Tuesday, 03 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Balochistan Dehshatgardi, Ghair Mulki Hath Ya Ehsas e Mehroomi?

Balochistan Dehshatgardi, Ghair Mulki Hath Ya Ehsas e Mehroomi?

آخری مرتبہ بلوچستان 2010ء کے آغاز میں گیا تھا۔ نواب اسلم رئیسانی ان دنوں وہاں کے وزیر اعلیٰ تھے۔ صوبائی حکومت آج کی طرح پیپلز پارٹی کی سمجھی جاتی تھی۔ مکران کے ثقافتی مرکز تربت میں اس برس ایک ناخوشگوار واقعہ ہوگیا۔ اس سے مشتعل ہوکر انتہا پسند تنظیموں نے دھمکی دی کہ مذکورہ واقعہ کے بعد کسی "پنجابی" کو بلوچستان کی زمین پر قدم رکھنے سے قبل سوبار سوچنا چاہیے۔ جس وقت یہ دھمکی دی گئی میں کراچی کے ایک ٹی وی سٹوڈیو میں بیٹھا لائیو شو کررہا تھا۔

وقفے کے دوران تڑی کی خبر ملی تو پروگرام دوبارہ شروع ہوتے ہی یہ بڑھک لگادی کہ کل صبح کراچی سے اسلام آباد لوٹنے کے بجائے تربت جارہا ہوں۔ وہاں سے بلوچستان کے دیگر شہروں خصوصاََ ساحلی پٹی میں واقع گوادر وغیرہ بھی جانے کا ارادہ ہے۔ جس ٹی وی چینل کے لئے کام کررہا تھا، میری دیدہ دلیری سے گھبراگیا۔ افسری اختیار کرنے کے بجائے اس کی انتظامیہ نے خلوصِ دل سے سمجھانے کی کوشش کی کہ بلوچستان جانے کا پنگا نہ لیا جائے۔ "آتش" ان دنوں مگر بجھتے چراغ کی طرح اکثر پھڑپھڑانا شروع ہوجاتا تھا۔ سکرین پر لگائی بڑھک کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ڈٹ گیا۔

مشتاق منہاس نے اس پروگرام کے شریک میزبان کی حیثیت میں جنونی حد تک میرا ساتھ دیا اور دوسری صبح ہم تربت پہنچ گئے۔ سولہ سال قبل ہوئے اس سفر کی بدولت بلوچستان کی پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی صورتحال کے بارے میں بہت کچھ جان کر دیانتداری سے رپورٹ کردیا۔ سرکار کی مہربانی سے خود کو سنسر کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ حالات اب بدل چکے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں سے بلوچستان کے بارے میں پرانے انداز کی رپورٹنگ معدوم ہوچکی ہے۔ اب عام صحافی سے زیادہ بلوچستان "ماہرین"کے سپرد ہوچکا ہے۔ ان کی اکثریت تاریخ، سماجیات اور بین الاقوامی امور پر یکساں گرفت رکھنے کی دعوے دار ہے۔

حقائق کو سادہ ترین زبان میں بیان کرنے کے بجائے بلوچستان کے نام پر "بیانیہ" اور "ذہن سازی" کو ترجیح دی جاتی ہے اور معاملہ دو انتہائوں کے درمیان کسی ایک کے چناؤ تک محدود ہوگیا ہے۔ درمیانی راہ ڈھونڈنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ رپورٹر سے نام نہاد" کالم نگار" ہوئے شخص سے مگر قارئین ہر موقع کی غزل کا تقاضہ کرتے ہیں۔ ان میں سے چند باقاعدہ اور دیرینہ مہربانوں کو پیر کی صبح چھپا کالم دیکھ کر افسوس ہوا۔ بلوچستان میں ہفتے کے دن ہوئے واقعات قطعاََ نظرانداز کرتے ہوئے مذکورہ کالم میں سولر پینل کا رونا رویا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے "بکری" ہوجانے کے طعنے بھی ملے۔

اپنی محدودات تسلیم کرنے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ اس کے باوجود جو خیالات ہفتے کے روز بلوچستان کے حوالے سے ذہن میں آتے رہے اس کا اظہار فقط سرکار ہی نہیں ان افراد کو بھی اشتعال دلاسکتا تھا جو اپنے تئیں حریت فکر کی حتمی علامتیں بن چکے ہیں۔ 1980ئکی دہائی تک میں رپورٹر کی برسرزمین جاکر حقائق سے آگاہ رہنے کی عادت کی بدولت اس امر پر ہمیشہ بضد ر ہا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال اور رقبے کے اعتبار سے ہمارا سب سے بڑا صوبہ ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر شدید احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ "غیر ملکی ہاتھ" کو بلوچستان میں افراتفری بڑھانے کا واحد سبب کبھی نہیں ٹھہرایا۔ رواں صدی کے آغاز سے مگر ہمارے خطے میں نائن الیون کے بعد والے افغانستان نے کئی طاقتور ملکوں کو بلوچستان میں دلچسپی لینے کو اُکسایا۔ دلچسپی فقط چین جیسے دوست ممالک تک محدود نہیں رہی۔

ہمارے دشمن ملکوں نے بھی اس حوالے سے اپنی اپنی گیم لگائی ہے۔ دشمن ملکوں کی لگائی گیم کا ذکر ہوتو بلوچ دوست ناراض ہوجاتے ہیں۔ تلملاکر یاد دلاتے ہیں کہ 1948ء سے رواں صدی کے آغاز تک بلوچستان کے بیشتر برس افراتفری ہی کی نذر رہے۔ ان دنوں "غیر ملکی ہاتھ" کے بجائے مجھ جیسے "پنجابی" بلوچ سرداروں کو وہاں کے مسائل کا حتمی ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔ دورِ حاضر میں سرداروں کی جگہ "غیر ملکی ہاتھ" نے لے لی ہے۔ ذاتی طورپر "غیر ملکی ہاتھ" کو میں بلوچستان میں ابتری پھیلانے کا واحد ذمہ دار نہیں ٹھہراتا۔ وہاں موجود بے چینی اور فکر مندی کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ان کا ذکر تواتر سے اس کالم میں ہوتا رہا ہے۔ غیر ملکی ہاتھ کو مگر نظرانداز کرنا بھی فکری بددیانتی ہوگی۔

گزرے برس کے موسم گرما میں غالباََ جون کے مہینے میں سوشل میڈیا کا پھیرا لگاتے ہوئے ایک ویب سائٹ دیکھی جو اسرائیل کے ایک انتہائی بااثر تھنک ٹینک سے تعلق رکھتی ہے۔ MEMRI اس کا نام ہے جو مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا مخفف ہے۔ مشرق وسطیٰ پر کئی برسوں سے نگاہ رکھنے والے اس ادارے نے اعلان کیا کہ وہ "بلوچستان سٹڈی پراجیکٹ(مطالعہ بلوچستان)" کے نام سے ایک نیا شعبہ متعارف کروارہا ہے۔ یہ شعبہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر براہ راست امریکی حملے کے بعد متعارف کروایا گیا۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ حملے کے ذریعے اس نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو آنے والے کئی برسوں کے لئے ناکارہ بنادیا ہے۔ اپنے تئیں یہ ہدف حاصل کرلینے کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو مجبور کیا کہ وہ ایران کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔

اسرائیل مگر اس کے لئے رضا مند نہیں ہے۔ مطالعہ بلوچستان کے لئے اس کے طاقتور تھنک ٹینک کا شعبہ گزشتہ کئی ہفتوں سے مختلف مضامین کے ذریعے اس سوچ کو فروغ دے رہا ہے کہ ایران میں "رجیم چینج" کے امکانات معدوم تر ہورہے ہیں۔ اسے بھلاکر لہٰذا اسرائیل کو ایران سے علیحدگی پسند کی تحاریک کی سرپرستی کرنا چاہیے۔ کردوں کے علاوہ آذری النسل ایرانیوں میں بھی "قومی شناخت" کے جذبات اتنہائی ہنرمندی سے بھڑکائے جارہے ہیں۔

بلوچستان کے حوالے سے بھی ایسے ہی ارادوں کا اظہار کرتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کیا جارہا ہے کہ بلوچستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد کو بھی متحرک کیا جائے۔ گزشتہ ماہ کے وسط سے امریکی صدر نے ایران کو دھمکانے کے لئے ابراہم لنکن کے نام سے منسوب بحری بیڑا ایران کے ساحل کے بہت قریب کھڑا کررکھا ہے۔ ٹرمپ کو مگر اندازہ ہے کہ ا یران کو وینزویلا نہیں بنایا جاسکتا اور طویل جنگ سے وہ گریز کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کی ترجیح کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسرائیلی تھنک ٹینک نہایت مکاری سے یہ تاثر اجاگر کئے چلے جارہے ہیں کہ ایران کے معاشی محاصرے کے بعد وہاں علیحدگی پسند رحجانات کو بھڑکایا جائے اور اس ضمن میں بلوچستان پر خصوصی توجہ مبذول کی جائے۔

ہفتے کی صبح سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ایک ہی دن جو واقعات ہوئے ان کا بغور جائزہ لیں تو گماں ہوتا ہے کہ ایک مخصوص کالعدم تنظیم اسرائیل کی توجہ کی طلب گار ہے۔ ہفتے کے روز ہوئے دلخراش واقعات مذکورہ تنظیم کی جانب سے چلائی اشتہاری مہم ہے۔ اس کے ذریعے "صلاحیت" کی نمائش کے بعد سرپرستی طلب کی جارہی ہے۔ اپنے خیال کی حمایت میں تفصیلی دلائل فراہم کرنے کی مگر جرأت نہیں ہورہی۔ بلوچستان پر صحافی کو تبصرہ آرائی کا حق اب میسر نہیں رہا۔ قدرتی وسائل سے مالا مال اور رقبے کے اعتبار سے ہمارا سب سے بڑا صوبہ "ماہرین" کے اجارہ میں جاچکا ہے۔ "غیر ملکی ہاتھ" یا "احساس محرومی" دو انتہائیں ہیں۔ آپ کو ان دونوں میں سے کسی ایک انتہا کے ساتھ کھڑے ہونے کو مجبور کیا جاتا ہے اورمیں فقط درمیانی راہ ہی میں حقائق ڈھونڈنے کا عادی رہا ہوں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.