Friday, 23 April 2021
  1.  Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Apna Maal Do Number Nikla

Apna Maal Do Number Nikla

بڑی دلچسپ کہانی شروع ہوچکی ہے۔ اچانک حکمران پارٹی کو اس خطرے نے گھیر لیا ہے کہ ان کے پارٹی کے کچھ ایم این ایز اور ایم پی ایز کرپٹ اور لالچی ہیں اور پارٹی کو یقین ہے کہ یہ خود کوسینیٹ کے الیکشن میں برائے فروخت پیش کر دیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے بقول بلوچستان میں ایک ایک ووٹ کی بولی ستر کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ویسے میں بائیس برس سے پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کررہا ہوں، مجھے دو تین کروڑ روپے فی ووٹ کا ریٹ تو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سمجھ آتا ہے لیکن یہ ستر کروڑ روپے والی تو ایسی لمبی چھوڑی گئی ہے کہ بال ہی میدان سے باہر جا گری ہے۔ کون ہوگا جو پانچ دس ارب روپے لگا کرسینیٹر بنے گا اور بدلے میں وہ کیا پائے گا؟ سینیٹر کے پاس نہ اختیارات ہیں اور نہ ہی کوئی ترقیاتی فنڈز کہ وہ لمبا مال بنائے۔ زیادہ سے زیادہ چند کمیٹیاں ہیں جہاں بیٹھ کر وہ سرکاری بابوز پر کچھ رعب ڈال سکتے ہیں یا کوئی سرکاری ٹھیکہ لینے کی کوشش کرسکتے ہیں، لیکن سرکاری بابوز بھی اب ایسے گئے گزرے نہیں کہ بلوچستان کے پس ماندہ علاقوں سے اُٹھ کر انہیں کوئی ڈرا دھمکا کر پندرہ بیس ارب روپے کا منصوبہ لے جائے گا۔ مان لیا ان ٹھیکیداروں کیلئے سینیٹ اہم ہے کہ چلیں اس بہانے ایوانِ اقتدار کے قریب رہیں گے، بیوروکریسی سے دعا سلام رہے گی، کچھ چھوٹے موٹے کام نہیں رکیں گے، بہت بڑا دائو لگ گیا تو کوئی چھوٹا موٹا ٹھیکہ بھی مل جائے گا، لیکن ایک ایک ووٹ ستر کروڑ کا خریدنا بس ایک چھکا محسوس ہوتا ہے تاکہ لوگوں کو ڈرایا جاسکے کہ دیکھیں کتنا بڑا پیسہ سینیٹ میں چلتا ہے۔

مزے کی بات ہے کہ پی ٹی آئی خود حکومت میں ہے اور اسے ڈر ہے کہ اس کے ایم پی ایز اسے ووٹ نہیں ڈالیں گے۔ پاکستان جیسے ملکوں میں عموماً اپوزیشن رولا ڈالتی ہے کہ حکومتوں نے ان کے ووٹ توڑ لیے، یہاں (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی مزے سے چپ بیٹھی ہیں جبکہ پی ٹی آئی پچھلے ایک ماہ سے شدید panic کا شکار ہے۔ کابینہ میں اٹارنی جنرل سے بریفنگ تک لی گئی۔ فیصلہ ہوا کہ سپریم کورٹ کو کہیں کہ وہ حکومت کو اجازت دے کہ وہ قانون کے برعکس انہیں اوپن بیلٹنگ کی اجازت دے۔ اس پر بس نہیں کی گئی بلکہ فوری طور پر آرڈیننس بھی جاری کردیا گیا جس سے لگا کہ معاملہ اتنا سیدھا اور صاف نہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کے لوگ کیسے اور کب بکنے کو تیار ہوجاتے ہیں؟ اور اپوزیشن کے پاس کہاں سے طاقت آ جاتی ہے کہ انہیں خرید لے؟ اگر معاملات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ حکومت خوفزدہ ہے کہ اس کے ارکان کو بھی خریدا جا سکتا ہے توکیا اس حکومت کا کوئی اخلاقی جواز باقی ہے کہ وہ ملک پر حکمرانی کرے؟ لیکن نوبت یہاں تک پہنچی کیسے؟ اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ووٹ خیبرپختونخوا اور بلوچستان یا فاٹا کے ارکان بیچتے آئے ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں شاید اِکا دُکا، کیونکہ ایک سینیٹر بننے کیلئے جتنے ووٹوں کی ضرورت ہے وہ کوئی خریدنا افورڈ نہیں کرسکتا۔ ہاں پنجاب میں اگر ارکان ناراض ہوں تو پھر اپ سیٹ ضرور ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو چند برس پہلے پنجاب اسمبلی کے رکن محسن لغاری نے اُس وقت سب کو حیران کر دیا جب وہ پنجاب اسمبلی سے چالیس سے زائد ووٹ لے کرسینیٹر بن گئے حالانکہ ان کا تعلق کسی پارٹی سے نہ تھا۔ اسمبلی میں موجود چند ارکان نے فیصلہ کیا اور یوں بغاوت ہوئی۔ پنجاب اسمبلی میں اس دفعہ یہی خطرہ پی ٹی آئی کو ہے کہ اپنے جن ذاتی ارب پتی دوستوں کو وہ سینیٹر بنوانا چاہتے ہیں ان میں سے اکثریت کو تحریک انصاف میں کوئی نہیں جانتا۔ یہ سب اوپر سے اتری ہوئی مخلوق ہیں اوران کا ایک ہی میرٹ ہے کہ ان کی جیبیں بھری ہوئی ہیں اوروہ خان صاحب کو پسند ہیں یا ان کے دوست ہیں۔ یہ سب لوگ مطمئن ہیں کہ انہیں الیکٹ کرانا عمران خان کا سردرد ہے کیونکہ وہ ان کے مفادات کو سرو کرتے ہیں۔ خان صاحب پنجاب میں عثمان بزدار کی وجہ سے پہلے ہی دبائو میں ہیں کہ ان کا یہ فیصلہ ان کے علاوہ کسی کو راس نہیں آیا۔ وہ کبھی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی میں گھلے ملے نہیں۔ پھر اوپر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں کہ سرائیکی علاقوں کو کم از کم تین چار سیٹیں سینیٹ میں ملنی چاہئیں، لیکن وہاں سے توایک نام بھی سامنے نہیں آیا، لہٰذا خطرہ ہے کہ اس دفعہ بھی اگر سیکرٹ بیلٹ ہوتا ہے تو محسن لغاری کی طرح کچھ اور لوگ بیٹھے بٹھائے سینیٹر بن جائیں گے اور خان صاحب کے ارب پتی دوست منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ اس لیے حکومت کے پاس ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ اگر اپنی ان تگڑی پارٹیوں کوسینیٹر بنوانا ہے تو پھر سیکرٹ ووٹنگ کا رسک نہیں لیا جا سکتا۔ اس لیے انہوں نے ایک ماہ پہلے ہی رولا ڈالنا شروع کر دیا کہ سینیٹ میں الیکشن فروخت ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم فرماتے ہیں کہ بکائو مال اور کوئی نہیں ان کی اپنی پارٹی کے لوگ ہیں۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ ایسے ایماندار لوگ پارلیمنٹ میں لائوں گا کہ دامن نچوڑدیں تو فرشتے وضو کریں۔ لوگوں نے ان پر اعتبار کیا اور ان کے لوگوں کو ووٹ ڈالے، اب خان صاحب کہتے ہیں کہ ان کے ایم این ایز اور ایم پی ایز چور نکلے اور ووٹ بیچے۔ مزے کی بات ہے کہ پی ٹی آئی کا جو پارلیمانی بورڈ بنایا گیا اس میں عامر کیانی کا نام بھی شامل ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جو وزیر صحت تھے تو ادویات سکینڈل پر نکالے گئے۔ کیانی صاحب اب پاکستانی قوم کو ایماندارسینیٹرز چن کر دیں گے۔ ایک اور لطیفہ سنیں، ابھی پارلیمانی بورڈ کوسینیٹر بننے کے خواہشمند افراد کی درخواستیں، انٹرویوز، حتمی فہرست اورٹکٹ ایشوز ہونا باقی ہیں لیکن پورے ملک کو وہ نام معلوم ہوچکے ہیں کہ کون کو ن سینیٹر بن رہا ہے۔ ٹی وی چینلز بریکنگ خبریں چلا چکے۔ پھر اس سارے کھیل کی کیا ضرورت ہے جو پارلیمانی بورڈ کے نام پر کھیلا جارہا ہے؟

سینیٹ میں اس لیے لوگ ووٹ بیچ دیتے ہیں کہ انہیں علم ہوتا ہے کہ وہ ووٹ بیچ کر خرچہ پورا نہ کریں گے تو پارٹی سربراہ خود پارٹی فنڈ کے نام پر ٹکٹ بیچ کر پیسے جیب میں ڈال لے گا۔ اگر اس کا ووٹ بکنا ہے تو وہ خود دو تین کروڑ لے کر کیوں نہ بیچ دے؟ جب اسے علم ہے کہ یہ پارلیمانی بورڈز سب ڈراما ہیں تو وہ خود اس موقع سے فائدہ کیوں نہ اٹھائے؟ اگر خان صاحب نے اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر سینیٹرز کے نام مانگے ہوتے اورپارٹی کے جینوئن لیڈرز اور ورکرز کے نام دیے ہوتے تو ووٹ نہ بکتے۔ ووٹ اس وقت بکتا ہے جب ایم پی اے جانتا ہے کہ پارٹی کا سربراہ ایک نامعلوم ارب پتی سے پارٹی فنڈ لے چکا ہے۔

2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ بھاری معاوضے پر بیچے گئے تھے۔ اب بھی کابینہ میں دو تین وزیر ایسے بیٹھے ہیں جنہوں نے اپنے نیچے ایم پی ایز کو ٹکٹ دلوانے کے نام پر نئی لینڈ کروزر گاڑیاں لی تھیں۔ بعض نے کیش لیا تھا۔ جب پارٹی سربراہ ارب پتی لوگوں کو اپنا ذاتی دوست ڈکلیئر کر کے سینیٹ کا ٹکٹ بیچے گا تو پھر ایم پی اے اور ایم این اے کی آنکھوں میں عزت کھو بیٹھے گا۔ شیخ سعدی کی کہاوت ہے کہ اگر باد شاہ کسی باغ کا ایک پھل مفت کھائے گا تو اس کی فوج پورا باغ اجاڑ دے گی۔ اگر پارٹی کے اندر سے امیدوار لائے جاتے اورارب پتیوں کو سامنے نہ لایا جاتا تو مختلف سہارے نہ لینا پڑتے، میڈیا پر دن رات شور نہ مچانا پڑتا۔ جہاں سربراہ حکومت اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو چور، ڈاکو، لٹیرا اور رشوت خور سمجھتا ہو اس ملک کا کیا مستقبل ہوگا؟ آئیں ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں، جو بائیس سال دعویٰ کرتا رہا کہ دنیا کے ایماندار لوگ اکٹھے کر کے لارہا ہے اور اب وزیراعظم بننے کے ڈھائی برس بعد کہہ رہا ہے، سوری جنٹلمین میرا مال دو نمبر نکلا، مجھے اس سے بچائو اور ووٹنگ اوپن کرائو تاکہ کچھ ارب پتی دوستوں کا احسان اتر سکے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.