Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Meri Samah Mein Na Aane Wala Cricket Ka Khel Aur Hamari Hybrid Siasat

Meri Samah Mein Na Aane Wala Cricket Ka Khel Aur Hamari Hybrid Siasat

کرکٹ جب بھی کسی تنازعہ کا شکار ہوتی ہے تو مجھے مقصود احمد صاحب بہت یاد آتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد 1952ء سے 1955ء تک وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لئے کھیلتے رہے۔ انتہائی وجیہہ شخص تھے اور انہیں پنجابی زبان کی برجستگی اور مزاح پر قابل رشک گرفت حاصل تھی۔ برطانوی پریس نے انہیں میری میکس پکارا اور یہ نام ان کے ساتھ ہمیشہ کیلئے چپک گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بطور بلے باز انہیں تیز رفتاری سے 100رن بنانے کا جنون لاحق تھا اور اس جنون کی وجہ سے غالباََ تین بار چند ا ہم ترین میچوں میں 99کے رن پر آؤٹ ہوگئے تھے۔

1980ء کی دہائی میں انگریزی کے اسلام آباد سے شائع ہونے والے روزنامہ "دی مسلم" کا ملازم ہوا تو سیاست اور عالمی امور پر رپورٹنگ سے قبل ثقافتی امور کے بارے میں کالم لکھا کرتا تھا۔ جرائم بھی رپورٹ کرتا۔ مقصود احمد صاحب کا خیال تھا کہ میں چھوٹے فقروں میں لکھتے ہوئے اشاروں کنایوں میں "چھکا" ماردیتا ہوں۔ ان کی بہت خواہش تھی کہ میں لکھنے کی صلاحیت کرکٹ میچوں پر تبصرہ آرائی کے لئے بھی آزماؤں۔ اس ضمن میں مائل کرنے کو اکثر دوپہر کا کھانا کھلانے آبپارہ کے ایک اچھے ریستوران لے جاتے اور گھنٹوں میز پربیٹھے کرکٹ کے ذکر میں محور ہتے۔

کرکٹ کا کھیل مگر بچپن ہی سے مجھے "عجیب" محسوس ہوتا تھا۔ گیارہ کھلاڑیوں کا کریز پر موجود بلے باز کو آؤٹ کرنے کے لئے میدان میں سارا دن کھڑے رہنا مجھے وقت کا زیاں محسوس ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ بھی آج تک سمجھ نہیں پایا کہ بلے باز ایل بی ڈبلیو کی وجہ سے کیوں اور کیسے آؤٹ قرار دے کر میدان سے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ ہر کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے۔ میرے بچپن میں لیکن کرکٹ میچ پانچ دنوں تک جاری رہتے جن میں ایک دن کا وقفہ بھی ہوا کرتا۔ پانچ دن تک جاری رہے مقابلے کے انجام پر بھی کسی ٹیم کی ہار یا جیت کے بجائے میچ کے برابر رہنے کا اعلان کردیا جاتا۔ اس کے علاوہ مڈ ان، کور شاٹ اور گگلی وغیرہ جیسی بے شمار اصطلاحات تھیں جو میری فہم سے بالاتر تھیں۔

میری میکس جنہیں مرحوم لکھنے کو جی نہیں چاہتا نہایت اعتماد سے میرے اعترافِ جہالت کو نظرانداز کردیتے۔ شفیق بزرگ کی طرح کرکٹ کے "کمرشل" ہوجانے کے بارے میں دُکھی ہوجانے کے باوجود وہ یہ محسوس کرتے کہ مستقبل میں ٹی وی کی بدولت مشہور ہورہا یہ کھیل جنوبی ایشیاء کے ہر گھر میں مقبول ہوجائے گا۔ ناظرین کو اس کھیل کا عادی بنانے کے لئے میچوں کے دورانیے کم سے کم گھنٹوں تک محدود کردئیے جائیں گے۔ ان کے زمانے ہی میں "ون ڈے میچ" متعارف ہوچکے تھے۔ وہ انہیں مزید کم وقت تک محدود ہوتا دیکھ رہے تھے۔ اخبار کے علاوہ وہ ریڈیو اور ٹی وی پر کرکٹ میچ کے دوران رواں تبصرے بھی کیا کرتے۔ غالباََ اس کی وجہ سے میری میکس فطری طورپر بھانپ گئے کہ کرکٹ بالاخر ہمارے ہاں جی کو بہلانے کا مقبول ترین کھیل بن سکتا ہے اور مجھے بطور صحافی اپنا مستقبل روشن وخوشحال بنانے کے لئے اس کھیل کی رپورٹنگ پر توجہ مبذول کردینی چاہیے۔ میری اس ضمن میں "اتالیقی" کے لئے ان میچوں کا مشاہدہ کرنے اپنے ہمراہ لے جانے کو بھی ہمہ وقت آمادہ تھے جن پر تبصرہ آرائی کے لئے انہیں مدعو کیا جاتا۔ سیاست اور عالمی امور پر تبصرہ آرائی مگر میری حقیقی ترجیح تھی۔ مرحوم کو غچہ دیتا رہا اور آج پچھتارہا ہوں۔

سیاست ہمارے ہاں "ہائی برڈ" ہوجانے کے بعد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ بین الاقوامی امور بھی عالمی اشرافیہ رعایا کے سامنے لانا نہیں چاہتی۔ گزشتہ دو برسوں سے یہ کالم لکھنے سے قبل کئی گھنٹے سوچنا پڑتا ہے اور سوشل میڈیا کی متعارف کردہ "برق رفتاری اور حق گوئی"کے مقابلے میں اپنا لکھا "فدویانہ" اور ناکارہ محسوس ہوتا ہے۔ کاش بروقت میری میکس کے حکم کی تعمیل کرلی ہوتی۔

بہرحال لاہور میں بسنت کے آمد کے علاوہ ان دنوں ریگولر اور سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ رش وہ تنازعہ لے رہا ہے جو بھارت نے اپنی رعونت کی وجہ سے کرکٹ جیسے کھیل پر مسلط کیا ہے۔ یہ کھیل کبھی "شرفاء " کے لئے مختص تصور ہوتاتھا۔ اب مگر "عوامی" ہوگیا ہے۔ ٹی-20اس کا مقبول ترین فارمیٹ ہے۔ ڈرامائی ہیجان کے بے شمار لمحات کی تخلیق کے بعد یہ ہار اور جیت کا فیصلہ بھی سناتا ہے۔ اب اس فارمیٹ کا ورلڈ کپ ہوتا ہے جس کا "میزبان" بھارت ہے۔ بنگلہ دیش مگر جائز خدشات کی بنیاد پر بھارت جاکر کوئی میچ کھیلنا نہیں چاہ رہا تھا۔ "سکیورٹی خدشات" کی بنیاد پر کسی ملک جاکر وہاں کے سٹیڈیم میں کھیلنے سے انکار کی بدعت بھارت ہی نے متعارف کروائی تھی۔ اسے کھلے دل کے ساتھ بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کے خدشات کا احترام کرنا چاہیے تھا۔ وہ خود پاکستان آکر بین الاقوامی مقابلوں کے لئے میچ کھیلنے سے "سکیورٹی خدشات" کے نام پر ہی انکار کرتا رہا ہے۔ پاکستان کے اسی ضمن میں خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے ٹی -20 ورلڈ کپ مقابلوں کے لئے ہماری ٹیم کے میچ بھارت کے بجائے سری لنکا میں کروانے کا فیصلہ ہوا۔ یہ سہولت بنگلہ دیش کو بھی فراہم کی جاسکتی تھی۔

کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم-آئی سی سی- مگر ان دنوں بھارت کی یرغمال ہوچکی ہے۔ بھارت کی ڈیڑھ ارب سے زیادہ آبادی کے علاوہ بھی اس کی بے شمار وجوہات ہیں۔ ان کے تذکرے میں الجھنے کے بجائے فی الحال توجہ اس امر پر دینا ہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش سے اظہار یکجہتی دکھانے کے لئے بھارت کے ساتھ سری لنکا میں بھی میچ کھیلنے سے انکار کردیا۔ ہمارے انکار سے بھارت تلملا اٹھا ہے۔ آئی سی سی سے مطالبہ ہورہا ہے کہ وہ پاکستان کو اس کی "گستاخی" کا سبق سکھائے۔

یہ بات برحق ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ہوئے کرکٹ میچ کو جنوبی ایشیاء ہی میں نہیں دنیا بھر میں اس خطے سے جاکر آباد ہوئے افراد بہت چاؤ سے دیکھتے ہیں۔ اس کی لائیو کوریج کے لئے دنیا بھر کے سپورٹس چینل تخلیقی انداز اپنانے کی مشق میں مبتلا رہتے ہیں۔ ان کی محنت اشتہاری کمپنیوں کو مختلف اشیائے صرف کی مشہوری کے لئے بھاری بھر کم سرمایہ خرچ کرنے کو اُکساتی ہے۔ پاکستان کا بھارت سے سری لنکا میں بھی میچ کھیلنے سے انکار ٹی-20کے مقبول ترین میچ کی عدم موجودگی کے سبب ہوئے ٹورنامنٹ کو بے رونق بنادے گا۔ ہمارے ہاں کے سپورٹس چینلوں کے مقابلے میں بھارت سمیت چند عالمی سپورٹس چینل بھی اس کی وجہ سے کروڑوں ڈالر کے دھندے سے محروم ہوجائیں گے۔

ممکنہ نقصانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھارت اب نہایت مکاری سے یہ فضا بنانے کی کوشش کررہا ہے کہ پاکستان کو یہ ٹورنامنٹ بے رونق بنانے کا واحد ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس کی وجہ سے ہوئے مالی نقصانات کا "کفارہ" ادا کرنے کو مجبور کیا جائے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ بھارت کے ساتھ ٹی -20کا میچ کھیلنے سے انکار کے تمام مضمرات کا حکومت پاکستان اور کرکٹ بورڈ نے تفصیلی جائزہ لے لیا ہوگا۔ اسی باعث حتمی فیصلے کے اعلان سے مناسب وقت سوچ بچار کے لئے وقف ہوا۔ بنگلہ دیش سے محبت کے اظہار کے لئے ہر قیمت برداشت کرنے پر آمادگی ہراعتبار سے بہادرانہ فیصلہ ہے۔

کرکٹ کی مبادیات سے لاعلم ہونے کے باوجود سفارت کاری کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے انتہائی عاجزی سے البتہ میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ احتجاج اور کسی دوست ملک سے یکجہتی کے اظہار کو انصاف کی طرح بھرپور انداز میں نظرآنا چاہیے۔ اس تناظر میں میری خواہش تھی کہ بنگلہ دیش کی حمایت میں اپنے جذبات کے اظہار کے بعد پاکستان کو ٹی-20مقابلے میں اپنی شرکت کے بارے میں خاموشی اختیار کرلینا چاہیے تھی۔ جس روز پاکستان کا بھارت کے ساتھ مقابلہ ہونا تھا اس روز ہماری ٹیم کالی پٹیاں باندھ کر میدان میں اترتی تو دنیا بھر کے سپورٹس چینلوں کے روبرو بھارتی ٹیم کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا کہ اس نے بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرتی پاکستان ٹیم کے ساتھ یہ میچ کھیلنا ہے یا نہیں۔ یوں بھارت اور دنیا کو حیران کرنے کا Initiative(پیش قدمی) ہمارے ہاتھ ہی رہتا۔ بھارت کو بھرپور انداز میں شرمندہ کرکے مخمصے میں ڈالنے کا ایک بہترین موقعہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.