Thursday, 06 May 2021
  1.  Home/
  2. Saud Usmani/
  3. Peshawar Paish Aawar (2)

Peshawar Paish Aawar (2)

اسلام کی پہلی کرنیں پشاور کی وادی اور ملحقہ علاقوں میں ساتویں صدی عیسوی میں پڑنا شروع ہوئیں جب یہاں بدھ اور زرتشتی مذاہب کے پیروکاروں کی حکومت تھی۔ یہ بات بھی دلچسپی رکھنے والوں کیلئے اہمیت کی ہے کہ پشتون قبائل اس علاقے میں کب آباد ہوئے؟ یہ توظاہر ہے کہ پشتون، جنہیں ہندوستانی زبان میں پٹھان کے لفظ سے جانا گیا، افغانستان سے برصغیر میں آئے تھے لیکن اس سے بھی پہلے یہ افغانستان میں کہاں سے آئے اور کن نسلوں کی اولاد ہیں؟ شاہراہ تاریخ کے اس حصے پر بہت دھند ہے۔ بہت سے قیاسات ہیں جن میں یہ بھی ہے کہ ان کے آبائواجداد دراصل ایرانی نژاد تھے، لیکن یہ بے شمار غیرحتمی امکانات میں سے ایک ہے۔ ان سب تھیوریز میں میری زیادہ دلچسپی اس نظریے میں ہے کہ پشتون دراصل بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ ہے جو بعد کے زمانوں میں ہجرت کرکے افغانستان میں آباد ہوگیا تھا۔ پشتون قبائل کی زبانی روایات میں ایسی کئی کہانیاں پائی جاتی ہیں۔ طبقات ناصری نامی مشہور تاریخی کتاب کا مصنف بنی اسرائیل کے ایک مہاجر قبیلے کا ذکر کرتا ہے جو غور، افغانستان میں آٹھویں صدی سی ای میں آباد ہوگیا تھا۔ غور میں کچھ عبرانی تحریروں سے بھی اس تھیوری کو مدد ملتی ہے۔ شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں خان جہاں لودھی کیلئے تاریخ مرتب کرنے والے نعمت اللہ الہراوی نے یہی بات کہی ہے۔ بعض پٹھان قبیلوں میں سینہ بہ سینہ چلی آنے والی روایات میں یہ کہانی پائی جاتی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے مختلف قبائل منتشر ہوئے تو حضرت یوسف کی اولاد ہجرت کرکے افغانستان میں آباد ہوئی اور یوسف زئی (یوسف کے بیٹے) قبیلے کا نام اسی بنیاد پر ہے۔ مشہور سیاح ابن بطوطہ بھی ایسی ہی کہانیاں ذکر کرتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی نظریہ موجود ہے کہ افغان اور پشتون عرب قبائل کی اولاد ہیں اور ان کی نسلی خصوصیات عربوں سے ملتی ہیں۔ یار! بات کچھ کچھ دل کو لگتی تو ہے۔

لیکن یہ سب ماضی کی دھند میں چھپی ہوئی باتیں ہیں۔ کون جانے حقیقت کیا ہے۔ پہلا پشتون قبیلہ دلازاک جب اس علاقے میں آباد ہوا تو ساتویں صدی عیسوی کا زمانہ تھا۔ سبکتگین کے بیٹے نامور محمود غزنوی نے 28نومبر 1001 میں راجہ جے پال کی فوجوں کو شکست دے کر سلطنت غزنی کی حدود یہاں تک وسیع کردیں۔ یہ برصغیر میں مسلمانوں کی پیش قدمی کا پہلا باب تھا۔ سلطنت غزنی کی اہم فوجی چھاؤنی لاہور تھا اور افغانستان تا لاہور شاہراہ پر پشاور اس کا ایک اہم پڑاؤ بن چکا تھا۔ جلد ہی مزید پشتون قبائل غوری خیل، مہمند، خاصی خیل وغیرہ پشاور کی وادی میں پھیلنا شروع ہوگئے۔ غوری خیل اور خاصی خیل قبائل نے پہلے سے آباد دلازاک قبائل کو 1515 میں مردان کے قریب ایک لڑائی میں شکست دے کرپیچھے دھکیل دیا تھا۔ 1526 میں مغل بادشاہ بابر نے دولت خان لودھی سے یہ شہر چھین لیا لیکن بابر کے بیٹے ہمایوں کو برصغیر کے نئے حکمران شیر شاہ سوری کیلئے جگہ خالی کرنا پڑی جس نے پشاور سے برما تک بادشاہی سڑک یعنی جی ٹی روڈ تعمیر کروائی۔

قلعہ روہتاس کی طرف سے گزرتا ہوں اور بادشاہی سڑک پر پشاور کی طرف بڑھتا ہوں تو شیر شاہ سوری کا چہرہ سامنے آجاتا ہے۔ کیا فاتح تھا بھئی! جس سے مغل بھی خائف تھے۔ مختصر دورِ حکومت لیکن ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل شاہراہ، جو آج بھی اس کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ شیرشاہ سوری پشاور کی اہمیت کو سمجھتا تھا، لیکن اس کے جانشین اس کی سلطنت کو سنبھال نہ سکے۔ زمانہ آگے بڑھتا گیا۔ اورنگزیب کے دور میں آفریدی اور یوسفزئی قبائل نے مغل حکومت کے خلاف بغاوت کی اور درہ خیبر بند کردیا۔ اورنگزیب عالمگیر خود فوج لے کر یہاں آیا اور 1674 میں اس پورے علاقے کا قبضہ حاصل کرلیا لیکن اورنگزیب کے بعد مغل سلطنت کا زوال ہی زوال تھا اور پشاور دہلی سے کافی دور تھا اس لیے اورنگزیب کے جانشین اس پر اپنا قبضہ برقرار نہ رکھ سکے۔

میں نوشہرہ کی طرف سے جی ٹی روڈ پرپشاور آرہا تھا۔ مغرب کے بعد کا وقت ہوچلا تھا۔ ایک ایک کرکے چراغ روشن ہورہے تھے۔ مجھے باقی صدیقی کے شعر اور داغِ دل دونوں ایک ساتھ یاد آنے لگے:

داغ دل ہم کو یاد آنے لگے/ لوگ اپنے دئیے جلانے لگے

شام کا وقت ہو گیا باقی/ بستیوں سے شرار آنے لگے

دور سے روشنیوں کی ایک قطار نظر آئی۔ دل نے کہا، یہ قلعہ بالا حصار ہے۔ اس کی پرشکوہ فصیل کے سامنے میں نے گاڑی روکی اور اسے تادیر دیکھتا رہا۔ یہ علاقہ بہت بدل گیا ہے۔ فلائی اوورز، عمارتیں، شو رومز۔ وہ سارا منظر غائب ہوچکا تھا جو دس سال پہلے نظروں نے ذہن میں بسا لیا تھا۔ اس کی جگہ اب ایک نئے منظر نے لے لی تھی اور یہی زمانے کا ہرزمانے میں چلن ہے۔ قلعے کو دیکھتے ہوئے بہت کچھ یاد آیا۔ مغلوں کے بعد وقت تیزی سے گزرا اور درانیوں کا دور شروع ہوا جس کا پہلا بادشاہ احمد شاہ درانی تھا۔ قلعہ بالاحصار درانیوں کا مرکز تھا۔ درانیوں نے کابل موسم گرما اور پشاور موسم سرما کیلئے دارالخلافہ طے کیا۔ اب سکھ دور حکومت کا آغاز تھا اورجلد ہی پشاور کے حکمرانوں اور رنجیت سنگھ کے مابین جھڑپیں اور تنازعات شروع ہو گئے۔

کیا آپ کو معلوم ہے تنازعات اور جھگڑوں کی ایک بڑی وجہ کیا تھی؟ کہتے ہیں نا کہ زن، زر اور زمین ہی اس کی بنیاد ہوا کرتے ہیں، لیکن رنجیت سنگھ کے معاملے میں اس میں ایک گھوڑی کو بھی شامل کرلیں۔ آپ قلعہ لاہور میں جائیں تووہاں عجائب گھر میں ایک حنوط شدہ گھوڑی کا جسم دیکھیے گا۔ پھرلاہور عجائب گھر میں سکھ دور کی چیزیں دیکھتے ہوئے اس گھوڑی کا مرصع سازوسامان بھی ضرور دیکھیے گا۔ اس گھوڑی کا نام لیلیٰ تھا اوراس لیلیٰ کے ایک نہیں کئی مجنوں تھے۔ ایک سے ایک بڑا عاشق اور ایک سے ایک بڑا حکمران۔ یہ وہ گھوڑی تھی جس کے حصول کیلئے بارہ ہزار سے زیادہ انسان موت کے گھاٹ اترے، ہزاروں ہمیشہ کیلئے زخمی ہوکر معذور ہوئے اور اس زمانے کا لاکھوں روپیہ ان جنگوں پرخرچ ہوا۔ لیلیٰ پشاور کے درانی حکمران سلطان محمد خان کی ملکیت تھی۔ سلطان محمد خان کا بھائی یار محمد خان اسی دور میں کابل کا حکمران تھا۔ لیلیٰ کی خوبصورتی اور خصوصیات کی شہرت دور دور تک پہنچی ہوئی تھی اور بڑے بڑے حکمران، جن میں شاہ روم بھی شامل تھا، اس کیلئے خطیر رقم کی پیشکش سلطان محمد خان کو کرچکے تھے۔ سلطان محمد خان کواس گھوڑی سے عشق تھا اوروہ کسی قیمت پر اسے جدا کرنے کوتیار نہیں تھا۔ تخت لاہور کے سردار رنجیت سنگھ تک لیلیٰ کی خوبصورتی اور خصوصیات کی تفصیلات پہنچیں تواعلیٰ گھوڑوں کا یہ شائق بے قرار ہوگیا۔ وہ ہرقیمت پر یہ گھوڑی حاصل کرنا چاہتا تھا چاہے اس کیلئے کتنی ہی ماؤں کے جوان بیٹے اور کتنی ہی عورتوں کے سہاگ قربان ہوجائیں۔ سکھا شاہی کا دبدبہ سلطان محمد خان کو لرزاتا تھا لیکن اس نے رنجیت سنگھ کا ہرمطالبہ ٹھکرا دیا۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی تھاکہ کسی حکمران کی طرف سے مطالبے پرگھوڑے کا دیا جانا ایک طرح سے سر اطاعت خم کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ سکھ فوجیں پشاور پہنچنے لگیں تو وہ لیلیٰ کو لے کر پہاڑوں کی طرف فرار ہوگیا۔ ایک بار نہیں باربار کی جنگوں اور سفارتوں کی تفصیل تاریخ میں پڑھ لیجیے۔ انسانی خون کی بے قدری اور حکمرانوں کی سنگ دلی پرآپ کا سر شرم سے جھک جائے گا۔ لیلیٰ کو تو بالآخر بہت سی جنگوں کے بعد رنجیت سنگھ نے حاصل کرلیا لیکن ٹرائے کے ٹروجن ہارس کے بعد یہ پہلی گھوڑی تھی جس کے سبب پشاور کی وادیاں بار بار لالہ رنگ ہوئیں۔ اور یہی وہ دور تھا جب سید بادشاہ کا قافلہ اپنی دھن اور اپنی لگن میں ان علاقوں میں جہاد کی غرض سے پہنچا تھا۔ اٹک کے اِس پار کا علاقہ، اور ہزارہ کی وادیاں آج بھی اس کی بوئے نفس سے مہکتی ہیں۔ ایسے بے نفس، بے غرض، خالص جذبوں کے حامل جفاکش انسان اس دھرتی نے پہلے کب دیکھے تھے؟ (جاری)