پاکستان کی سیاسی ومعاشی صورت حال نے معاشرے کو اخلاقی طور پر بھی دیوالیہ کر دیا ہے۔ طاقتور اشرافیہ نے سسٹم کو اپنے تابع کرتے کرتے اس قدر بنجر اور کھوکھلا کر دیا ہے کہ اس کی درستی اب ناممکن ہو چکی ہے، اگر کوئی قسمت کا مارا اس سسٹم اور نظام کو بہتر کرنے کا سوچتا بھی ہے تو ہماری تاریخ اس قدر بھیانک اور خوفناک ہے کہ وہ پہلے ہی بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ تقسیم سے لے اب تک، چھہتر برس ہم نے صرف تجربات میں ضائع کیے، وہ تجربات جن کا نقصان صرف اور صرف عام آدمی کو ہوا، اشرافیہ نے تواپنی ناکامیوں کا ملبہ بھی عام آدمی پر پھینکا، سیاسی اشرافیہ نے نظام کو اس قدر برہنہ کر دیا ہے کہ اس عریانی سے پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے مگر اشرافیہ کے سر پہ جوں تک نہیں رینگ رہی۔
چھہتر سالہ بھیانک تاریخ سے ہم نے کیا سیکھا، شاید کچھ بھی نہیں، جب جب کسی مردِ قلندر نے اشرافیہ کو للکارا، اس کی زبان بندی کے لیے سارا مافیا اکٹھا ہوگیا، اس گٹھ جوڑ نے سسٹم کی رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ آج ملک جس نہج پر پہنچ چکا ہے، یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا، اس کے پیچھے ہماری برسوں کی پلاننگ ہے۔ سیاسی اشرافیہ اور سرمایہ دار، جس کی نااہلی اور ہٹ دھرمی کا خمیازہ پچیس کروڑ عوام بھگت رہے ہیں اس تباہی کی ذمہ داری کسی ایک سیاسی پارٹی یا کسی بھی ایک شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ کوئی ایک ادارہ بھی اس تباہی کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اس فسطایت اور زیادتی کا ہر وہ شخص، ادارہ یا پارٹی ذمہ دار ہے جس کا مستقبل اس ملک اور یہاں کے عوام سے وابستہ نہیں۔ تقسیم کے فوری بعد ایک ایسا طبقہ تیار کیا گیا جس کے لیے وطنِ عزیز کسی صورت بھی اہم نہیں تھا، مفادات کی جنگ لڑنے والوں نے تقسیم کے زخم کوپلک جھپکتے ہی فراموش کر دیا۔ لاکھوں کی تعداد میں قربانیاں رائیگاں چلی گئیں۔
دنیا کی سب سے بڑی ہجرت اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال نے مہاجرین کو امید و یاس کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا کر دیا، آج جب ہم یہ نوحہ لکھ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا، کیوں ہوا اور کیسے ہوا تو شاید وہ نسل معدوم ہو چکی جو فسادات کی اندوہ ناک کہانی سنا سکتی تھی۔ میری نسل کے لوگوں کا المیہ یہ نہیں کہ حکومت کس کی ہے، مینڈیٹ کس کا ہے، ہمارا المیہ تو یہ ہے کہ اس نظام کی برہنگی کی ذمہ داری کوئی تو قبول کرے، جنھوں نے میرے لوگوں کی آنکھیں بنجر کر دیں۔ انھیں سنہری خوابوں سے محروم کیا، ان کا کچھ تو حساب ہونا چاہیے، کوئی تو ان سے پوچھے کہ جو تماشا پہلے مارشل لاء بلکہ اس سے بھی پہلے شروع ہوا تھا، اس کا کوئی اختتام بھی تو ہو، کیا سب ایسے ہی چلتا رہے گا۔
کیا ہم ہمیشہ ایسے ہی بنجر نظام پہ واویلا کرتے رہیں گے، کیا کبھی ہماری سمت درست بھی ہوگی یا پھر اگلے سوسال بھی ہم مخالف سمت میں سفر کرتے رہیں گے۔ ہمارے ساتھ اور بعد میں آزاد ہونے والی قوموں اور ملکوں نے ہم سے کئی گنا زیادہ ترقی کی اور ہم ترقی کے نام پر تنزلی کا سفر کرتے رہے۔ ہمارے سیاست دانوں کو آج تک سمجھ ہی نہ آ سکی کہ پارلیمان کی مضبوطی میں جمہوریت کا بنیادی کردار ہوتا ہے، جو ادارے اور لوگ غیر جمہوری راستوں پر سفر کرتے ہیں، ان کا سفر ہمیشہ مخالف سمت میں رہتا ہے، ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہمارے پاس نہ عدالتی نظام شفاف ہے اور نہ ہی پارلیمانی و جمہوری نظام۔
ہمارا تعلیمی نظام بھی مانگے تانگے کا ہے جیسے ہمارا بینک میں پڑا پیسہ اور ہمارے خواب، آپ خود سوچیں جو قوم اپنی مرضی سے خواب بھی نہ دیکھ سکتی ہو، اس قوم کا مستقبل کیسا ہوگا؟ ہمارے جمہوری پارلیمان کی کہانی کیا ہے، یہی کہ ہر تین ساڑھے تین سال بعد ہم اپنا وزیر اعظم گھر بھیج دیتے ہیں، ہمارے جمہوری نظام کی عریانی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ، چھہتر سالوں میں ہم اپنے تعلیمی نظام کی بھی وضاحت نہیں کر سکے، ہم آج تک فیصلہ نہیں کر سکے کہ ہم نے اردو میڈیم نسل تیار کرنی ہے یا انگریزی میڈم، ہم آج تک قرضوں سے نجات کا کوئی واضح پیٹرن نہیں بنا سکے، ہم آج تک اداروں کی حدود کا تعین نہیں کر سکے، ہم آج تک اپنے عدالتی نظام پر اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب نہیں دے سکے، ہمارے طاقتور ادارے اور لوگ، آج تک اس سسٹم اور اس پس ماندہ قوم کو" اون" نہیں کر سکے، میڈیا جس نے وہی سچ دکھایا جتنا اسے بتایا گیا، کیوں؟ آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو صرف اور صرف شکستہ خواب ہیں، ہم اپنا نوحہ کسے سنائیں، اب معاملہ آنسو بہانے سے بھی بہت آگے نکل چکا، چیخیں مارنے کو دل کرتا ہے مگر کیا کریں، چیخیں ماریں گے تو قید کر دیے جائیں گے، غدار کہلائیں گے، مار ڈالیں جائیں گے، اٹھا لیے جائیں گے یا پھر پھانسی لگا دیے جائیں گے۔
ہمارے جن اداروں نے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا تھا، اشرافیہ نے انھیں بھی یرغمال بنا دیا ہے، بلیک میلرز نے ہر اس شخص کو بلیک میل کیا، خوار کیا، جس نے نظام کی کمزوریوں کی نشان دہی کی، ہر اس شخص کو پابند سلاسل کر دیا گیا جس نے تھوڑی سی بھی کوشش کی کہ اس نظام اور اس سے پیدا ہونے والی تباہی کو ٹھیک کیا جائے، اس ملک کی سمت درست کی جائے، اداروں کی حدود کا تعین کیا جائے، عالمی سرمایہ دار کی بدمعاشیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے ملک مفاد کی بات کی جائے۔ اب صورت حال ایسی ہے کہ ناامیدی اور یاسیت نے پوری قوم کو اندھیروں میں مبتلا کر دیا ہے، شدید خواہش کے باوجود ایسا نہیں لگتا کہ حالات ٹھیک ہوں گے، یہ تماشا جو پوری پلاننگ سے رچایا گیا، شاید ہی اب ختم ہو، شاید ہی حالات بہتر ہوں، اس مایوسی کا کوئی حل نہیں یا اگر ہے بھی تو نظر نہیں آ رہا، بقول افتخار عارف:
بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا
مرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا