Monday, 22 June 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Mamlat Bilakhir 19 June Walay Maqam Par Aa He Gaye

Mamlat Bilakhir 19 June Walay Maqam Par Aa He Gaye

طے یہ ہوا تھا کہ 19جون 2026ء بروز جمعہ امریکی نائب صدر جنیوا میں ایرانی قومی سلامتی کے سپیکرکے ساتھ بیٹھ کر ایک "مفاہمتی یادداشت" پر دستخط کریں گے۔ اس موقعہ پر پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بھی بطور ثالث، سہولت کار یا گواہ کی صورت وہاں موجود ہوں گے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوجانے کے بعد اس یادداشت میں طے کئے گئے نکات پر عمل درآمد کے لئے ا یران اور امریکہ کے وفود آئندہ 60دنوں تک مسلسل مذاکرات کرتے ہوئے دیرپا امن کے قیام کی راہ بنائیں گے۔

ایران اور امریکہ کے مابین "مفاہمتی یادداشت" کے حوالے سے جو طے ہوا تھا اسے امریکی صدر نے 15جون کو پیرس پہنچنے کے بعد یکسر بھلادیا۔ موصوف وہاں G-7کے اجلاس میں شرکت کے لئے گئے تھے۔ فرانس ان کا میزبان تھا۔ مذکورہ کانفرنس میں شرکت کے لئے متحدہ عرب امارات، بھارت اور مصر کے سربراہان کو بھی بطور آبزرور خصوصی طورپر مدعو کیا گیا تھا۔ ان تینوں سے ملاقاتوں کے دوران ٹرمپ کو احساس ہوا کہ امریکہ "تاریخ ساز" معاہدے کی جانب بڑھ رہا ہے اور ٹرمپ کو "تاریخ" میں نام لکھوانے کا جنون لاحق ہے۔

ٹرمپ کی تاریخ سے محبت کی شدت سے نآشنا فرانسیسی صدر نے موصوف کو پیرس کے نواح میں واقع وخسائی محل بلالیا۔ انگریزی میں اسے "Versailles" لکھا جاتا ہے۔ فرانسیسی مگر انگریزی حرف (R)کو اردو حرف (ر)کی طرح ادا نہیں کرتے۔ اردو حرف(خ) کی طرح بولتے ہیں۔ وخسائی کے عظیم الشان محل میں لاہور کے شاہی قلعہ میں تعمیر ہوئے شیش محل جیسا ایک ہال بھی ہے۔ وہاں فرانسیسی صدر نے امریکی صدر کو کھانے کے لئے مدعو کیا۔ کھانے کے دوران ٹرمپ کو معلوم ہوا کہ جس مقام پر وہ موجود ہے وہیں 28جون 1919ء کے روز دنیا کے چار بڑے ممالک کے سربراہان بھی ملے تھے۔

فرانس، برطانیہ اور اٹلی ان دنوں دنیا کی تین بڑی سامراجی قوتیں تھیں۔ انہیں خوف لاحق تھا کہ ان دنوں کا جرمنی اور خلافت عثمانیہ باہم مل کر ان کے اجارہ کو للکارنے کی تیاری کررہی ہیں۔ امریکہ اس قضیے سے الگ تھلگ ہوا معاشی اعتبار سے ان سب قوتوں کے مقابلے میں توانا سے تواناتر ہورہا تھا۔ یورپی ممالک مگر پہلی جنگ عظیم میں الجھ گئے۔ پانچ برسوں تک پھیلی اس جنگ نے سامراجی قوتوں کو کمزور تر بنایا۔ وقتی طورپر اگرچہ آسٹرو، ہنگری سلطنت(جرمنی) اور خلافت عثمانیہ برطانیہ، فرانس اور اٹلی کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوئیں۔ ان دونوں ممالک کو مدعو کئے بغیر برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے امریکہ کو اپنے ساتھ ملاکر "معاہدہ وخسائی" پر دستخط کردئے۔ اس "معاہدے" میں درحقیقت شکست خوردہ جرمنی اور خلافت عثمانیہ پر اپنی شرائط مسلط کرتے ہوئے صلح کا اعلان کردیا گیا۔

وخسائی محل میں 2026ء کے جون میں بیٹھے ہوئے ٹرمپ کو یاد آگیا کہ اس کے ملک نے بھی ایران پر رواں برس کے مارچ میں ایک جنگ مسلط کی تھی۔ اسرائیل نے اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ جن اہداف کے حصول کے لئے وہ جنگ مسلط کی گئی تھی ان میں سے مگر ایک بھی ہدف حاصل نہ ہوا۔ امریکہ تھک کرجنگ بندی کو مجبور ہوا۔ جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز بحری تجارت کے لئے محفوظ نہ رہی۔ اس کی بندش نے تیل اور گیس ہی نہیں بلکہ مختلف النوع کھادوں کو بھی دنیا کے لئے نایاب بنانا شروع کردیا۔ دنیا کو یہ خوف بھی لاحق ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جو جنگ مسلط کی ہے اس کی بدولت پھیلی بے یقینی دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل سکتی ہے۔

ممکنہ جنگ سے گریز کے لئے پاکستان سے رجوع کرنا پڑا۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات بروئے کار لاتے ہوئے وہاں کی قیادت کو جنگ بندی اور بعدازاں دیرپا امن کی راہیں ڈھونڈنے کو مائل کردیا۔ کئی دنوں کی محنت سے بالآخر ایک 14نکاتی دستاویز تیار ہوئی جس پر 19جون کو جنیوا میں دستخط ہونا تھے۔ وخسائی محل کی شان وشوکت اور پہلی جنگ عظیم کے خاتمے میں اس محل کی اہمیت نے ٹرمپ کو یاد دلایا کہ اس کا ملک بھی وخسائی معاہدے جیسی ایک تاریخی دستاویز پر دستخط کرنے والا ہے۔ جو دستاویز تیار ہورہی ہے اس پر مگر اس کے نہیں بلکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دستخط ہوں گے۔

تاریخ میں نام رقم کروانے کی چاہ میں تاہم ٹرمپ نے مذکورہ دستاویز پر ازخود دستخط کا فیصلہ کرلیا۔ ایرانی قیادت دریں اثناء￿ مذکورہ دستاویز پر دستخط کے لئے سوئٹزرلینڈ آنے کو تیار نہیں تھی۔ ایرانی ریاست کے چند طاقتور مگر انتہاپسند گروہوں کی تمنا یہ بھی تھی کہ ایران اس ملک یعنی امریکہ کے نمائندوں سے "صلح" کے لئے ہاتھ ملاتا نظر نہ آئے جس نے 28فروری کو ان کے رہبر اعلیٰ اور روحانی رہنما کو شہید کیا تھا۔ یاد رہے کہ شہید ہوئے رہبر اعلیٰ کی ابھی تک رسمی تدفین بھی نہیں ہوئی ہے۔ قطر کے ذریعے ایران کو پیغام بھجوایا گیا کہ ٹرمپ مفاہمتی یادداشت پر اپنے دستخط کرنے کو آمادہ ہے۔

ایرانی صدر بھی اپنے وطن کی مٹی چھوڑے بغیر اس دستاویز پر دستخط ثبت کرسکتے ہیں۔ وہ رضا مند ہوگئے اور پاکستانی وقت کے مطابق گزشتہ بدھ کی رات "مفاہمتی یادداشت" پر امریکہ اور ایران کے صدور نے دورِ حاضر کی "ورچوئل دنیا" کے رواج کے مطابق دستخط ثبت کردئے۔ پاکستان کو اس پر دستخطوں سے چند ہی گھنٹے قبل اعتماد میں لیا گیا۔ امریکی اور ایرانی صدور کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکی نائب صدر کی جنیوا روانگی کار بے سود نظر آئی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا دورہ بھی منسوخ کرنا پڑا اور ایرانی وفد کو اپنے وطن کی مٹی چھوڑنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔

جمعرات کی صبح اٹھنے کے بعد مجھے بدھ کی رات گئے پیرس اور تہران میں ہوئے دستخطوں کا علم ہوا تو دو ٹکے کا صحافی یہ لکھنے کو مجبور ہوا کہ امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کے ساتھ "ڈائریکٹ" ہوجانے کے بعد پاکستان کو ان دونوں کے مابین طے ہوئے معاہدے کا "ضامن" ہونے سے اجتناب برتنا چاہیے۔ عالمی امور کا عاجز طالب علم ہوتے ہوئے مجھے کامل یقین تھا کہ جس دستاویز پر محض تاریخ میں اپنا نام رقم کرنے کے جنون میں ٹرمپ نے وخسائی محل کے ماحول سے مغلوب ہوکر دستخط کئے ہیں اس پر عملدآمد انتہائی دشوار ہوگا۔

ایران پر جو جنگ مسلط ہوئی اس کا محض امریکہ ہی ذمہ دار نہیں۔ اسرائیل اس جنگ میں امریکہ کا بھرپور شراکت دار رہا۔ امن کے لئے ہوئے مذاکرات سے مگر اسے باہر رکھا گیا۔ صلح کے مذاکرات یقینی بنانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ہم مگر اسرائیل کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ پاکستانی پاسپورٹ پر واضح الفاظ میں اسرائیل کا سفر ممنوع ٹھہرایا گیا ہے اور اسرائیل فقط ایران ہی سے جنگ میں مصروف نہیں۔ اس کے شمال میں لبنان نام کا ملک بھی ہے۔ اس ملک کے جنوبی علاقوں میں پہاڑی سلسلوں کی وادیوں میں موجود حزب اللہ کے کٹر حمایتی اکثریت میں ہیں جو مسلکی ہی نہیں بے تحاشہ تاریخی وجوہات کی بدولت ایران کے نہایت قریب ہیں۔

امریکہ اور ایران کی جانب سے یہ فرض کرلینا بچگانہ سادگی کا اظہار تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ ان کے محض "طفیلی" ہیں۔ ان دو فریقین کو مذاکرات کے عمل سے الگ رکھتے ہوئے جو "مفاہمتی یادداشت" تیار ہوئی اس پر عملدرآمد اسرائیل اور حزب اللہ بھی یقینی بنائیں گے۔ لبنان کے تاریخی تناظر کو نگاہ میں رکھتے ہوئے میں ہرگز حیران نہ ہوا جب اسرائیل نے لبنان کے جنوبی علاقوں سے اپنی فوجیں نکالنے سے انکار کردیا۔ جنگ بندی کے باوجود حزب اللہ بھی اپنے ہاں موجود اسرائیلی فوج کے دستوں پر چند مقامات پر میزائل اچھالتے ہوئے اپنی "خودمختاری" یاددلاتی رہی۔

اسرائیل نے اس خودمختاری کا وحشیانہ قوت سے جواب دیا تو ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کردیا۔ ایران کو اسے کھلارکھنے کو رضا مند کرنے کے لئے امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان سے رجوع کیا۔ اتوار کی صبح یہ کالم لکھنے کے وقت تک امریکی نائب صدر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی وفد بھی وہاں موجود ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈمارشل بھی بطور ثالث وہاں جانے کو مجبور ہوئے۔ معاملات گویا اسی مقام پر آگئے ہیں جہاں انہیں 19جون 2026ء کے روز ہونا تھا۔ ٹرمپ نے تاریخ میں نام رقم کروانے کی چاہ میں عجلت برتی۔ اب اس کا خمیازہ بھگتا جارہا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.