Thursday, 12 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Gabu Ki Sahirana Haqiqat Nigari Aur Aabna e Hormuz Ka Qaziya

Gabu Ki Sahirana Haqiqat Nigari Aur Aabna e Hormuz Ka Qaziya

گبرائیل گارسیامارکوئز جسے لوگ پیار سے گابو پکارتے رہے ہیں لاطینی امریکہ کا روایت شکن ناول نگار تھا۔ کہانیاں لکھنے کے لئے اس نے جو انداز متعارف کروایا اسے ساحرانہ حقیقت نگاری (Realism Magical)کہا جاتا ہے۔ بنیادی طورپر یہ وہ انداز ہے جو بزرگ خواتین بچپن میں ہمیں سلانے کو سنائی کہانیوں میں استعمال کیاکرتی تھیں۔ ان کہانیوں میں جن ممالک یا خطوں کا ذکر ہوتا ہے بے نام ہوا کرتے تھے۔ اکثر ان کا آغاز کسی حسین شہزادی کے ذکر سے ہوتا جس کے حسن کے چرچے سن کر کوئی دلاور اس کا دل جیتنے گھربار چھوڑ کر نکل پڑتا۔ دور دراز کے سفرکے بعد مگر حسین شہزادی کی چند خواہشات کے حصول کے لئے اسے مزید پرخطر سفر کرنا پڑتے۔

داستانوں کے انداز کو دورِ حاضر کے حقائق بغیر پکڑائی دئے بیان کرنے کے لئے گابو نے ساحرانہ حقیقت نگاری کی طرز ایجاد کی تھی۔ جوانی میں لیکن اسے ادب سے کہیں ز یادہ صحافت کے ساتھ جنون کی حد تک لگائو تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنا شہرچھوڑ کر دوسرے شہر چلاگیا۔ وہاں کے لوگوں کے مزاج ورہن سہن سے وہ قطعاََ نآشنا تھا۔ صحافیوں کو کسی بھی ملک میں قابل رشک تنخواہیں نہیں ملتیں۔

گابو کے بارے میں لکھی کتابیں بتاتی ہیں کہ جوتنخواہ اسے ملاکرتی اس کا آدھے سے زیادہ حصہ اس کمرے کا کرایہ ادا کرنے میں خرچ ہوجاتا جہاں وہ سویاکرتا تھا۔ رات گئے کام کرنے کے بعد بھی مگر اسے ہوٹل کے کمرے میں سونادشوار ہوجاتا کیونکہ اس کے متعدد کمرے دیگر شہروں سے آئے افراد مشکوک اور غیر اخلاقی حرکات کیلئے استعمال کرتے تھے۔ وہاں بیٹھ کر وہ لکھ پڑھ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس لئے اکثر اخبار کا کام ختم کرکے اس کے تہہ خانے میں قائم پریس میں چلاجاتا اور اخبار چھاپنے کے لئے آئے کاغذ کے دستوں پر لیٹ کر ہی نیندپوری کرنے کی کوشش کرتا۔

صحافت سے جنونی لگن کے باوجود گابو کو مگریہ پیشہ چھوڑنا پڑا۔ بنیادی وجہ اس کی زیادہ رقم کمانے کی ہوس نہیں تھی۔ وہ لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا سے تعلق رکھتاتھا۔ وہ ملک آج دنیا بھر میں منشیات فروشوں کے مافیاز کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ان پر قابو پانے کے بہانے کولمبیا کے عسکری ادارے اکثراقتدار پر قبضہ کرلیتے۔ آمرانہ ادوار میں اخبار چھپنے سے پہلے سنسر سے پاس ہونے کو بھجوانا لازمی تھا۔ گابو لہٰذا یہ طے کرنے کو مجبور ہوگیا کہ صحافت کے ذریعے وہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ نہیں رکھ سکتا۔ وطن چھوڑ کر میکسیکو چلا گیا۔ جلاوطنی میں اس نے ناول نگاری پر توجہ دی۔

ناول لکھنے کے دوران گھر میں موجود تقریباََ ہر قیمتی شے یا زیور کو بیچنا یا گروی رکھنا پڑا۔ بالآخر اس کا ناول چھپ گیا تو دنیا میں تھرتھلی مچ گئی۔ "سو سال کی تنہائی"کے عنوان سے چھپا یہ ناول کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ اس کی وجہ سے اسے ادب کا نوبل انعام ملا۔ بہت زیادہ شہرت اور قابل رشک خوشحالی کے باوجود مگر وہ اپنے اندر موجود صحافی سے نجات پا نہ سکا۔ بھیس بدل کر ایسے ملکوں کی طرف نکل جاتا جو سخت گیر آمریت کی جکڑ میں تھے۔ ان ملکوں میں کچھ دن گزارکر سفرنامے لکھتے ہوئے "صحافتی جستجو" کی تشفی کرلیتا۔

یہاں تک پہنچتے ہی خیال آیا ہے کہ جو کالم لکھ رہا ہوں اس کا مقصد کیا ہے۔ اردو اخبار کے روایتی قارئین کو پاکستان سے کہیں دور واقع لاطینی امریکہ کے ایک ملک میں پیدا ہوکر صحافی سے شہرہ آفاق ناول نگار ہوئے گابو کی سوانح عمری جاننے میں کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ "ساحرانہ حقیقت نگاری" سراہنے میں بھی اپنا وقت وہ کیوں ضائع کرے۔ فی الوقت تو یہ جاننا چاہ رہا ہوگا کہ رواں مہینے کا آغاز ہوتے ہی ایران پر مسلط کردہ جنگ ختم کب ہوگی۔ یہ جنگ ختم ہوگی تو اسے قابل برداشت داموں کے عوض اپنے موٹرسائیکل ا ور گاڑی کیلئے پٹرول، چولہا جلانے کے لئے گیس یا مٹی کا تیل میسر ہوگا یا نہیں۔ اگر وہ کاشت کار ہے تو مارچ کا اختتام ہوتے ہی اسے گندم کی کٹائی کے لئے تھریشر چلانے کے لئے ڈیزل درکا ر ہوگا۔ اس کی پیداکردہ غذائی اجناس کو منڈیوں تک پہنچانے کے لئے بھی ڈیزل کی ضرورت ہوگی۔ ڈیزل، پٹرول اور گیس فقط ان ہی ضروریات کے لئے درکار نہیں۔

ہمارے گھروں کو جو بجلی روشن رکھتی ہے وہ بھی ان ہی کے ذریعے بنائی جاتی ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور گیس کا تقریباََ 80فی صد غیر ممالک خصوصاََ برادرخلیجی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ کویت انہیں فراہم کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے سعودی عرب ہماری اقتصادی مشکلات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اکثر ہمیں ادھار پر خام تیل کی بھاری بھر کم مقدار فراہم کرنے کو رضا مند ہوجاتا ہے۔

برادر ممالک کی فراخ دلی کے باوجود ہم مگر وہاں کی گیس اور خام تیل حاصل کرنے میں بے شمار دشواریوں کا سامنا کرسکتے ہیں۔ وجہ اس کی فقط رواں مہینے کے آغاز سے جاری جنگ ہے۔ ایران خود پر ہوئے حملے کا بدلہ لینے کے لئے اسرائیل کی جانب ڈرون اور میزائل اچھالتا رہتا ہے۔ ایران سے پھینکے ان میزائلوں کو خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات سے خود کار نظام کے تحت متحرک ہوئے "چوکیدار ہتھیار" فضا ہی میں تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایران سے پھینکے ہتھیار کو ناکارہ بنادیا جائے تو اس کا ملبہ عمارتوں اور تیل کے کارخانوں یا انہیں لادکر بیرون ملک لے جانے والے جہازوں پر بھی گرسکتا ہے۔

ہر حوالے سے وہاں خیروعافیت بھی رہے تو ان ممالک سے خام تیل یا ایل این جی لاد کر پاکستان کے لئے روانہ ہوئے جہازوں کو ایران کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے گزرنا ہوگا۔ 33کلومیٹر لمبی یہ آبنائے اکثر مقامات پر فقط ایک بڑے جہاز کو گزرنے کی راہ فراہم کرسکتی ہے۔ اپنی آسانی کے لئے یوں سمجھ لیں کہ لاہور سے موٹروے کے ذریعے اسلام آباد آتے ہوئے کلرکہار کے چند مقامات پر سڑک اتنی تنگ ہوجائے کہ وہاں سے فقط ایک ٹرک، گاڑی یا ویگن ہی گزرسکے۔

دنیا کی اجتماعی ضرورت کا 20فیصد تیل اور گیس اس آبنائے سے گزرکر ہی جنوب اور مشرقی ایشیاء کے ممالک پہنچایا جاسکتا ہے۔ بھارت اور چین کے علاوہ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ امریکی صدر یقین دلائے چلے جارہا ہے کہ وہ دنیا کو تیل کی ترسیل یقینی بنائے گا۔ آبنائے ہرمز سے گزرتی ٹریفک کو مگر اس کے جدید اور مہلک ترین ہتھیاروں سے لیس دیوہیکل جنگی جہاز تحفظ فراہم نہیں کرسکتے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں لگاکر مذکورہ آبنائے کو کئی مہینوں تک بند رکھا جاسکتا ہے۔ جغرافیائی حقائق سے سرسری آگہی آپ کو آبنائے ہرمز کی اہمیت پر توجہ دینے کو مجبور کرتی ہے۔

اس کے نتیجے میں آپ سوالات اٹھانے کو مجبور ہوجاتے ہیں۔ جو سوالات ذہن میں آتے ہیں تعلق ان کا خارجہ امور سے ہے اور سرکار مائی باپ ہمیں یاد دلانا شروع ہوگئی ہے کہ آئین پاکستان کا تقاضہ ہے کہ میرے اور آپ جیسے رعایا کے کمی کمین خارجہ امور کو زیر بحث لانے سے گریز کریں۔ جس کا کام اسی کو ساجھے کا رویہ اختیار کرتے ہوئے سرکار کو خارجہ امور کے بارے میں فیصلے کرنے دیں۔ اس کے بعد وگرنہ، استعمال ہوتا ہے۔ وگرنہ کے خوف سے مفلوج ہوا ذہن گابو اور اس کی متعارف کردہ ساحرانہ حقیقت نگاری یاد کرنے کو مجبور ہوگیا حالانکہ عمر کے اس حصے میں صحافت کے علاوہ کچھ اور کرنے کے قابل ہی نہیں رہا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.