بخیل کا تعلق فقط مال و دولت ہی سے نہیں ہوتا کسی کے اچھے کار ہائے نمایاں کی تعریف نہ کرنا بھی کنجوسی کے اعلیٰ معیار کو ظاہر کرتا ہے یا کسی کے تعاون یا احسان کا شکریہ ادا نہ کرنا بھی مثلاً کوئی جیب کترا جیب کو عمدہ طریقے سے کاٹنے کے بعد اسے رفو کرکے رفو چکر ہو جائے تو اس کا بھی شکریہ بنتا ہے۔ جیسے امریکہ اور اسرائیل کو یہ محسوس ہو کہ دنیا کے معاملات کا "انجن" جام ہو رہا ہے اور وہ "غریب" ملکوں کی مشین کو تیل دینے کے لئے اپنا سب کچھ اس میں جھونک دیں اور کسی بخالت سے کام نہ لیں تو اس امر کی تعریف نہ کرنا بھی کنجوسی کے زمرے میں آتا ہے۔
راقم کے خیال میں علمی بات کو چھپا لینا سب سے بڑی کنجوسی ہے۔ میرے طالب علمی کے زمانے میں ایک عزیز نے مجھ سے چند سوال کیے۔ پہلا سوال تھا ایک آٹے کی چکی والے کے پاس صرف چار باٹ ہیں جن کا کل وزن ایک من یعنی چالیس کلوگرام ہے اور وہ انہیں چار باٹوں سے اپنے گاہکوں کو ایک سے لے کر چالیس کلو تک اشیاء تول دیتا ہے۔ بتاؤ ان چارباٹوں کا وزن کیا ہے جن کو وہ ترازومیں آگے پیچھے رکھ کر پورا تولتا ہے۔
دوسرا سوال تھا کوئی ایسی رقم بتاؤ جو ایک سے لے کر نو تک سب پر برابر تقسیم ہو جائے۔ دونوں سوال اتنے علمی تھے کہ مجھ جیسے علمی بھوکے کے دماغ میں چوہے ناچتے رہے لیکن بے سود لیکن اسرار اور ہار ماننے کے باوجود موصوف نے ان سوالات کا جواب نہ دارد۔ شاید انہوں نے پلے باندھ رکھا تھا کہ "بچوں" کو کبھی آگے سے کسی بات کا جواب نہیں دینا۔ دھائیوں بعد مجھے ان کا حل ملا کہ وہ چالیس کلو کے چار باٹ: ایک تین نو اور ستائیس کلو کے ہیں۔
دوسرے سوال کا جواب 2520 تھا جس کا جواب دھائیوں بعد ملا لیکن موصوف مرتے دم تک یہی کہتے رہے تھوڑا اور سوچو۔ انہیں حساب کے کئی مزید سوالات "اردو" میں یاد تھے مثلاََ ایک دفعہ انہوں نے کہا یہ رقم لکھ کر دکھاؤ! گیارہ ہزار بارہ سو تیرہ۔ میں اس سوال کا تیا پانچا کیے بغیر اسی وقت وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا۔
دوسری طرف ان کی اردو ان کی اپنی صحت کی طرح کمزور تھی۔ ایک دفعہ ان سے پوچھا گیا "بخالت" کا کیا مطلب ہے کہنے لگے ضرور اچھا ہی ہوگا کیونکہ میرا تایا مجھے شرافت کی بجائے بخالت کے نام سے ہی پکارتا تھا۔ ہائی سکول کے دور میں میرے محلے کا ایک بڑا چلبلا لڑکا اخلاق جو کلاس میں تین سال سینئر مگر چرب زبان اور ذہین تھا جو کئی سوالات کے حل میں میری مدد کرتا تھا۔ میں نے ایک نسبت تناسب کے سوال کی بابت پوچھا۔ اس نے سوال لکھااور کہنے لگا اس رقم کو کان پکڑ کر نیچے لے آؤ اور اس کی ٹانگ ادھر سے کھینچ کر ادھر کر دو اس کو بالوں سے پکڑ کر اس میں گھسیٹ کے جمع کردو اور اس رقم کی ناک اس سے کاٹ کر ادھر پھینک دو۔ یہ لو جواب! تیرے پاؤں پڑا ہے۔
اخلاق کے حساب سمجھانے کا انداز بے حساب شگفتہ قابل اعتراض اور "منفی" مگر "اخلاق" سے گرا ہوتا تھا اس لئے میں نے یہاں اعضاء کے نام دانستہ تبدیل کر دیے ہیں۔ ایک پرانا واقعہ یاد آیا کہ ایک شخض کو دوا بنانے کے لئے پرانے گڑ کی ضرورت پڑی۔ اسے کسی نے بتایا کہ فلاں شخص محکمہ اثار قدیمہ Archaeology میں ملازم رہا ہے اس سے رابطہ کریں۔ دروازہ کھٹکانے پر وہ باہر آیا اور اس سے پوچھا گیا کہ سنا ہے آپ کے پاس پرانا گڑ بھی ضرور ہوگا۔ مجھے دوا بنانے کے لئے تھوڑا درکار ہے۔ کہنے لگا محترم اگر ہم یونہی بانٹتے ہوتے تو پھر یہ پرانا نہ ہوتا۔
کنجوس دماغ کو کھلا مگر اس میں دولت بند رکھتے ہیں انہوں نے "ناگفتہ بخل" حالت میں بھی بخیل 400 دفاعی مزائیل بھی تیار کر رکھے ہوتے ہیں۔ دریں اثناء کنور کنجوسیہ نے جیب سے عطر کی شیشی نکال کر اس کو ناک پر رول کیا وقار مجروح نے اس "کفایت مکاری" محسوس کرتے ہوئے کہا اسے اپنی جرابوں پر بھی لگا لے اور ساتھ اشارہ کیا کہ میرے ہاتھ پر بھی ذرا سا لگا دے۔ پھبتی اور وہ بھی بخیل کو۔ یہ بات کسی کو نہیں پھبتی۔ کنجوسیہ کہنے لگا کیا تجھے اس کی خوشبو محسوس ہوگئی ہے؟ بس اتنا کافی ہے پرفیوم اپنے لئے ہوتا ہے نہ کہ تیرے جیسوں کو سنگھانے کے لئے۔ کیونکہ یہ ایک ادبی ذہن ساتھ قابل غور بات بھی کہہ دیتا ہے کہ انسان کو اپنی حد میں رہتے ہوئے اعتدال سے گزارہ کرنا چاہئے نہ کہ میری طرح مال کے بے جا "استعمال" سے ورنہ زوال کا گھڑیال بجے گا۔ دیکھ لیں مجھے کنور کنجوسیہ کہنے والے مجھ سے ہی ادھار مانگتے ہیں۔
کہتا ہے ایک دفتر میں تین ملازم ایک ایک لاکھ تنخواہ لیتے ہیں ان میں سے ایک کے پاس کار دوسرے پاس موٹر سائیکل اور تیسرا ادھاروں میں پھنسا رہتا ہے کیونکہ اس کے معاملات میں میانہ روی نہیں ہے۔ اس لئے اس نے اپنی ہر حرکت سے "بخالت" کے دانت کھٹے کئے ہیں دوسری طرف اس نے زندگی میں جتنی بار اپنے دانت صاف کیے اسے اس "دندناہٹ" کا ایک ایک دن یاد ہے اور ظاہر ہے ٹوٹھ پیسٹ کا استعمال بھی آسان نہیں کہ دولت بچانا ہے یا دانت؟ بہرحال آج کل ان کی زبان پر (جو دانتوں کے حصار سے محروم ہے) یہ الفاظ ہوتے ہیں "دولت اور دانت ہاتھوں کا میل ہوتے ہیں" اب تو ہر بات "نوٹ جوڑ" کر کرتا "مجھ کو تو اسی نے رسوا کیا دولت نے مجھے مروا دیا"۔
تجربے میں آیا ہے کہ مزاح نگاروں کے کئی جملے بھی سائنسدانوں سے ہوئی تکنیکی یا حادثاتی غلطی کی طرح وجود میں آتے ہیں۔ یہ بات تاریخی ہے کہ سائنسدان کی ایجاد کا پلان کچھ اور ہوتا ہے اور ایجاد کچھ اور۔ USA اور KSA میں صرف U"کے "فرق سے ملکوں کا نقشہ بدل جاتا ہے ٹرمپ کو بندہ کیسے سمجھائے۔
حفیظ ہوشیار پوری نے اپنے نواسے کو اردو کی املا کی مشق کرواتے ہوئے حلوہ لکھنے کو کہا! نواسے کو فقط اس وضاحت کی طلبی پر تھپڑ پڑ گیا جب اس نے پوچھا۔ حلوہ! حفیظ والی "ح" سے لکھنا ہے یا ہوشیار پوری والی "ہ" سے؟ حالانکہ وہ کسی بھی حرف سے لکھ کر "لائیک" لے سکتا تھا۔ صرف لکھنا تھا بنانا نہیں تھا لیکن اس نے بخیل نظروں سے سوال پوچھ کر نانا جی سے Dislike لیا اور پھر حلوے نے اپنا جلوہ دکھایا۔