Saturday, 24 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Ye Azadi e Raye Nahi

Ye Azadi e Raye Nahi

اکثر سننا پڑتا ہے ہم صحافی حکومتوں اور سیاستدانوں پر تنقید کرتے ہیں تو وہ جائز اور آزادی رائے ہے لیکن صحافیوں پر بات کی جائے تو وہ غلط یا ناجائز کیسے؟

بالکل جینئوئن سوال ہے۔ کسی کو بھی آپ کی رائے یا تنقید سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ہونا بھی نہیں چاہئے۔ تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟

مسئلہ اس میں ہے کہ ہم میں سے اکثریت کو آزادی رائے، تنقید، گالی گلوچ اور الزام تراشی میں فرق معلوم نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں جب تک دوسرے کو گالیاں نہ دی جائیں تو انہیں لگتا ہے بات کا مزہ نہیں آیا۔

اس معاشرے میں گھر، محلے، سکول، کالج تک اگر کسی کی بات اچھی نہ لگے تو گالی دی جاتی ہے۔ یہ مزاج اتنا پکا ہوچکا ہے کہ اب اسے ہی رائے سمجھا جاتا ہے۔

مزے کی بات ہے جو یہ کام کررہا ہوتا ہے وہ حیران ہوتا ہے کہ میں نے ایسا کیا غلط کہا ہے کیونکہ وہ بچپن سے گالیاں ہی کھاتا آیا ہے اور اب اسے لگتا ہے اس نے بھی اس "گالی گلوچ انداز" میں رائے دینی ہے جیسے دوسرے اس کے بارے دیتے آئے ہیں۔

جہاں تک سیاستدانوں کی برداشت کی بات ہے وہ آپ سے ووٹ لینے آتے ہیں۔ وہ آپ کے ٹیکس پر ایم ایم ایز یا ایم پی ایز بن کر تنخواہیں، ترقیاتی فنڈز، گاڑیاں، مفت ٹریول ووچرز، مفت میڈیکل علاج، فیملی سمیت سرکاری پاسپورٹس جس سے دنیا کے ساٹھ ملکوں میں انٹری کے لیے ویزہ درکار نہیں ہے، لیتے ہیں۔ طاقت، تھانے کہچری ہٹو بچو الگ۔ کروڑں کا فنڈ الگ۔ لہذا ان کے لیے ضروری ہے آپ کی گالیاں ہنس کر برداشت کریں کیونکہ اس میں انہیں سماجی مالی فوائد ہیں۔ وہ آپ کو جواب دہ ہیں کیونکہ آپ کے ووٹوں سے ہی وہ بنے ہیں۔ انہیں آپ سے ہر پانچ سال بعد کام پڑنا ہے۔ وہ گالیاں کھا کر بھی اگلے سال ہاتھ باندھ کرووٹ مانگنے آئیں گے لہذا وہ آپ کی گالیاں یا الزام تراشیاں نظر انداز کرتے ہیں اور بڑے مقصد پر آنکھ رکھتے ہیں کہ گالیاں دے کر خوش ہے تو کیا مضائقہ ہے۔

اینکر/صحافی نہ آپ سے تنخواہ لیتا ہے، نہ گاڑیاں نہ مفت پٹرول دنیا بھر کا ٹریول، فری علاج یا سرکاری پاسپوررٹس یا دیگر سہولتیں۔ الٹا وہ آپ کے مفادات کی حفاظت کے لیے ان طاقتور سیاستدانوں اور بیوروکریسی سے ٹکر لے رہا ہوتا ہے اور تنائج کا سامنا بھی کرتا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے یہ آسان کام ہے کہ سول ملٹری بیوروکریسی اور سیاسی حکمرانوں کی کرپشن سامنے لائی جائے اور محض معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے کھڑا ہوا جائے؟ آپ میں سے کتنے ایک سپاہی کے سامنے کھڑے ہوسکتے ہیں؟

تیسری بات یہ ہے میں ہوں یا کوئی بھی صحافی اگر وہ تنقید کرتا ہے تو وہ ایسی تنقید ہے جو مناسب لفظوں کے ساتھ نیشنل ٹی وی پر لائیو ہوتی ہے۔ کیا ٹی وی پر کبھی کسی اینکر یر صحافی کو گالیاں دے کر آزادی رائے کا اظہار کرتے دیکھا ہے؟ وہ ایک ذمہ دار تربیت یافتہ پروفینشل ہے جو سخت تنقید کرتا ہے لیکن اسے بدتمیزی /گالی گلوچ کے دائرے میں نہیں لے کر جاتا۔ میں دنیا اخبار میں کالم لکھتا ہوں تو آپ نے کتنی گالیاں پڑھی ہیں یا ٹی وی پر میرے منہ سے سنی ہیں؟

چوتھی بات میں جو بولتا یا لکھتا ہوں اس کا ذمہ دار ہوں۔ اگر میں کسی بڑے بندے پر الزام لگاتا ہوں تو میں پورے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ کرتا ہوں۔ میں اس بندے یا ادارے سے رابطہ کرکے اس کا موقف لیتا ہوں۔ میرا ٹی وی یا اخبار میری اس خبر یا رائے کا جائزہ لیتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے پھر ہی وہ خبر یا تنقید پروگرام یا کالم کا حصہ بنتی ہے۔ یہ سب ایڈٹیوریل طور پر چیک ہوتا ہے۔ ہمارے اوپر ڈائریکٹر پروگرامز، ایڈیٹر، سب ایڈیٹرز بیٹھے ہیں جو یہ چیزیں چیک کرتے رہتے ہیں۔

مادر پدر آزادی نہیں ہے کہ جو دل میں آے کہہ دوں۔ نو سر۔۔ ایسی آزادی مجھے نہیں ہے نہ میں لینا چاہتا ہوں۔

اب بات کرتے ہیں ملکی قوانین کی جس کے تحت صحافی یا اینکر کو بھی جھوٹی خبر یا گالی گلوچ یا ناجائز تنقید پر سزا ہوسکتی ہے۔ بہت کم لوگوں کو علم ہوگا اس وقت درجنوں سخت قوانین ہیں جن کے تحت ہم صحافی یا اینکرز بھی قانون کی گرفت میں لائے جاتے ہیں۔

اگر میں ٹی وی پروگرام میں غلط انفارمیشن، کسی پر غلط سکینڈل، الزام لگاتا ہوں تو میرے خلاف متاثرہ بندہ یا ادارہ پیمرا میں جا سکتا ہے اور اگر میں اس کا ثبوتوں کے ساتھ دفاع نہیں دے سکتا تو مجھے اور میرے چینل کو دس لاکھ روپے جرمانہ، میرا پروگرام بند اور چینل کا لائنسس معطل کیا جاسکتا ہے اور یہ سب کچھ پیمرا کرتا رہا ہے۔

اس کے بعد اینکر یا صحافی کو سائبر کرائمز کے تحت ایف آئی اے بلاسکتی ہے کہ الزام ثابت کریں۔ اس وقت بھی کئی اینکرز اور صحافی ایف آئی اے /این سی سی اے کی کاروائی کا سامنا کررہے ہیں۔ کئی گرفتار بھی ہوئے اور مقدموں کا سامنا کیا۔

اس کے علاوہ آپ پر متاثرہ پارٹی ہتک عزت کا دعوی کرسکتی ہے اور آپ کو عدالتوں کے چکرکے علاوہ لاکھوں کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔

خود میرے ٹی وی پروگرامز کی وجہ سے میرے خلاف پیمرا میں پندرہ مقدمات درج ہوئے۔ میں نے وہاں پچاس پیشیاں بھگتیں اور الحمد اللہ سب مقدمات جیتے ہیں کیونکہ میرے پاس سب ثبوت موجود تھے۔

میرے خلاف مدعی کوئی عام لوگ نہیں تھے۔ چیرمین نیب قمرالزماں چوہدری، ائروائس مارشل شاہد لطیف، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے سینٹر طلحہ محمود تک شامل تھے۔ مجھے سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانچ دفعہ طلب کیا کہ جو سکینڈلز فائل کیے ہیں ان کے ثبوت پیش کرو۔ ان پانچوں کے ثبوت عدالت میں پیش کیے اور الحمد اللہ سرخرو ہوا۔ عدالتوں میں مجھ پر مقدمے ہوئے وہ جیتے۔

اب اس ملک کے پیکا قانون کے تحت کسی پر جھوٹا الزام یا جھوٹے خبر پھیلانے کی تین سال سزا اور بیس لاکھ جرمانہ ہے۔ اگر میں لیہ کے اس نوجوان کے خلاف کیس واپس نہ لیتا تو یہ سزائیں ہونی تھیں۔

ہمارے لندن کے وکیل دوست رانا انعام نے کیا خوبصورت لکھی ہے کہ میں نے اگر ہرٹ محسوس کیا ہے تو ڈانگ لے کر اس بندے سے لڑنے پہنچ گیا یا ملک کے قانون کا سہارا لیا جو ہر مہذب معاشرے کا طریقہ ہے۔ یا ہم جنگل کا قانون بنا لیں کہ میں اپنے ساتھ پانچ دس بندے لے کر اس بندے کا سر پھوڑ دوں جو میرے خلاف جھوٹ پھیلا رہا ہو یا کوئی بندہ میری فائل کی ہوئی خبروں پر میرا سر کھولنے پہنچ جائے یا وہ قانون کا سہارا لے جیسے میں نے لیا؟

آپ لوگوں کی دی ہوئی گالیاں سیاستدان اس وجہ سے برداشت کرتے ہیں کہ آپ لوگ نامعلوم ہیں۔ آپ کا کسی کو علم نہیں کون ہیں کہاں سے ہیں اور کہاں رہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اینکر یا صحافی ہیں تو وہی سیاستدان ہمارے پیچھے آتا ہے اور لیگل کاروائی کرتا ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے میرے فائل کیے سکینڈلز پر مجھے لیگل نوٹس بھیجے۔ مجھے اپنے تیس سال کیرئیر میں اب تک 55 کے قریب لیگل نوٹس موصول ہوئے ہیں جو ان بڑے لوگوں کی طرف سے تھے جن پر میں نے سکینڈلز فائل کیے۔

آپ کو کون کہتا ہے میں کچھ بھی لکھ دوں، بول دوں تو میرے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی یا کوئی قانون میرے خلاف حرکت میں نہیں آئے گا؟ میں نے پچاس پیشیاں دو سال بھگتی ہیں۔ اب بھی تیار ہوں کیونکہ میں غلط خبر یا جھوٹ یا غلط الزام افورڈ نہیں کرسکتا۔

آپ ضرور تنقید کریں لیکن اگر جھوٹا الزام، کردار کشی یا کسی کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں تو یہ آزادی رائے نئیں ہے، پھر یہ جرم ہے اور اس ملک کے قانون کے تحت تین سال سزا اور بیس لاکھ جرمانہ ہے۔ یہ قانون میں نے نہیں اس ملک کی پارلیمنٹ نے بنایا ہے اور ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ میں اس ملک کے قانون کی پرواہ نہیں کرتا۔ پرواہ نہ کرنے کے نتائج بھگتنے ہوتے ہیں وہ آپ بھگتیں یا میں۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.