امریکا کی براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز جنگی تباہ کاریوں کا تحقیقی ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے معروف ہے۔ واٹسن انسٹی ٹیوٹ کا ایک پروجیکٹ "کاسٹ آف وار " کہلاتا ہے۔ اگر عالمی امن اور امریکا کی جنگی مداخلت کے موضوع پر بھی واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے ریکارڈ میں بیش بہا معلومات موجود ہیں۔
مثلاً یہی کہ نائن الیون کے بعد دھشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جو عسکری معرکہ آرائیاں ہوئیں ان کا زیادہ زور افغانستان، پاکستان، عراق، شام اور یمن میں رہا۔ ان ممالک میں مجموعی طور پر کم ازکم نو لاکھ چالیس ہزار انسان براہِ راست موت سے ہمکنار ہوئے۔
عراق میں دو ہزار تین تا دو ہزار گیارہ کے آٹھ برس میں چار ہزار تین سو اکتیس امریکی فوجیوں کی اموات کے مقابلے میں تین لاکھ سویلینز مارے گئے یعنی ایک امریکی موت کے بدلے اڑسٹھ عراقی سویلینز کی لاشیں۔ دو ہزار ایک تا اکیس کے بیس برس میں افغانستان میں دو ہزار چار سو اکسٹھ امریکی اموات کے بدلے ایک لاکھ چھہتر ہزار سویلین ہلاکتیں ہوئیں۔ یعنی ہر ایک امریکی فوجی کے بدلے بہتر عام افغان مارے گئے۔
نائن الیون سے پہلے کا معاملہ دیکھا جائے تو انیس سو پچپن تا انیس سو پچھتر کے بیس برس میں جنگِ ویتنام کے دوران اٹھاون ہزار دو سو بیس امریکی اور بیس لاکھ ویتنامی اموات ہوئیں۔ یعنی ایک امریکی فوجی کے بدلے پینتیس ویتنامی جانیں۔ انیس سو پچاس تا تریپن جنگِ کوریا کے تین برس میں چھتیس ہزار پانچ سو چوہتر امریکی فوجی اور بیس لاکھ جنوبی و شمالی کوریائی کام آئے۔
مندرجہ بالا جنگوں میں جو لوگ زخمی یا اپاہج ہوئے یا بھک مری، بیماری اور جبری نقل مکانی کے نتیجے میں مرے۔ ان لاکھوں لوگوں کی درست تعداد شائد کبھی معلوم نہ ہو سکے۔
جنگیں کبھی بھی سستا کھیل نہیں رہیں۔ بظاہر جنگی اخراجات ریاست برداشت کرتی ہے مگر یہ پیسہ قرض، ٹیکس، محصولات، تاوان اور چندوں کی شکل میں وہی عام آدمی بھرتا ہے جو ان جنگوں کا زیادہ تر چارہ بنتا ہے۔
کاسٹ آف وار پروجیکٹ کا اندازہ ہے کہ بیس سالہ افغان جنگ کی بھٹی میں دو اعشاریہ تین ٹریلین ڈالر (روزانہ تین سو ملین ڈالر) جھونکے گئے۔ جب کہ آٹھ سالہ عراق آپریشن پر دو ٹریلین ڈالر (چھ سو چوراسی ملین ڈالر روزانہ) کا صرفہ ہوا۔ ویتنام کی بیس سالہ جنگ میں امریکی ٹیکس دھندگان پر ایک ٹریلین ڈالر (ایک سو سینتیس ملین ڈالر روزانہ) کا بار پڑا۔ تین سالہ جنگِ کوریا پر امریکا نے تین سو نوے بلین ڈالر لٹائے (فی دن تین سو چھپن ملین ڈالر)۔
اگر حالیہ چالیس روزہ ایران امریکا اسرائیل جنگ کا حساب کیا جائے تو آپریشن کا دورانیہ دیکھتے ہوئے خرچے کے اعتبار سے یہ تاریخ کی سب سے مہنگی لڑائی ثابت ہوئی ہے۔ شروع کے چھ دن امریکا کو طاقت کا بھرپور استعمال گیارہ اعشاریہ تین بلین ڈالر (ایک اعشاریہ اٹھاسی بلین ڈالر روزانہ) میں پڑا۔ باقی چونتیس دن میں اوسط جنگی خرچہ ایک ارب ڈالر فی دن بیٹھتا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی تحقیق کے مطابق جنگ کے پہلے سات ہفتوں میں امریکا نے اپنے ٹاماہاک میزائلوں کا پینتالیس فیصد زخیرہ پھونک ڈالا (ایک ٹاما ہاک میزائل کی قیمت ڈھائی ملین ڈالر ہے)۔
جب کہ دشمن کے میزائیل روکنے والے تھاڈ انٹرسیپٹرز اور پیٹریاٹ ایر ڈیفنس سسٹم کے میزائلوں کا آدھا زخیرہ بھی خرچ ہوگیا۔ ایک تھاڈ یا پیٹریاٹ انٹرسیپٹر کی قیمت چار ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ایران کو ایک شاہد ڈرون بیس سے پچاس ہزار ڈالر کا پڑتا ہے۔
ڈرونز بہت تیزی سے تیار ہو سکتے ہیں مگر امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن ایک سال میں صرف چھ سو پیٹریاٹ میزائیل تیار کرنے کی گنجائش رکھتی ہے۔ پیٹریاٹ سسٹم کو اٹھارہ دیگر ممالک بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اگر تنازعہ طول پکڑتا ہے تو پھر بیرونی آرڈرز کو پسِ پشت ڈال کے امریکی فوجی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی۔ کیونکہ امریکا میزائلوں کا جتنا زخیرہ چالیس دن میں خرچ کر چکا ہے۔ اس کی بھرپائی کے لیے تین سے چار برس درکار ہیں۔ تاہم اب بھی اتنا زخیرہ ہے کہ امریکا ایران سے ایک اور مختصر جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے۔
سی ایس آئی ایس کی تحقیق ہے کہ چالیس روزہ لڑائی میں جو امریکی جہاز، ریڈار اور دیگر دفاعی آلات تباہ یا ضایع ہوئے صرف ان کی محتاط مالیت ہی دو اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
موٹے موٹے تباہ ہونے والے آلات میں تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے دو طاقتور ریڈار، چار ایف پندرہ طیارے، پچیس مسلح ڈرونز، ایک اواکس نگراں طیارہ، ایک ری فیولنگ طیارہ، دو سی ون تھرٹی بار بردار طیارے، ایک ایم ٹین ٹینک شکن طیارہ، ایک باربردار شنوک ہیلی کاپٹر، چار چھوٹے ہیلی کاپٹرز۔ اس نقصان میں خلیجی ریاستوں سے اردن تک پھیلے اٹھارہ امریکی بیسز کے انفراسٹرکچر اور بحری اثاثوں کو پہنچنے والا نقصان شامل نہیں۔ بیسز کے نقصانات پوشیدہ رکھنے کے لیے خلا سے مصنوعی سیاروں کی اتاری گئی تصاویر شائع کرنے والے امریکی ادارے پلانیٹ لیب نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست پر اٹھائیس فروری کے بعد سے خلیج کے کسی امریکی بیس کی تصویر ریلیز نہیں کی البتہ ایرانی تنصیبات کی تصاویر کی ریلیز پر ایسی کوئی قدغن نہیں۔
جنگ کے خاتمے کے کئی سال بعد ریٹائرڈ امریکی کرنل ہیری سمرز نے ویتنام کا خیر سگالی دورہ کیا۔ باتوں باتوں میں کرنل سمرز نے ویتنامی میزبان سے کہا کہ آپ یہ تو مانیں گے کہ یہاں جتنے بھی زمینی معرکے ہوئے ہم نے ان سب میں آپ کو پسپا ہی کیا۔ ویتنامی افسر نے کہا کہ آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ مگر جنگ جیتا کون؟ ہم یا آپ؟
(کاسٹ آف وار پروجیکٹ کا تخمینہ ہے کہ اگلے تیس برس میں موجودہ جنگوں میں شامل امریکی فوجیوں کی طبی، نفسیاتی و سماجی دیکھ ریکھ پر کم ازکم دو اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر خرچ ہوں گے)۔