قاری نوازہمارے ان چنددوستوں میں سے ایک ہیں جن سے روزہماری کوئی نہ کوئی ملاقات ضرورہوتی ہے۔ ہزارہ میں جس طرح بجلی کاکوئی پتہ نہیں چلتاکہ کب آئی اورکب گئی اسی طرح ہمارے اس قاری صاحب کے موڈکابھی کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ یہ آپ کے ساتھ بیٹھے اچھے بھلے گپ شپ لگاکرہنس رہے ہوں گے کہ اچانک اس کے دماغ کافیوزاس طرح اڑاورمیٹریکدم شارٹ ہوجاتاہے کہ آس پاس بیٹھے یاردوست پھروہاں سے راہ فراراورغائب ہونے کوغنیمت سمجھنے لگتے ہیں۔۔
قاری نوازکی اسی خامی کی وجہ سے یاردوستوں میں کسی سیانے نے اس کانام جھکڑرکھ دیاہے۔ جھکڑچلنے کاجس طرح وقت معلوم نہیں ایساہی حال پیارے قاری صاحب کے موڈکابھی ہے۔ قاری کے اٹھنے بیٹھنے، بولنے اورچلنے پھرنے کودیکھ کرآپ بھی جھکڑنام رکھنے والے کی قابلیت اورنام شناسی پررشک کرنے لگیں گے۔ جس طرح ہمارے اس قاری نوازکے موڈکاپتہ نہیں اسی طرح پی ٹی آئی کی سیاست کابھی کوئی پتہ نہیں۔ تحریک انصاف والے ایک وقت میں جس چیزکو صحیح کہہ رہے ہوتے ہیں لمحوں بعد پھریہ اسی شئے کوغلط کہناشروع کردیتے ہیں۔
خیبرپختونخوامیں تیرہ سالہ دوراقتدر اوران کی سیاسی تاریخ کودیکھ کرسمجھ نہیں آرہی کہ یہ سیاست کے ذریعے اس ملک میں آخرکرناکیاچاہتے ہیں؟ انصاف عام، احتساب سرعام اوراقتدارمیں عوام۔ کسی دورمیں یہ ان کانعرہ، مشن، منشوراورماٹوتھا۔ شروع میں اس نعرے کاانہوں نے اس ملک میں بہت چرچاکیالیکن بعدمیں اس نعرے میں شامل انصاف اوراحتساب کاانہوں نے اپنے ہاتھوں سے جوحشرنشرکیاوہ منظرنہیں بلکہ مناظریادکرکے انصاف اوراحتسا ب آج بھی ان سے منہ چھپارہاہوگا۔ ان کی حکمرانی میں کس کوانصاف ملااورکس کااحتساب ہوا؟ یہ سب جانتے ہیں۔ جس طرح اپنی حکمرانی میں انصاف عام اوراحتساب سرعام کاخواب انہوں نے پوراکیاایسے ہی انہوں نے اس کے بعد اقتدارمیں عوام والے خواب کوبھی ادھورانہیں چھوڑا۔
کپتان اوراس کے کھلاڑیوں نے، اقتدارمیں عوام، والے نعرے پر قوم خاص کرنوجوانوں کو بڑے خواب اورسپنے دکھائے۔ ان کی طرف سے اقتدارواختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی کے بڑے دعوے اوروعدے بھی کئے گئے۔ وعدوں اوردعوؤں کے ساتھ یہ ہرجگہ لوگوں کوکہتے رہے کہ تبدیلی ہمیشہ نچلی اورمقامی سطح سے آتی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں بلدیاتی نظام برسوں سے ہے۔ ماناکہ ممبر، نمبرداراورچیئرمین کے طورپر مقامی وعلاقائی نمائندہ گان کے نام تبدیل ہوتے رہے ہیں لیکن نظام تقریباًہردورمیں موجودرہااوراس نظام کے تحت منتخب نمائندہ گان کبھی ممبر، نمبرداراورکبھی چیئرمین بن کرعوام کی خدمت کرتے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی نے نوجوانوں کاجوش گرمانے کے لئے اسی بلدیاتی نظام کاچورن بیچااورخوب بیچا۔ اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی کے خواب اورتبدیلی کے چکرمیں بہت سے نوجوان ممبر، کونسلر، ناظم اورچیئرمین بننے کے لئے میدان میں اترے۔ ہم مانتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے پہلے دوراقتدارمیں بلدیاتی نظام کے ذریعے خیبرپختونخواکے اندرچھوٹے موٹے ترقیاتی کام کیئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جس طرح تبدیلی کے باقی دعوے اوروعدے ہواہوئے اسی طرح اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی کے غبارے سے بھی ہوانکلتی گئی اورپھروہ وقت، دور اوردن آئے کہ بلدیاتی نظام کی تحریک انصاف کے ہاں کوئی اہمیت اورحیثیت ہی باقی نہ رہی۔
وہ نوجوان جن کے کانوں میں کپتان اورکھلاڑی کبھی یہ کہتے رہے کہ تبدیلی ہمیشہ نچلی سطح اوربلدیاتی نظام سے آئے گی وہی نوجوان پھربلدیاتی ممبر، کونسلراورچیئرمین بن کرکپتان کے انہی کھلاڑیوں سے بلدیاتی نظام کی بقاء اوراپنے اختیارات کی بھیک مانگتے پھراکرتے تھے۔ وہ بلدیاتی نظام جس کے ذریعے نہ صرف اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی ہونی تھی بلکہ گاؤں، دیہات اوردوردرازوپسماندہ علاقوں میں ترقی کاعمل بھی آگے بڑھناتھا۔ پی ٹی آئی نے عجیب وغریب ترامیم، من پسندفیصلوں اورغلط اقدامات سے اس پورے نظام کوایک عجوبہ وتماشابناکے رکھ دیا۔
پی ٹی آئی نے تیسرے دوراقتدارمیں قوم کے بھاری اخراجات پرصوبے کے اندربلدیاتی انتخابات توکرائے اوران انتخابات کے نتیجے میں بلدیاتی ممبران اورنمائندہ گان بھی منتخب ہوئے لیکن بلدیاتی الیکشن کے بعدچارسال تک ان ممبران اورنظام کے ساتھ جوکچھ ہواوہ نہ صرف افسوسناک بلکہ بلدیاتی نظام کوترقی کی جڑسمجھنے والوں کے لئے شرمناک بھی ہے۔ صوبائی حکومت کی غلط پالیسیوں اوراقدامات کی وجہ سے ہی بلدیاتی انتخابات اورممبران کاصوبے کوکچھ فائدہ نہیں ہوا۔ وہ جوپارٹی بلدیاتی نظام کوتبدیلی اورانقلاب کی پہلی سیڑھی قراردے کرنہیں تھکتی تھی اسی پارٹی کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کے تابوت میں ایسے ایسے کیل ٹھونکے کہ صوبے کے ہزاروں ممبران کوپھران کے خلاف ہی سڑکوں پرآناپڑا۔
گزرے چارسالوں میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی ممبران کے ساتھ کیاکیا، ممبران کوکتنے فنڈجاری کئے اوراس نظام کے تحت کتنے ترقیاتی کام کروائے؟ یہ تبدیلی کے نعروں پرجھومنے والوں سے بہتر کون جانتاہے؟ کل تک کپتان اورکھلاڑیوں کے نعروں اورسپنوں پربلدیاتی نظام کوتبدیلی اورانقلاب کاسرچشمہ سمجھ کربھنگڑے ڈالنے والے اب جب بلدیاتی نظام کانام سنتے ہیں تووہ کانوں کوہاتھ لگاکراف توبہ، اف توبہ کاوردشروع کردیتے ہیں۔ بلدیاتی نظام اورعلاقائی ممبران کودیوارسے لگاکرپی ٹی آئی نے جس طرح تبدیلی کاجنازہ نکالاہے اس کودیکھ کرنہیں لگتاکہ اب کوئی باشعوراورذی عقل بلدیاتی نظام اورانتخابات کے قریب بھی جائے۔
چارسال تک جوممبران فنڈزاور اختیارات کیلئے رلتے، تڑپتے اورترستے رہے۔ احتجاج، مظاہروں اوردھرنوں سے بھی جن کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی اب وہ دوبارہ ممبربن کرذلیل ہوناکیونکرپسندکریں گے؟ وہ جس نظام نے تبدیلی کاذریعہ بنناتھاکپتان کے مفادپرست اوراناڑی کھلاڑیوں کی وجہ سے وہ تبدیلی کاکفن بن گیا۔ کھلاڑی اب کچھ بھی کہیں لیکن سچ یہ ہے کہ خیبرپختونخواسے تبدیلی کے ساتھ بلدیاتی نظام کاجنازہ بھی دھوم دھام سے نکل چکاہے۔