Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. 92 News
  3. Amir Khakwani
  4. Kabul Ke Green Zone Mein Kya Pur Asrar Sargarian Ho Rahi Hain?

Kabul Ke Green Zone Mein Kya Pur Asrar Sargarian Ho Rahi Hain?

چند دن قبل صبح حسب معمول سوشل میڈیا کھولا تو ٹوئٹر، فیس بک اور کئی اہم کلوزڈ گروپس میں ایک ہی خبر چل رہی تھی کہ کابل کے گرین زون میں پراسرار سرگرمیاں نوٹ کی گئی ہیں۔ مختلف افواہیں، خبریں چلتی رہیں۔ البتہ گزشتہ روز تک اس حوالے سے ٹھوس معلومات سامنے آ گئیں۔ ڈسپیچ نیوز ڈیسک (DND) ایک معروف نیوز ویب سائٹ ہے جو دفاعی امور، خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق خبریں دیتی ہے۔ یہ ایک رجسٹرڈ نیوز ایجنسی ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کے معاملات پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔

ڈی این ڈی نے اپنی ایک ایکسکلیوسو رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ افغان طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کی قیادت کو کابل کے گرین زون میں منتقل کر دیا ہے۔ ایسا حفاظت کی غرض سے کیا گیا تاکہ وہاں ان پر حملہ نہ ہوسکے۔

میرا اپنا طریقہ کار ہے کہ کسی ایک ویب سائٹ کی خبر کو، خواہ وہ کتنی ہی معتبر ہوِ، اس پر یقین لانے سے پہلے کچھ مزید تحقیق کرتا ہوں۔ اس حوالے سے مزید ریسرچ کی تو کئی شواہد اس کو سپورٹ کرنے والے ملے۔ بعض عالمی میڈیا رپورٹس، افغانستان میں موجود سورسز اور اس سے بھی بڑھ کر اقوام متحدہ کے مختلف اداروں خاص کر اس کی مانیٹرنگ کمیٹی کی رپورٹوں میں یہ بتایا گیا کہ افغان طالبان اب کھل کر ٹی ٹی پی کو سپورٹ کر رہے ہیں، انہیں کسی بھی جگہ قیام کا مستقل اجازت نامہ دے رکھا ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق انہیں سیف ہاوسز بھی دئیے گئے، جبکہ ان عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور بعض دیگر بڑے کمانڈرز کابل اور اس کے آس پاس دیکھے گئے ہیں۔ یوں ڈاٹ کنیکٹ ہوتے گئے، گرین زون میں ٹی ٹی پی قیادت کی منتقلی کی سورسز سے تصدیق بھی ہوگئی۔

کابل کے جس علاقے کو گرین زون کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر یہ کابل شہر کے ایک حصے وزیراکبر خان کا رہائشی علاقہ ہے۔ یہ کابل کے نسبتاً جدید اور متمول علاقوں میں شمار ہوتا تھا۔ انیس سو ساٹھ اور ستر کے عشرے میں یہاں اعلیٰ سرکاری افسران اور سفارت کار رہتے تھے۔ یہاں بڑے بنگلے اور کشادہ سڑکیں تھیں۔ اسی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کئی سفارت خانے بن گئے۔

جب نائن الیون کے بعد امریکہ نے نیٹو فورسز کے ساتھ افغانستان پر اپنا کنٹرول قائم کیا تو کابل میں بڑا امریکی سفارت خانہ، نیٹو مشن اور کئی عالمی اداروں کے دفاتر کے ساتھ غیر ملکی سفارت خانے اسی علاقے(وزیر اکبر خان) میں قائم ہوئے۔ ان دنوں افغان طالبان نے کابل میں حملے شروع کئے تو ان کا ہدف یہی علاقہ بنا، یوں مسلسل حملوں کے خطرے کی وجہ سے اس پورے علاقے کو سخت سکیورٹی حصار میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد کنکریٹ کی بلند دیواریں، چیک پوسٹیں، مسلح گارڈز، بلاسٹ بیریئرز نصب کیے گئے۔۔ اسی دور میں اس علاقے کو غیر رسمی طور پر گرین زون کہنا شروع کیا گیا۔

یاد رہے کہ گرین زون کی اصطلاح پہلے بغداد، عراق میں استعمال ہوئی۔ دو ہزار تین میں عراق جنگ کے بعد امریکی فوج نے بغداد میں ایک سخت حفاظتی اور محفوظ علاقہ بنایا، جسے گرین زون کہا گیا۔ کابل میں بھی اسی طرز کی سکیورٹی کے باعث صحافتی اور ڈپلومیٹک حلقوں نے وزیراکبر خان کے اس علاقہ کو گرین زون کہنا شروع کر دیا۔ طالبان کے پہلے دور (ملا عمر)کے زمانے میں کابل میں کوئی گرین زون نہیں تھا، یہ سب امریکیوں نے بنایا۔ آج وہاں متعدد غیر ملکی سفارت خانے ہیں۔

کابل کے گرین زون میں ٹی ٹی پی قائدین اور اہم کمانڈروں کو شفٹ کئے جانے کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ ایسا صرف پاکستانی ائیر سٹرائیکس سے بچنے کے لئے کیا گیا۔ دراصل پاکستان نے بڑی کامیابی اور مہارت کے ساتھ ننگرہار، خوست، پکتیکا وغیرہ میں ائیر سٹرائیکس کئے ہیں، ان میں ٹی ٹی پی کے کئی ٹھکانے تباہ ہوئے اور افغان طالبان کے سٹریٹجک مراکز اور اسلحہ خانوں کو بھی کاری ضرب لگائی گئی۔ قندھار پر بھی سٹرائیکس ہوئیں۔ افغان طالبان قیادت نے سوچا کہ اپنے اثاثوں یعنی ٹی ٹی پی کو بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کابل کے گرین زون میں غیر سفارت خانوں کی عمارات کے ساتھ گیسٹ ہاوسز میں انہیں رکھا جائے۔

مقصد یہ ہے کہ پاکستان سفارتی نزاکتوں کی وجہ سے وہاں سٹرائیک نہیں کر پائے گا اور یوں یہ دہشت گرد تنظیم اور اور اس کے اہم رہنما محفوظ رہیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس بات کے سوشل میڈیا پر آنے سے کابل کے ڈپلومیٹک حلقوں میں اضطراب پھیل گیا ہے۔ ابھی تک کسی ملک نے رسمی طور پر تو احتجاج نہیں کیا، مگر اطلاعات کے مطابق غیر رسمی طور پر اپنی ناپسندیدگی اور احتجاج افغان حکومت تک پہنچا دیا گیا۔ غیر ملکی سفارت خانوں کو خدشہ ہے کہ ان مطلوب دہشت گردوں کے خلاف کسی نے حملہ کر دیا تو ان سفارت کاروں کے لئے خطرہ بڑھ جائے گا۔

خطرناک بات یہ ہے کہ ایک زمانے میں کابل کے انہی علاقوں میں القاعدہ کے عرب، ازبک، چیچن، ایغور جنگجو اور خطرناک کمانڈر ٹھہرا کرتے تھے، افغان طالبان تب ان کو بھی سپورٹ اور پروٹیکٹ کرتے تھے۔ یہ اور بات کہ گلوبل ایجنڈا رکھنے والے ان "مہمانوں" نے نہ صرف پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا بلکہ افغان طالبان حکومت کے خاتمے کا بھی باعث بنے۔ اس کے بعد بیس سال تک طالبان کو جدوجہد کرنا پڑی، افغانستان میں لاکھوں لوگ جانوں سے گئے، بے شمار گھرانے برباد ہوگئے اتنے طویل عرصے کے بعد افغان طالبان کو دوبارہ حکومت ملی تو پھر وہی خطرناک کھیل کیوں؟ کیا افغان طالبان اور ان کے امیر ملا ہبت اللہ نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا؟

دراصل کابل کے گرین زون میں ٹی ٹی پی کی منتقلی ایک خبر تو ہے، مگر دراصل یہ یہ صرف ایک انٹیلی جنس خبر نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک پیغام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ افغانستان کی نئی حکمران قوت ایک بار پھر اسی خطرناک منطق کو اختیار کر رہی ہے جس کے باعث انہوں نے اپنے پہلے دور میں ہمسایہ ممالک اور عالمی سطح پر بہت سی مشکلات کھڑی کر دی تھیں۔ ٹی ٹی پی کی سپورٹ ایک واضح سیاسی پیغام ہے کہ افغان طالبان اب بھی ان گروہوں سے فاصلہ رکھنے کے لیے تیار نہیں جنہیں دنیا دہشت گرد سمجھتی ہے۔

دہشت گردی کے ساتھ سب سے خطرناک کھیل وہ ہوتا ہے جب افغان طالبان جیسی ریاستیں اسے مسئلہ نہیں بلکہ مفاد سمجھنے لگیں۔ سوال صرف ایک ہی ہے کہ طالبان کی عاقبت نااندیشی اور حماقت سے کیا افغانستان میں تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے؟