مجھ جیسے سادہ لوح صحافی پاکستان کے جمہوری بندوبست کے "ہائی برڈ" ہوجانے کے بعد اداس، شرمندہ اور پریشان محسوس کرتے ہیں۔ ہائی برڈ نظام کی بدولت ریاست و حکومت کے اہم ترین فیصلے پارلیمان کے ایوان میں نہیں بند کمروں میں ہوتے ہیں۔ ان فیصلوں کی خبر مصدقہ ذرائع سے مل بھی جائے تو اسے ہو بہو بیان کرنے سے خوف آتا ہے۔ جن ذرائع سے مذکورہ خبر ملی ہوتی ہے وہ عدالت میں پیش ہوکر اس امر کی تصدیق کرنے کو آمادہ نہیں ہوں گے کہ ان کے ساتھ فلاں دن فلاں مقام یا ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو ہوئی تھی۔ اس کے نتیجے میں "اندر کی خبر" باہر آئی۔
"اندر کی خبر" چھپانا مگر اب پاکستان جیسے نیم جمہوری ملکوں کی اشرافیہ کا مسئلہ ہی نہیں رہا۔ امریکہ خود کو دنیا کا سب سے طاقتور اور کامل جمہوری ملک کہلاتا رہا ہے۔ ٹرمپ کے وائٹ ہائوس لوٹ آنے کے بعد مگر صحافیوں کو وہاں کی وزارتِ دفاع سے خبروں کے حصول کیلئے ایک حلف نامے پر دستخط کو مجبور کیا گیا۔ اس کے ذریعے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ صحافی سرکاری بریفنگ سے جاری ہوئی خبروں کے علاوہ "اندر کی خبریں" ڈھونڈنے کے لئے وزارتِ دفاع کے افسران کے ساتھ نجی رابطوں سے گریز کریں گے۔ ایسے روابط "اچانک" یا سماجی حوالوں سے ہو بھی جائیں تو ان کے دوران ملی "خبروں" کو شائع یا نشر کرنے سے قبل وزارت دفاع سے اجازت لی جائے گی۔
قصہ مختصر حکم یہ ہے کہ صحافت کی آزادی یقینی بنانے والی آئینی شقوں کے ہوتے ہوئے بھی امریکی وزارت دفاع کے بارے میں صرف وہی "خبر" دی جائے گی جو اس وزارت کے حکام یاتو سرکاری طورپر جاری کریں یا اپنے پاس آئی رپورٹر کی بھیجی خبر کا متن دیکھ کر اسے چھاپنے یا نشر کرنے کی اجازت دیں۔ امریکہ میں بھی روایتی صحافت دم توڑ رہی ہے۔ چند ادارے مگر اب بھی معاشی اعتبارسے طاقتور ہیں اور اپنی ساکھ بچانے کیلئے وزارتِ دفاع کے تیار کردہ حلف نا موں پر دستخط کرنے کو آمادہ نہیں۔ مزاحمت کرنے والوں کی تعداد مگر آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
بھارت بھی خود کو آبادی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا دعوے دار ہے۔ اس کا میڈیا مگر "بغاوت" کا عادی نہیں رہا۔ پنڈت نہرو کی وزارت عظمیٰ کے زمانے سے وہاں کے "ذہن ساز" صحافیوں کو دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اعتماد میں لیا جاتا تھا۔ اسی باعث آپ کو ارون دھتی رائے کی تحریروں سے قبل بھارتی اخبارات میں کبھی بھارت کے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں سرکاری مو›ف کو للکارنے والی تحریردیکھنے کو نہیں ملا کرتی تھی۔ اندراگاندھی کی لگائی ایمرجنسی کے دوران وہاں کے کسی صحافتی ادارے نے انڈین ایکسپریس کے علاوہ کسی بھی نوعیت کی مزاحمت دکھانے سے گریز کیا۔
بھارتی صحافیوں کے "جی حضوری" رویے کو دیکھتے ہوئے میں بھارت میں قیام کے دوران ہمیشہ فخر سے سینہ پھلاتے ہوئے وہاں کے صحافیوں کو یاد دلاتا کہ میرے ساتھیوں نے آزادء صحافت کی بقاء کے لئے کوڑے کھائے، جیلوں میں کئی مہینے گزارے اور طویل بیروزگاری برداشت کی۔ افغانستان کی سوویت یونین سے جہاد کے ذریعے آزادی جنرل ضیاء کی فوجی حکومت کی اولین ترجیح تھی۔ اس کی افغان پالیسی کے خلاف میرے جیسے بزدل صحافی بھی مستقل لکھتے رہے ہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں بھی مزاحمتی صحافت نے اپنا وجود برقرار رکھا۔ 2007ء کے موسمِ بہار میں شروع ہوئی "عدلیہ آزادی" کی تحریک کا ڈٹ کر ساتھ دیا۔
ہمارے بزرگوں نے اپنی دیانت اور مستقل مزاجی سے جو راستے بنائے تھے ان پر چلتے ہوئے مگر ہم "سیلیبرٹی صحافت" کی جانب مڑگئے۔ حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے میں خود کو کلیدی کردار کے حامل تصور کرتے رہے۔ ہماری رعونت اور خود پسندی نے بالآخر حکمران اشرافیہ کو باہمی اختلافات بھلاکر "دوٹکے کے" منشی صحافیوں کے خلاف یکجاہونے کو اُکسایا۔ 2014ء کے بعد سے ہر نوع اور کسی بھی جماعت کی حکومت صحافت کو "نیک راہ" پر چلانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو ڈٹ چکی ہے۔ اچھی بات فقط اتنی رہ گئی ہے کہ ہم صحافیوں کی اکثریت اب اپنی "اوقات"جان کر اس کاکھلے دل سے اعتراف بھی کرنا شروع ہوگئی ہے۔ دیگر ممالک میں لیکن ایسا نہیں ہورہا۔
جمہوری نظام میں "شفافیت" اور "عوام کے روبرو جوابدہ"تصور کرنے کی روایات کے معدوم ہوجانے کا احساس مجھے پیر کی رات سے بہت شدت سے تنگ کررہا ہے۔ اس رات امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام لکھا۔ اس کے ذریعے دنیاکو اطلاع یہ دی گئی کہ بھارت کے وزیر اعظم کے ساتھ اس کی ٹیلی فون پر گفتگو ہوگئی ہے۔ اس کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ بھارت سے امریکہ بھیجی مصنوعات پر اب 18 فی صد ڈیوٹی لگائی جائے گی۔ امریکہ بھیجی مصنوعات پر ٹیرف میں نمایاں کمی کے عوض مودی نے ٹرمپ کو یقین دلایا کہ وہ روس سے تیل خریدنا بند کردے گا۔
روسی تیل کے بجائے وینزویلا کا تیل خریدا جائے گا۔ یاد رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں سامراجی ڈھٹائی سے کام لیتے ہوئے وینزویلا کے تیل پر قبضہ جمالیا ہے۔ اسے فقط امریکہ کی منظوری سے کسی تیسرے ملک بیچا جاسکتا ہے۔ خریدنے والا ملک وینزویلا کو درآمدشدہ تیل کی قیمت ادا نہیں کرتا۔ وہ امریکہ کو ادا کی جاتی ہے اور اس کے بعد واشنگٹن ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس میں سے کتنی رقم وینزویلا کو بھیج دی جائے۔ قانونی مشکلات سے بچنے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ طورپر قطر کے بینکوں میں وینزویلا کے تیل کی قیمت وصول کرنا شروع کردی ہے۔
بقول ٹرمپ بھارتی برآمدات پر ٹیرف میں نمایاں کمی کے حصول کے بعد نریندر مودی نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ امریکہ سے 500ارب ڈالر کی مصنوعات خریدے گا۔ یاد رہے کہ بھارت دنیا بھر سے 700ارب ڈالر کی مصنوعات خریدتا ہے اس میں سے 500 ارب ڈالر صرف امریکہ میں صرف کرنے کے بعد دنیا کے کئی ملکوں کیساتھ اس کی تجارت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔
اپنے پیغام میں ٹرمپ نے جوحیران کن "خبریں " دیں ان کی تصدیق یا تردید سے بھارتی وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر لکھے جوابی پیغام میں گریز کیا۔ مختصر ترین پیغام کے ذریعے فقط دنیا کو یاد دلایا کہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک (بھارت) ایک بار پھر دنیا کے طاقتور ترین جمہوری ملک کا قریب ترین دوست بن گیا ہے۔
ٹرمپ اور مودی کے لکھے پیغامات کے بعد پا کستان ہی نہیں بھارت کے صحافی بھی ہکا بکا رہ گئے۔ ان کے ملک اور امریکہ کے درمیان ہوئے "تجارتی بندوبست"کی تفصیلات حاصل کرنے کو وہ بے چین ہیں۔ روس سے تیل کی بھارت آمد فی الفور روکنا ممکن نظر نہیں آرہا۔ وینزویلا بھی ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ روس سے آئے تیل کی متبادل مقدار فراہم کرسکے۔ واجب سوالات کا انبار جمع ہورہا ہے۔ آبادی کے اعتبار سے "دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت" اپنے صحافیوں کو مگر ان کے جوابات فراہم کرنے کی زحمت نہیں کررہی۔ وہاں کی پارلیمان کو بھی بھارت کے دیگر ریاستی اداروں اور ستونوں پہ "بالادست" ہونے کا زعم ہے۔
منگل کی شام شروع ہونے والے بھارتی لوک سبھا کے اجلاس میں لیکن بھارتی وزیر اعظم نے کھڑے ہوکر امریکہ کے ساتھ ہوئے معاہدے کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔ اس کی عدم موجودگی پر چراغ پا ہوئی اپوزیشن شوروغوغا میں مصروف رہی تو لوک سبھا کے اجلاس کو وقفہ سوالات کے بعد ملتوی کردیا گیا۔ بطور قائدِ حزب اختلاف راہول گاندھی بھی کوئی سوال اٹھانے یا اپنی رائے کے اظہار کے لئے مائیک نہ حاصل کر پائے۔ امریکہ اور بھارت جیسے "جمہوری" ملکوں کے صدر اور وزیر اعظم نے ایک دوسرے کے ساتھ ماضی کے بادشاہوں کی طرح "مک مکا" کرلیا ہے اور د ونوں کے مابین طے ہوئے معاملات کی تفصیلات رعایا کو بتانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جارہی۔