کالم نگار کراچی پہنچا تو کئی لوگ منتظر تھے۔ دائرہ علم و ادب سندھ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اورنگ زیب رہبرؔ، ادارہ معارفِ اسلامی کراچی کے محمود الحق صدیقی اور اپنی ذات میں شہر کراچی کے "دائرۂ معارف" جناب اقبال اے رحمٰن مانڈَوِیا، ان سب صاحبوں سے کسی نہ کسی تقریب میں شرکت کا وعدہ کررکھا تھا۔ البتہ عزیزم سید عامر اشرف سے کوئی وعدہ تھا، نہ ملنے کا ارادہ۔ مگر عامر اشرف سر ہوگئے کہ "شرفِ ملاقات بخشیے"، سو بخشا۔ ہم سے زبردستی یہ شرف بخشوا کر اُنھوں نے ایک مصاحبہ بھی عکس بند و صدا بند کروا لیا۔ مصاحبہ بے حد دلچسپ اور خوش گوار رہا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل یہ مصاحبہ زبان وبیان کے کئی موضوعات پر محیط تھا، جو جسارت برقی، پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اس مصاحبے کی عکس بندی و صدابندی بھی جسارت برقی، کی خوب صورت نشرگاہ میں ہوئی اور چائے بسکٹ کے ساتھ ہوئی۔
"جسارت برقی" تو ہم نے لکھا ہے، ورنہ وہ خود اسے "جسارت ڈیجیٹل"کہتے ہیں۔ اُردو میں انگریزی ملا کر بولنے کی جسارت ہم سے توہو نہیں پاتی۔ اہلِ "جسارت"کو بھی یہ جسارت نہیں کرنی چاہیے۔ "مگر حفیظؔ کو یہ بات کون سمجھائے؟" روزنامہ "جسارت" آج کل دو شکلوں میں شائع ہوتا ہے۔ ایک ورقی اور ایک برقی۔ برقی جسارت کو "جسارت ڈیجیٹل"کہا جاتا ہے۔ انگریزی لفظ، Digitalکے لفظی معنی تو ہیں عددی۔ ، Digitہندسے کو کہتے ہیں۔ صفر سے 9 تک کے اعداد کو۔ مگر آج کل، Digital سے مراد وہ تمام معلومات، تصاویر، عکس و آواز اور اطلاعات لی جاتی ہیں جن کو برقی صورت میں محفوظ یا منتقل کیا جاتا ہے۔
برقی صورت کو، Digital کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ پورا برقی سلسلہ دو ہندسوں، صفر اور ایک(1,0)، کے مختلف امتزاج سے بننے والے ثنائی نظام (Binary System) کے تحت چلتا ہے۔ اسے انگریزی میں، Digital نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ مگر اُردو اصطلاحات اگر اُردو اخبارات اور اُردو نشریات میں بھی استعمال نہ ہوں گی تو پھر کہاں استعمال کی جائیں گی؟"اسٹوڈیو" کو "نشرگاہ" کہہ دینے سے آپ کی عکاسی ماند پڑے گی نہ صدا بندی میں کوئی رخنہ آئے گا۔ "جسارت ڈیجیٹل" کو بھی اگر "جسارت برقی" کہا جائے اور بار بار کہا جائے تو یہ اصطلاح بھی عام ہوجائے۔ یوں "جسارت" کو حسبِ سابق ایک بار پھر منفرد قائدانہ مقام حاصل ہوجائے گا۔ ماضی کے بہت سے معاملات میں جسارت، نے پیشوائی کی اور دوسروں نے تقلید۔
مصاحبے کے نشریے کو بھی بار بار "پوڈکاسٹ" کہا گیا۔ یہ "پوڈکاسٹ" کیا بلا ہے؟ اس کی کھوج میں پڑے تو پتا چلا کہ پہلے "ایپل کمپنی"نے، iPodمتعارف کرایا تھا۔ جس پر سمعی و بصری نشریات (Broadcasts) منتقل کرلی جاتی تھیں اور بڑے پیمانے پر پھیلائی جا سکتی تھیں۔ 12 فروری 2004ء کو برطانوی اخبار گارجین، (The Guardian) میں برطانوی صحافی بین ہیمرزلے (Ben Hamersley) نے، iPod کے، Pod اور، Broadcast کے، Cast کو ملا کر پہلی بار، Podcast کی اصطلاح استعمال کی۔ وہاں کے لوگوں نے اس اصطلاح کے استعمال پر اعتراضات جَڑنے اور مشکل یا نامانوس قرار دینے کی بجائے اسے استعمال کرنا شروع کردیا اور جلد ہی یہ لفظ دنیا بھر میں پھیل گیا۔ حتیٰ کہ 2005ء میں، New Oxford American Dictionary نے اسے سال کا منتخب لفظ، (Word of the Year) قرار دے کر اپنی ڈکشنری میں بھی شامل کرلیا۔ ذخیرۂ الفاظ اسی طرح بڑھتا ہے۔
اپنی زبان کے ساتھ ہمارا رویہ بھی یہی رہنا چاہیے۔ نئے الفاظ کو تو چھوڑیے، اُردو میں پہلے سے موجود اور مستعمل الفاظ بھی استعمال کرتے ہوئے ہمارے ماہرینِ ابلاغ جھجکتے ہیں، خوداعتمادی میں کمی کی وجہ سے۔ مثلاً گفتگو یا تحریر وتقریر میں الیکٹرونک میل یا ای میل کی پرائی اصطلاح کو کثرت سے استعمال کرکے رواج دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن اگر کہا جائے کہ اسے اپنی زبان میں برقیہ، کہیے (جو پہلے بھی ٹیلی گرام کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے) تو آج ہی دیکھ لیجے گا کہ کیسے کیسے عذر ہائے لنگ پیش کیے جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوگا جیسے برقیہ، کہتے ہی سب کو بجلی کا جھٹکا لگ گیا ہے۔ طرح طرح کے اعتراضات شروع ہوجائیں گے۔ سب سے بڑا، اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ "اسے کون سمجھے گا؟" ایسے لوگوں سے خدا سمجھے۔ کیا جب آپ نے، Podcast کی اصطلاح استعمال کرنی شروع کی تھی تو یہ جان کر کی تھی کہ اسے فوراً ہی سب سمجھ لیں گے؟
آپ نے توکثرتِ استعمال سے انگریزی کے نامانوس الفاظ بھی مانوس کردیے ہیں، جب کہ اپنی عزیز قومی زبان کے مانوس الفاظ کو بھی عدم استعمال سے نامانوس بناکر گفتگو اور تحریر و تقریر سے خارج کردیا۔ سوچیے تو سہی کہ آپ روزانہ انگریزی کے کتنے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، جن کے اُردو متبادل خود آپ کو معلوم ہیں، کسی سے پوچھنے کو اُس کے گھر جانے کی ضرورت نہیں۔ کل کلاں کو آپ کہیں گے میز، کرسی، قلم، کتاب، کمرہ، دروازہ، کھڑکی اور تالا سب اجنبی اور نامانوس الفاظ ہیں، کیوں کہ تعلیمی اداروں، دفاتر اور نشریاتی اداروں میں اب ان تمام کے صرف انگریزی متبادل ہی کثرت سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ادھر مائیں ہیں کہ اپنی زمین پر اُکڑوں بیٹھی اپنے بچوں کو بنانا، ایپل اور مینگو کھلا رہی ہیں۔ بھلافاسٹ فوڈ میں جِنجر کھانے والا "بندر کیا جانے ادرک کا سواد"۔
برطانوی صحافی کی ایجاد کردہ اصطلاح، Podcast دنیا بھر میں ایک وبا کی طرح پھیل گئی۔ اگر ہمارے صحافیوں کے دل سے پنجرہ، نکال لیا جائے تو شاید اُن میں بھی اتنی خوداعتمادی پیدا ہوجائے کہ اپنی قومی زبان اُردو کے الفاظ بے جھجک استعمال کرنے لگیں۔ ذرائع ابلاغ سے جو الفاظ تکرار کے ساتھ نشر ہوتے ہیں عوام الناس کی زبان پر بھی چڑھ جاتے ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ اگر انگریزی میں پوڈکاسٹ، ہے تو ہم اُردو میں بھی پوڈکاسٹ، ہی کہیں۔ نشریہ، کہنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ پوڈکاسٹ، کے مقابلے میں سہل اور سُبک لفظ ہے۔ ہماری زبان کے ترنم سے ہم آہنگ ہے۔ مگرجب یہ کہا جاتا ہے کہ
"ہم آپ کو آج کے پوڈکاسٹ میں خوش آمدید کہتے ہیں"۔
تو یہ سُن کر طبیعت کچھ ایسی مکدر ہوجاتی ہے جیسے کسی انگریزی بیت الخلا میں خوش آمدید کہا جارہا ہو۔ پوڈکاسٹ، کی صوتی ہم آہنگی ہی کچھ ایسی چیز سے ہے۔ اکثرجی چاہتا ہے کہ نفاستِ طبع کی طرف سے انھیں صفائی پسندانہ مشورہ دیا جائے کہ
"حضور! یوں جگہ جگہ پوڈکاسٹ، نہ کرتے پھریے"۔
مگر جہاں سب بیٹھے پوڈکاسٹ، کررہے ہوں، وہاں سے ناک دبا کر گزر جانا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اگر یوں کہا جاتا کہ
"ہم آپ کو آج کے اِس نشریے میں خوش آمدید کہتے ہیں"۔
تو کتنا بھلا محسوس ہوتا۔ نشریہ، کوئی ایسا اجنبی اور نامانوس لفظ بھی نہیں۔ کالم نگار کا تجزیہ ہی نہیں، تجربہ بھی یہی ہے کہ لوگوں کو جب ادق انگریزی الفاظ کے سہل اُردو متبادل مل جاتے ہیں تو اُن کی طبیعت میں ایک فرحت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ کتنا آسان لفظ ہے۔ مگر آسان سے آسان لفظ کو بھی زبان پر لانا اس وجہ سے مشکل ہوگیا ہے کہ ہرشخص اِسی اُدھیڑ بُن میں مبتلا رہتا ہے کہ کون اُٹھے اور کھڑکی کھولے؟ اُردو کے چاہنے والے بہت ہیں۔ ان میں سے کسی کو تو پہل کرنے کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہیے۔
اگر آپ "جسارت ڈیجیٹل"کو جسارت برقی، کہنا شروع کردیں اورآج کے پوڈ کاسٹ، میں خوش آمدید، کہنے کی بجائے آج کے نشریے میں خوش آمدید، کہا کریں تو آپ کی شرحِ دید، میں کمی نہیں کچھ اضافہ ہی ہوگا۔ پھر آپ کی دیکھا دیکھی دوسروں کو بھی رغبت ہوگی کہ کلام میں دل کشی پیدا کرنے کے لیے اُردو بولتے ہوئے اُردو ہی بولیں۔ بولا بولا کر اُردو میں ہر دوسرا تیسرا لفظ انگریزی کا نہ ٹھونک دیا کریں۔ اپنے اندر اعتماد پیدا کیجیے۔ آپ وقت کا دھارا موڑ سکتے ہیں۔ پرانے رجحانات تبدیل کرسکتے ہیں اور نئی رجحان سازی کر سکتے ہیں۔ بقول اسرارؔ ناروی (ابن صفی)
جو موجِ طوفاں سے لڑ سکے گا اُسی کا دنیا میں نام ہوگا
جو اپنی کشتی میں بچ رہے گا، وہیؑ ہوگا