Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Mushtaq Yousufi Ka Jadu Aur Sciencedan Ki Biwi

Mushtaq Yousufi Ka Jadu Aur Sciencedan Ki Biwi

سپر مارکیٹ میں اولڈ بکس شاپ کے مالک عامر پیرزادہ ایک پڑھے لکھے اور مہذب انسان ہیں۔ ان کے والد اعلی عہدے پر رہے ہیں۔ جب بھی جائوں تو وہ مجھے اپنی ٹھہری ٹھہری دھیمی دھیمی باتوں میں لگائے رکھیں گے۔ میرے کان ان کی طرف لیکن آنکھیں پرانی کتابوں پر ہوتی ہیں جن کے موضوعات/بیک کور یا تعارف پڑھ کر فیصلہ کررہا ہوتا ہوں کہ کون سی لینی ہے۔

اپنی تھوڑی سی تعریف کر لوں گر برا نہ لگے۔ میں ان میں سے ہوں جو تھوڑی بہت ملٹی ٹاسکنگ کرسکتے ہیں۔ مطلب ایک ہی وقت میں دو تین کام اکھٹے کرتے ہیں اور ہر کام ٹھیک ٹھاک چل رہا ہوتا ہے۔

اکثر میرے دوست جنید مہار حیران ہوتے ہیں کہ میرے فون پر لتا/رفیع مکیش کشور میوزک ایپ پر چل رہا ہوتا ہے۔ ان سے گپیں بھی لگ رہی ہیں اور میں اپنا دنیا اخبار کا کالم بھی لکھ رہا ہوں یا فیس بک کے لیے کچھ لکھ رہا ہوں یا ٹوئٹر پر کسی سے متھا لگایا پوا ہے۔

وہ حیران ہوتے ہیں کہ وہ تو کوئی ایک پیرا بھی لکھیں تو مکمل خاموشی درکار ہوتی ہے۔ خیالات بکھر جاتے ہیں اور کیفے یا ڈھابے یا ٹریفک کے شور شرابے میں کیسے لکھا جاسکتا ہے۔

میں نے کہا اس کے لیے بہت پریکٹس کرنی پڑتی ہے اور میں نے اپنے دماغ کو اتنا سر پر نہیں چڑھایا کہ وہ میرے سر پر چڑھ کر ناچے۔۔ انسانی ذہن بڑی خوبصورت چیز ہے بس اسے کچھ سمجھ کر اپنے قابو میں کرنے کی کوشش کریں تو ریزلٹ ملتے ہیں۔

خیر عامر صاحب کے پاس کئی دلچسپ کہانیاں ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر انوار احمد کے لیے اچھی خبر ہوگی کہ وہ عرش صدیقی صاحب کے بھی رشتہ دار ہیں۔ ملتان سے ان کا تعلق نکل آیا تو مزید دوستی ہوگئی ہے۔

کل بارش کا موسم تھا تو میرے لیے چائے اور سموسے منگوائے اور کہا مزے کا واقعہ سنائوں۔

ان کی PWD سوسائٹی میں بیسمنٹ میں پرانی کتابوں کی دکان تھی۔ وہاں تین لڑکیاں آتی تھیں اور لٹریچر پر بکس لیتی تھیں۔ ان کا باپ گاڑی میں بیٹھا رہتا اور پھر آکر ادائیگی کر دیتا۔ ہمیشہ سنجیدگی اور کبھی ایک لفظ نہ بولا۔

ایک دن وہی صاحب اپنی بیٹیوں کے ساتھ دکان میں داخل ہوئے اور بولے آپ سے بڑی ضروری بات کرنی ہے۔ میں ان لڑکیوں کا باپ ہوں۔

عامر پیرزادہ کہنے لگے میں کچھ ڈر سا گیا کہ پتہ نہیں ایسی کیا بات ہوگئی۔ میں نے تو ہمیشہ اپنے بچوں کی طرح ڈیل کیا تھا۔

کہنے لگے میں ایک سائنسدان ہوں۔ سارا دن ریسرچ کرتا ہوں۔ رات کو گھر آتا ہوں۔ کسی سے کوئی بات نہیں ہوتی۔ پندرہ سال سے میری بیوی سے بول چال بند ہے۔ میری کوئی سوشل لائف نہیں، بچوں سے بھی بس یہی تعلق ہے کہ پیسہ کماتا ہوں، بازار لے گیا، شاپنگ کے بعد بل دے دیا۔ زندگی بہت مشکل اور بوریت کا شکار ہے۔ مجھے کچھ ایسا لٹریچر دیں جو میں پڑھوں تو شاید کچھ ذہنی سکون ملے۔ سنا ہے لٹریچر انسان کو سکون فراہم کرتا ہے۔

عامر پیرزادہ نے سکون کا گہرا سانس لیا اور مشتاق یوسفی کی "آب گم" شیلف سے نکالی اور انہیں دی کہ اسے پڑھ کر دیکھیں۔

وہ وہیں کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے لگے جبکہ ان کی بیٹیاں کتابیں دیکھ رہی تھیں۔

شاید دس منٹ بعد انہوں نے زور سے قہقے لگانے شروع کر دیے۔ ان کی تینوں بیٹیاں بھاگ کر آئیں اور باپ کو ہنسے دیکھ کر حیران کھڑی رہیں اور عامر کو کہا انکل ان کو ہم زندگی میں پہلی دفعہ اتنا کھل کر ہنستے دیکھ رہے ہیں۔

اس سائنسدان نے مشتاق یوسفی کا پورا سیٹ خریدا اور ساتھ ایک مجموعہ بھی لے لیا۔ عامر نے کہا ایک ہی بات ہے دونوں کا مواد ایک ہے۔ کہنے لگے میرے جیسا ایک اور بھی ہے اسے دوں گا۔

چند دن بعد بچے دوبارہ دکان میں آئے تو گاڑی میں بیٹھنے کی بجائے وہ بھی اندر آئے اور عامر کو ہنس کر کہا مشتاق یوسفی نے تو پندرہ برس بعد میری بیوی سے صلح کرا دی ہے۔۔

عامر کو سمجھنے میں کچھ دیر لگی کہ ان کی بات کا کیا مطلب تھا اور پھر وہ دونوں کافی دیر تک اکھٹے ہنستے رہے۔

مشتاق یوسفی کا جادو کام کر گیا تھا۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.