Saturday, 26 November 2022
  1.  Home/
  2. Orya Maqbool Jan/
  3. Qarz Ki Peetay Thay Mae

Qarz Ki Peetay Thay Mae

وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان کے خلاف عالمی سودی معیشت کی علمبردار قوتیں اپنی سازشوں کی تکمیل کے آخری مرحلے کو جلد پورا ہوتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ یہ مرحلہ بہت خوفناک ہے، ہر جاننے والا اس کے تصور سے بھی کانپ اُٹھتا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسی دُکان بن چکا ہے، جس کے کیش کائونٹر پر تالا لگایا جا چکا ہے۔ اب اس میں کیش ڈالا تو جا سکتا ہے لیکن نکالا نہیں جا سکتا۔ دُنیا کے ہر ملک کا ایک سینٹرل بینک ہوتا ہے، اسی طرح پاکستان کا بھی ایک سینٹرل بینک ہے جسے سٹیٹ بینک آف پاکستان کہتے ہیں، جو آئینی اور قانونی طور پر ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے۔ یہ پاکستان کا کیش کائونٹر ہے، مگر اب اس پر عالمی مالیاتی قوتوں (Global Financial Body) نے تالا لگا دیا ہے، کیونکہ اب یہی معاشی قوتیں اس کو کنٹرول کر رہی ہیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو اسکے معاشی اقتدارِ اعلیٰ (Financial Sovereignty) سے محروم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اب اپنے ہی سٹیٹ بینک سے رقم نہیں نکال سکے گی۔ یہ ایک انتہائی سخت فیصلہ ہے اور عالمی سودی نظام کی بدترین شقاوت کی علامت ہے۔ پاکستان اس دفعہ آئی ایم ایف کے پاس ایک عاجزانہ "درخواست" یعنی "عرضداشت" لے کر گیا ہے کہ اسے اپنے ہی ماتحت سٹیٹ بینک سے جی ڈی پی کے صرف دو فیصد کے برابر قرضہ لینے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنا موجودہ مالیاتی سال آسانی سے گزار سکے، لیکن آئی ایم ایف نے سفّاکانہ طور پر پاکستان کی یہ درخواست مسترد کر دی ہے، کیونکہ عالمی مالیاتی قوتوں کے نزدیک پاکستان نے پہلے ہی بہت زیادہ قرضہ لے رکھا ہے، جسے اسے بہرطور مسلسل ادا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک پاکستان کے خزانے میں اتنا سرمایہ نہیں آ جاتا کہ وہ قرضوں کی قسطیں ادا کر سکے، وہ اپنے ہی سٹیٹ بینک سے مزید قرض بھی نہیں لے سکتا۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان کا بیرونی قرضہ تقریباً 116 ارب ڈالر ہے، جس میں سے صرف 7 ارب ڈالر آئی ایم ایف کے ہیں، جبکہ باقی قرضہ، عیاشیاں اور اللّے تللے کرنے والے حکمرانوں نے ہر اس ملک یا مالیاتی ادارے سے لے رکھا ہے، جہاں سے بھی ممکن ہو سکتا تھا۔ پاکستان پیرس کلب کا گیارہ (11) ارب ڈالر کا مقروض ہے۔ یورپ اور دیگر ممالک میں پاکستان نے 12 ارب ڈالر کے یورو بانڈ اور سکوک بیچ رکھے ہیں، چین کے ہم 17 ارب ڈالر کے مقروض بن چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ہم نے دُنیا بھر میں جتنے بھی کثیر ملکی ڈونر گروپس (Multilateral Doners) گروپ موجود ہیں، ان سب سے کل ملا کر 33 ارب ڈالر قرض لے رکھا ہے۔ جبکہ باقی 40 ارب ڈالر دیگر بے شمار ممالک اور مالیاتی اداروں کا قرضہ ہے جن میں جی 20 اور او آئی سی کے ممالک بھی شامل ہیں۔ پاکستان کا عالم اس وقت اس بھکاری جیسا ہے جس نے ہر اس ملک، مالیاتی ادارے یا بینک سے قرضہ لیا ہوا ہے، جو دُنیا میں سودی قرض کا کاروبار کرتا ہے۔

قرض کی یہ کہانی یوں تو پچاس سال پرانی ہے، لیکن ضیاء الحق کی حکومت تک ہم پر اتنا ہی قرضہ تھا کہ ہم اسے باآسانی چند سالوں میں اُتار سکتے تھے۔ یہ قرضہ صرف 20.5 ارب ڈالر تھا، لیکن 90 کی دہائی میں دو جمہوری "لاڈلوں "، بے نظیر اور نواز شریف کی حکومتوں نے اس میں سالانہ 7.4 فیصد شرح سے اضافہ کیا اور 1999ء میں یہ قرض 37.8 ارب ڈالر ہو گیا۔ ان "جمہوریوں " کے دَور میں نہ صرف یہ کہ قرض میں اضافہ ہوا بلکہ ہماری فارن ایکسچینج کی ذمہ داری 256 فیصد سے بڑھ کر 333 فیصد ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ کہ ملک کی معیشت اس حد تک گر گئی اور ہمارے پاس فارن ایکسچینج اتنا کم ہو گیا کہ 1999ء میں ہم قرضوں کی قسط ادا کرنے کے قابل بھی نہ رہے، اور پھر اس کے بعد مزید قرضے لے کر قرض اُتارنے کے چکر کا آغاز ہوا۔

مشرف سے لاکھ نفرت کی جائے، اس کے نظریات قابلِ ملامت تھے، لیکن اس کے آٹھ سالہ دَور میں بیرونی قرض پہلے سے زیادہ نہیں بلکہ کم ہوا۔ مارچ 2007ء میں پاکستان کا بیرونی قرضہ کم ہو کر 34 ارب ڈالر رہ گیا۔ مشرف کے بعد پھر تین "عوامی لاڈلوں " کے ادوار شروع ہوئے، زرداری، نواز شریف اور عمران خان… بیرونی قرضوں کے اعتبار سے یہ پاکستان کے بدترین تیرہ (13) سال ہیں۔ یوں لگتا ہے ہر کسی نے اس مملکتِ خداداد پاکستان کو اونے پونے دام پر بیچنے کیلئے کمر کس رکھی تھی۔

زرداری اور نواز شریف کے دس سالہ ادوار میں 2018ء تک پاکستان کا بیرونی قرضہ 93 ارب ڈالر تک بڑھا۔ لیکن "نعرے باز لاڈلے "عمران خان کے پہلے سال یعنی 2019ء میں قرضہ بڑھ کر 100 ارب ڈالر ہو گیا، 2020ء میں 110 ارب ڈالر اور 2021ء میں اس وقت 116 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ ان تین سالوں میں عمران خان حکومت نے 23 ارب ڈالر قرض لیا ہے۔ وہ عمران خان جو 23 سال سے یہ نعرہ بلند کرتا رہا ہے کہ وہ ملک کو قرضوں کی غلامی سے نجات دلائے گا، یعنی اپنی ایک سالہ سیاسی تقریروں کے بدلے میں اس نے اس ملک کو ہر سال ایک ارب ڈالر کا قرض "تحفے" میں دیا ہے۔

پاکستان کی حالت اس وقت یہ ہے کہ ایک ملک کا قرضہ اُتارنے کیلئے دوسرے ملک سے قرض لیتا ہے اور ایک مالیاتی ادارے کا قرض اُتارنے کیلئے دوسرے مالیاتی ادارے سے قرض لیتا ہے اور اب حالت یہ آن پہنچی ہے کہ آئی ایم ایف نے پابندی لگا دی ہے کہ آئندہ سٹیٹ بینک جو بھی منافع کمائے گا وہ پاکستان کے خزانے میں منتقل نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان اب اس وقت تک سٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لے گا جب تک اس کے پاس اتنا سرمایہ موجود نہ ہو جائے کہ وہ بیرونی قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے قابل ہو سکے۔

پاکستان نے آئی ایم ایف سے التجا کی ہے کہ سٹیٹ بینک سے قرض لینا تو اس کا آئینی اختیار ہے، مگر آئی ایم ایف نے ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا اختیار صرف وہ ملک استعمال کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنی معاشی و مالیاتی خودمختاری قرضوں کی صورت عالمی معاشی سودی طاقتوں کے پاس گروی نہ رکھی ہو۔

عمران خان کی حکومت کے "معاشی پنڈت" اس کو ایک بار پھر غلامانہ ذہنیت والی پٹیاں پڑھا رہے ہیں۔ ہمیں ٹیکس بڑھا دینے چاہئیں، سبسڈیز ختم کر دینی چاہئیں، اخراجات میں کمی کر کے قرضوں کی ادائیگی کا بندوبست کرنا چاہئے۔ پاکستان کے یہ پچاس کے قریب معیشت دان ہیں جن کی تعلیم اور ان کا تعلیمی پسِ منظر عالمی طاقتوں کی غلامی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

یہ گذشتہ پچاس سالوں سے ہر حکومت کا حصہ بن جاتے رہے اور پھر آقائوں کی خوشنودی کیلئے حکومتوں کو مجبور کرتے رہے کہ وہ قرض لیں اور وقت گزاریں۔ پچاس سالوں سے ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے اور اس طرح یہ پاکستان کو دھکیلتے دھکیلتے بدترین دلدل میں پھینک چکے ہیں۔ یہ "معاشی پنڈت" وہ معاشی غارت گر ہیں جن میں سے اکثر ان عالمی مالیاتی اداروں کے پے رول (Pay Roll) پر رہے ہیں، بلکہ آج بھی وہ جب چاہیں ان سے دوبارہ وابستہ ہو جاتے ہیں۔

پاکستان نے جس دن یعنی 15 نومبر 1958ء کو امریکہ کے کہنے پر محمد شعیب کو وزیر خزانہ لگایا، اس دن سے ہی ہمارے معاشی زوال کا آغاز ہو گیا تھا۔ اب راستہ کیا ہے؟ تین ہی راستے ہیں۔ (1) عوام کا خون نچوڑو اور قسط ادا کرو، (2) دیوالیہ ہو جائو کہ ایسا بے شمار ملک کر چکے یا پھر (3) اس عالمی سودی معاشی نظام سے بغاوت کا اعلان کر دو۔ (کل ان تمام اور ان میں سے بہتر راستے کے انتخاب پر بات ہو گی۔)

About Orya Maqbool Jan

Orya Maqbool Jan is a columnist, writer, poet and civil servant from Pakistan. He has written many urdu columns for various urdu-language newspapers in Pakistan. He has also served as director general to Sustainable Development of the Walled City Project in Lahore and as executive director ECO, Cultural Institute, Tehran and information secretary to the government of the Punjab.