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کے بھی مستحق ہیں۔ امید کرنی چاہیے کہ پنجاب حکومت اور علمی ادارے اس جانب توجہ کریں گے۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ سرائیکی کے عظیم شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی مولوی لطف علی کے سیفل نامہ کے بارے میں کیا رائے ہے۔ خواجہ صاحب کی ملفوظات پر مبنی کتاب مقابیس المجالیس میں خواجہ صاحب نے ایک جگہ فرمایا: شروع میں اس کوچے (کوچہ عشق)کے طالبین کے لئے سوائے سیفل کے کلام کے جو لطف علی شاعر کی تصنیف ہے، اس کے علاوہ کوئی اور کلام نہیں تھا چناچہ میں نے سیفل کے ایک ایک جز کو دو دو گھنٹے میں یاد کر لیا تھا۔ "کسی نے خواجہ صاحب کی شاعری کی تعریف کی تو حضرت فرمانے لگے، میاں اساڈی تاں بس ایوین کن من اے، گڑھا تاں مولوی لطف علی ماریے (میاں، ہماری تو بس یونہی رم جھم سی ہے، ژالہ باری تو مولوی لطف علی نے کی ہے۔)اسی طرح ایک بار خواجہ صاحب سے منسوب ہے کہ انہوں نے کہا جب تک ہم نے سیفل نہیں پڑھی تھی، ہمیں شاعری کا کچھ علم ہی نہیں تھا۔ ایک موقعہ پر آپ نے کہا، میاں بار تاں مولوی لطف علی چا گئے، اساں تاں وڈھ ودے چنڑدوں (میاں غلہ کی ڈھیری تو مولوی لطف علی لے گیا ہے، ہم تو گرے پڑے دانے چنتے پھر رہے ہیں۔)خواجہ صاحب کے اپنے اعترافات کے علاوہ ان کے کلام پر بھی مولوی لطف علی کی شاعری کے اثرات موجود ہیں۔ اس سے خواجہ صاحب کے کلام کی عظمت پر فرق نہیں پڑتا، تاہم مولوی لطف علی کے کلام کی اہمیت بھی راسخ ہوتی ہے۔

فن عروض سے خاکسار کا اتنا ہی کمزورتعلق ہے جتنا ہماری بڑی سیاسی جماعتوں کا جمہوریت سے، تاہم مجاہد جتوئی نے اپنی اس تحقیقی کتاب میں سیفل نامہ کے بہت سے پہلووں کو احاطہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سیفل نامہ کو مولوی لطف علی نے بحر متدارک مثمن مخبون مسکن میں لکھا ہے جس کے آٹھ ارکان ہوتے ہیں، لیکن اس کے ارکان سات ہیں۔ وزن اس کا یوں ہے، فعلن، فعلن، فعلن، فعلن، فعلن، فعلن، فعلن۔ انہوں نے اسکی ایک مثال بھی پیش کی ہے: ع

دردوں باد صبا کوں عاشق رو فریاد سنائی

دردوں، بادص، باکوں، عاشق، روفر، یادس، نائی۔

فعلن، فعلن، فعلن، فعلن، فعلن، فعلن، فعلن۔

سیفل نامہ سرائیکی میں لکھی گئی، مگر مولوی لطف علی کئی زبانوں کے ماہر تھے، اس لئے انہوں نے مختلف جگہوں پر فارسی، عربی، سندھی، ہندی زبانوں کے الفاظ بھی برتے ہیں۔ اس کتاب میں ایک طویل مضمون مولوی لطف علی کی تاریخ پیدائش، وفات، خاندان، جگہ پیدائش وغیرہ پر بھی ہے اور اس حوالے سے مفید معلومات جمع کی گئی ہیں۔ اس قصہ کو مختلف قلمی اور مطبوعہ نسخوں میں سیفل ملوک، سیف الملوک، سیفل نامہ، صیفل ملوک وغیرہ لکھا گیا ہے۔ مجاہد جتوئی نے اس پر ایک صفحے کی پرمغز بحث کے بعد نتیجہ نکالا کہ صیفل تو بالکل ہی بے جوڑ ہے۔ یہ دراصل س سے سیفل ملوک ہے سیف یعنی عربی والا تلوار اور ل سرائیکی میں نسبت کے طور پر آتا ہے جیسے کِھیرل، اڑیل وغیرہ۔ اس لئے سیفل کا مطلب ہوا تلوارو، تلوار بردار، بہادر وغیرہ۔ جبکہ ملوک نرم ونازک نفیس کے زمرے میں ہے۔ اس لئے یہ دوالفاظ بن جاتے ہیں، سیفل یعنی شہزادہ اور ملوک یعنی شہہ پال کی بیٹی (پری)۔ اس کا نام سیفل نامہ اس لئے لکھا گیا کہ مولوی لطف علی نے خود کتاب کے آخری بحر میں سیفل نامہ کی ترکیب استعمال کی۔

یہ بھی اہم سوال ہے کہ میاں محمد بخش کی تصنیف سیف الملوک اور سیفل نامہ میں کیا فرق ہے؟ مجاہد جتوئی نے لکھا ہے کہ ایک بنیادی فرق تو یہ کہ دونوں کی کہانی میں تھوڑا اختلاف ہے۔ میاں محمد بخش نے کہانی کی ہیروئن بدیع الجمال کو حضرت سلیمانؑ کی پڑپوتی قرار دیا جبکہ وہ پری ہے، اس سے تو یہ نتیجہ نکلے گا کہ حضرت سلیمانؑ کی اولاد آگے جا کر پریوں، دیوں میں تبدیل ہوگئی، جس کے ظاہر ہے شواہد موجود نہیں۔

مولوی لطف علی کے سیفل نامہ کی کہانی میں ایسا کچھ نہیں۔ وہ حضرت سلیمان اور شاہ صفوان کے درمیان دوستی کا رشتہ ظاہر کرتے ہیں اور بدیع الجمال کے والد کا جناب سلیمانؑ سے کوئی تعلق ظاہر نہیں کرتے۔ کہانی کے بعض کرداروں کا نام بھی مختلف ہے۔ ایک بڑا فرق یہ ہے کہ میاں محمد بخش نے اپنی لافانی تصنیف میں قصے سے ہٹ کر توحید، معرفت، تصوف، عبرت اور سماج سدھار کے مضامین بھی باندھے ہیں۔ اسی وجہ سے قصہ میں طوالت بھی پیدا ہوئی۔ مولوی لطف علی نے اس کے برعکس قصہ کو بہت مختصر رکھا ہے اور وہ قصے سے باہر نہیں گئے۔

پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ خیال آیا ہوگا کہ قصہ سیف الملوک یا سیفل نامہ میں بیان کی گئی کہانی ہے کیا؟ اسے اگلی نشست میں بیان کریں گے اور ساتھ ہی سیفل نامہ کے چند منتخب اشعار بھی تاکہ پڑھنے والے مولوی لطف علی بہاولپور کے سحر کا اندازہ کر سکیں۔