Sunday, 28 June 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Abu Nasr
  4. Haan Dekh Ke Chal, Dekh Ke Chal, Kehte Rahein Ge

Haan Dekh Ke Chal, Dekh Ke Chal, Kehte Rahein Ge

دوسروں پر کیوں الزام دھریں؟ ہمارے اپنے ملک میں اُردو زبان کے حُلیے کاہمہ گیر بگاڑ ہمارے اپنے ذرائع ابلاغ کے کرتوتوں کا شہکار ہے۔ سب اس میں شریک ہیں، خواہ مطبوعہ ذرائع ابلاغ ہوں، برقی ذرائع ابلاغ ہوں یا سماجی ذرائع ابلاغ۔ پھراس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جب ذرائع ابلاغ کی زبان بگڑتی ہے تو اُن لوگوں کی زبان بھی بگڑ جاتی ہے جن تک اس زبان کا ابلاغ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی زبان کے بگاڑ پر مزید گفتگو سے پہلے، بتاتے چلیں کہ اُردو کے ادبی رسائل و جرائد، نصابی کتب اور شعری و ادبی تصانیف میں زبان کے بگاڑ کا تناسب آج بھی وہی ہے جوپہلے تھا۔ بھلاکب نہیں کہا گیا کہ "زباں بگڑی تو بگڑی تھی"۔

صاحبو! زبان و بیان کی غلطیاں ہر دور کے لوگوں سے سرزد ہوتی رہی ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو سیمابؔ اکبر آبادی کی کتاب "دستور الاصلاح" سے لے کر پروفیسر آسی ضیائی کی "درست اُردو"، طالب الہاشمی کی "اصلاحِ تلفظ و املا" اور ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی "صحت زبان" تک بے شمار کتب وجود میں نہ آئی ہوتیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو اَکابر زبان و بیان پر سند تسلیم کیے جاتے تھے، وہ بھی ایک دوسرے کی پونچھ پکڑتے پھرتے تھے۔ مولانا ماہرؔ القادری جہاں دوسروں کی اغلاط کی نشان دہی کرتے تھے وہیں اپنی غلطیوں کااعتراف بھی بر سرِ تحریر کر لیا کرتے تھے کہ غلطیوں سے مبرا کوئی نہیں۔ مولاناکا اعتراف اُن کی کتاب "قلمی معرکے"، باب "توجیہ و وضاحت" میں "غلطیاں" کے عنوان کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ مولانا ماہرؔ القادری نے تو جوشؔ ملیح آبادی جیسے مشاق ماہرزبان کی فاش اور فحش غلطیاں بھی پکڑ لیں اور دلچسپ انداز میں ان کی نشان دہی کی۔ "یادوں کی برات" پرتبصرہ کرتے ہوئے مولانانے جو غلطیاں پکڑیں اُن میں سے صرف چار مثالیں قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ واوین میں فقرے جوشؔ ملیح آبادی کے ہیں اور قوسین میں تبصرہ مولانا ماہرؔ القادری کا۔

"عورت ڈھیٹ تھی ڈری نہیں اور بانکے سپہیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی، تم ڈاکو ہو، اچھا ل چھکا ہو"۔ ص: 68

(حالاں کہ "اچھال چھکا" مرد کے لیے نہیں عورت اور صرف بدچلن عورت کے لیے بولا جاتا ہے)

"میرا نکاح بڑی ضدم ضدا اور چوٹم چاٹا کا نکاح تھا"۔ ص: 131

("چوٹم چاٹا"یہ کہاں کی زبان ہے۔)

"پاؤں میں چھاگل اور جھانجھیں"۔ ص: 201

(جھانجھ یا جھانج تو ایک قسم کا بڑا مجیرا ہے جو تاشے اور ڈھول کے ساتھ بجایا جاتا ہے]نوراللغات[ عورتیں پیروں میں جھانجھ نہیں "جھانجن" پہنتی ہیں)

"وہ نہایت عقیدت کے ساتھ مکالمت کرتے رہے"۔ ص: 427

(اس طرح کون بولتا ہے؟)

بولنے اور لکھنے کے قواعد اُردو زبان میں انشا اللہ خان انشا کے زمانے سے مرتب کیے جا رہے ہیں۔ انشاؔ کی کتاب "دریائے لطافت" کو اُردو قواعد پر لکھی گئی پہلی باقاعدہ کتاب تسلیم کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے زبان ترقی کرتی جاتی ہے زبان و بیان کے قواعد میں بھی ترمیم اور تبدیلی ہوتی جاتی ہے۔ نئی نئی کتابیں آجاتی ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے کے قواعد و قوانین کی خلاف ورزی پر، خلاف ورزی کرنے والوں کو ٹوکا جاتا ہے، پکڑا جاتا ہے۔ زبان کے قواعد کی خلاف ورزی پر کیوں نہ ٹوکا جائے؟ کوئی معقول وجہ؟ کلیم عاجزؔ تو ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں:

ہر ایک قدم پر ہم اس آوارہ قدم کو
ہاں دیکھ کے چل، دیکھ کے چل، کہتے رہیں گے

بات بگاڑ سے شروع ہوئی تھی۔ بگاڑ تب سے شروع ہوا جب سے وطن عزیز میں نشریاتی اداروں کا جمعہ بازار، لگا۔ بقولِ غالبؔ:

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوۂ اہلِ نظر گئی

اس مارا ماری سے پہلے ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی وژن اور قومی اخبارات میں صحت زبان کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ زبان و بیان کی غلطیوں کی اصلاح کرنے والے ماہرین ان اداروں میں مقرر کیے جاتے تھے۔ بھئی ابلاغ کاتوسارا کاروبار ہی زبان کے بل پر چلتا ہے۔ مگرآج کل اُردو زبان میں اخبارات شائع کرنے اور نشریات پیش کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ جس مال کے تاجر ہیں وہی مال ندارد۔

زبان و بیان کی غلطیوں کی نشان دہی تو اُس وقت فائدے مند ہوگی جب اُردو زبان لکھی اور بولی جا رہی ہو۔ ہمارے نشریاتی اداروں سے جو زبان نشر کی جا رہی ہے اورجن حروفِ تہجی میں تحریر کی جا رہی ہے، اُسے کوئی بھی نام دے لیجے، وہ اُردو زبان تو نہیں کہی جا سکتی۔ ہر چند کہ معدودے چند نشریاتی ادارے خبروں کے متن کی حد تک اب اُردو اصطلاحات استعمال کرنے کی کوشش کرنے لگے ہیں، مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایک فرد ایسا ہے جو زبان کا خیال رکھتا ہے۔ کیوں کہ ایک ہی نشریاتی ادارے کی مختلف خبروں کی زبان کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ صبح کی خبروں میں اگر یہ فقرہ کہاگیا کہ "تمام فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ، "تو رات کی خبروں میں یہی فقرہ اس طرح پڑھا گیا کہ تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ، "اکثر اوقات "دونوں فریقین" بھی کہہ دیا جاتا ہے اور لکھ دیا جاتا ہے۔

کچھ بڑے بڑے اُردو نشریاتی اداروں سے نشر ہونے والی مختلف نشریات سے چند فقرے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کو ہم نے چُن رکھے ہیں ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اے مدعیِ اُردو صحافت! ذرا یہ"اُردوفقرے" پڑھتا جا، شرماتا جا:

"کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کا ریشو ایک بار پھر انکریز ہوگیا ہے"۔

"ہماری ینگ جنریشن بہت انٹیلی جینٹ ہے۔ اسے ایپروپری ایٹ گائیڈنس کی ضرورت ہے"۔

"کیا آپ کے ہزبینڈ آپ پر فُل ٹرسٹ کرتے ہیں؟ کیا وہ گھرآکر کمفرٹیبل فِیل کرتے ہیں؟"

"موسٹ آف ویورز انٹرٹینمنٹ ٹرانسمیشنز میں انٹرسٹ لیتے ہیں"۔

کوئی ان نشرکاروں سے پوچھے کہ جب آپ اُردو سے بالکل ہی پیدل ہیں تو آخر آپ کو کیا مار آئی ہوئی ہے کہ اُردو نشریات میں نمودار ہوں؟ اُردو کی جگہ انگریزی نشریات کا بیڑا کیوں نہیں غرق کرتے؟ اُن کے پاس تو شاید اس سوال کا کوئی جواب نہ ہو، ہمارے پاس ہے۔ پاکستان میں انگریزی نشریات دیکھنے والے شاید اشرافیہ میں بھی کم کم ملیں، عوام میں تو بالکل نہیں ملتے۔ یہی وجہ ہے ملک کے تمام انگریزی نشریاتی چینل ناظرین کی عدم دستیابی کے باعث بند ہو گئے۔ پاکستان میں ابلاغ کی زبان اور عوامی رابطے کی زبان اُردو ہے۔ عوام تک کسی بات کا ابلاغ کرنا ہو تو مجبوراً اُردو ہی کو ذریعۂ ابلاغ بنانا پڑتا ہے۔ جب یہ مجبوری ہے تو (مجبوراً سہی) اُردو کیوں نہیں سیکھ لیتے؟

اوپر چُنے گئے فقرے اگر یوں کہے گئے ہوتے توسمجھنے میں کتنے آسان اور سننے میں کتنے بھلے لگتے:

"کراچی کے گلی کوچوں میں جرائم کی شرح ایک بار پھر بڑھ گئی ہے"۔

"ہماری نئی نسل بہت ذہین ہے۔ اسے مناسب رہنمائی کی ضرورت ہے"۔

"کیا آپ کے شوہر آپ پر مکمل بھروسا کرتے ہیں؟ کیا وہ گھر آکر آرام محسوس کرتے ہیں؟

"ناظرین کی اکثریت تفریحی نشریات سے دلچسپی رکھتی ہے"۔

دونوں قسم کے فقروں میں جو تہذیبی، ذ ہنی اور نفسیاتی فرق ہے، اس فرق کو پڑھنے والا بھی محسوس کر سکتا ہے اور سننے والا بھی۔