نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے اسلام آباد میں اجلاس کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ صدر زرداری، میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت سے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے اور میرا سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کون ہے، اس کے مقاصد کیا ہیں، یہ کن کی نمائندگی کرتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے غبارے میں ہوا کون بھر رہا ہے۔ کون سے میڈیا ہاوسز ہیں جو اس کو غیر معمولی کوریج دے رہے ہیں اور کیوں دے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کمیٹی میں مسلم لیگ سے نکل جانے والے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، پی ٹی آئی سے نکالے گئے شیر افضل مروت کے ساتھ ساتھ فواد چوہدری، بیرسٹر سیف اور عمران اسماعیل کے نام رپورٹ ہوئے ہیں اور اگر ہم حسن ظن سے کام لیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ان کا تعلق نہ حکومت سے ہے نہ اپوزیشن سے، یہ غیر جانبدار لوگ ہیں اورقومی مفاد میں کوشش کررہے ہیں مگر عمران خان کے مطابق تو نیوٹرل جانور ہوتا ہے اور سوال یہ ہے کہ اس جانور کو کون ہانک رہا ہے؟
دلچسپ امر یہ ہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نامی اس نیوٹرل یعنی جانور کا اجلاس کا اس وقت ہوتا ہے جس سے ایک روز پہلے ہی پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس ہوتی ہے اور جس میں وہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں اور ایک مخصوص سیاسی جماعت یعنی پی ٹی آئی اپنی ہی فوج کے خلاف دشمن کی زبان بول رہی ہے۔ اس پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی، اسد قیصر کے کلپس ہی نہیں چلائے جاتے بلکہ عمران خان کے ٹوئیٹس بھی دکھائے جاتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر یہ نیوٹرل گروپ اگلے ہی روز اس پریس کانفرنس کو ڈیفیوژ کرنے کے لئے متحرک ہوجاتا ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایسی کوئی مذاکراتی کمیٹی قائم بھی ہوجاتی ہے تو کیا وہ عمران خان کی رہائی کے لئے مذاکرات کرے گی یا نومئی کے حملوں کو خود فوج پر ڈالنے کے لئے فکری مغالطے پیدا کرے گی۔ ہمیں صورتحال کا معروضی حالات میں جائزہ لیناہوگا کہ جب علیمہ خان دوٹوک انداز میں بار بار یہ کہہ رہی ہیں کہ مذاکرات کرنے والا ہم میں سے نہیں ہوگا اور اس کے ساتھ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نام سے قائم اتحاد اور قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے نامزد اپوزیشن لیڈر بھی ایکس پر پوسٹ کر دیتے ہیں کہ مذاکرات؟ کس چیز کے مذاکرات؟ کسی نے میرے گھر پر ڈاکہ ڈالا ہے اب اس کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں تو وہ صرف اس بات پر ہوں گے کہ بھائی میرا سامان لو ٹا دو، پروا نہیں اس میں کچھ کمی ہو، ہم معاف کرتے ہیں۔ اگر کوئی یہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔
میں نہیں جانتا کہ علیمہ خان سے اچکزئی تک کے دوٹوک انکار کے بعد نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے پاس کس کا مینڈیٹ ہے اور کس کے کہنے پر اس غبارے میں ہوا بھر رہی ہے۔ میرے پاس کوئی اطلا ع اور موقف نہیں صرف ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنسز کو سننے کے بعد ایک تجزیہ ہے کہ اس کمیٹی کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے کہ فوج کیوں چاہے گی کہ وہ اپنی تاریخ میں سب سے بدترین حملہ کرنے والے کو راہ دے اور وہ جیل سے باہر آکر اس سے بھی زیادہ منفی کردارادا کرے جو وہ گرفتار ہونے سے پہلے اور بعد میں کرتا رہا۔
یہ درست ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف بار بار مذاکرات کی پیشکش کر رہے ہیں مگر ان کی اس حوالے سے کابینہ سے خطاب کے دوران کی جانے والے پیشکش مشروط تھی۔ ا نہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف جائز مطالبات پر ہوں گے اور ہم کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ میرا سوال تھوڑی سی بھی سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والوں سے ہے کہ کیا حکومت سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ اسمبلی ختم کردے اور ایسے نئے انتخابات کروائے جس میں پی ٹی آئی کو یقینی دوتہائی اکثریت ملے بصورت دیگر وہ انتخابات بھی تسلیم نہیں ہوں گے تو کیا یہ ایک جائز مطالبہ ہے۔
میں یہاں سے گمان کرسکتا ہوں کہ اگر عمران خان کی پارٹی کو دوتہائی تو ایک طرف رہی سادہ اکثریت بھی مل گئی تو اس ملک میں مخالف صحافی، سیاستدان، فوجی اور جج کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا بلکہ یہ صورتحال تو نو مئی کو ہی ہوجاتی اگر ان کا مجوزہ انقلاب کامیاب ہوجاتا۔ انہوں نے مخالفین کے گھروں پر حملے کئے اور اگر یہ جی ایچ کیو پر قبضہ کرلیتے تواس کے بعد یہ اپنے مخالفین کے گھروں کو جلا کے ان کی لاشیں چوکوں میں لٹکا دیتے۔ ان کے مطالبات میں شامل ہے کہ نو مئی کے مقدمات واپس لئے جائیں اور عمران خان کو رہا کیا جائے۔
جب میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے اوراس پرمیاں نواز شریف کو کردارادا کرنے کے بیانات دیکھتا ہوں تو ہنسی آتی ہے۔ اس سے پہلے محترم سہیل وڑائچ بھی کالم لکھ چکے کہ میاں نواز شریف خود جا کے عمران خان کو معافی نامہ دیں۔ بظاہر یہ بات بہت اچھی لگتی ہے مگر کسی کوعلم ہے کہ اگر سہیل بھائی کی بات مان لی جائے یا نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نامی جانور (سوری نیوٹرل باڈی) کی سفارشات پر عمل کر لیا جائے تواس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔
آپ ایک شدت پسند گروہ کو اپنے سر پر سوار کر لیں گے جونفرت میں انتہا پر پہنچ چکا ہے۔ یوں بھی میں کہہ چکا کہ میاں نواز شریف کیوں عمران خان کے راہ ہموار کریں کہ کیا انہیں اپنی بھائی کی وزارت عظمیٰ اور بیٹی کی وزارت اعلیٰ اچھی نہیں لگ رہی اور وہ کیوں چاہیں گے وہ دور واپس آجائے جو ان کے لئے پرویز مشرف کے دور سے بھی زیادہ تکلیف دہ رہا۔ مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی کو مفاہمت اور مصالحت چاہئے تو اسے اس کے لئے سیاسی درجہ حرارت کو نیچے لانا ہوگا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ سہیل آفریدی اوراس کے ساتھی آکر یہاں نواز شریف کی بیٹی کے بارے میں غلاظت بک کے جائیں اورنواز شریف ان کی مدد کرنے کے لئے پہنچ جائے۔
سچ تو یہ ہے کہ نوازشریف نے عمران خان کی جتنی مدد کی اس سے زیادہ اس کا مزا چکھ لیا ہے اور اب انہیں کسی قسم کا نیا رسک نہیں لینا چاہئے۔ کیا یہ نواز شریف ہی نہیں تھے جنہوں نے مولانا فضل الرحمان کی مخالفت کے باوجود خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی وہ حکومت بننے دی جو ہر طرح کی سازشوں کا بیس کیمپ بن گئی، جی ہاں، دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے بعدپی ٹی آئی کے پاس خیبرپختونخوا اسمبلی میں سادہ اکثریت نہیں تھی۔ اس سے پہلے نوا ز شریف نے ہی شوکت خانم ہسپتال کے لئے جگہ دی، پچاس کروڑ روپے دئیے۔ جب عمران خان کے والد کا انتقال ہوا اور جب عمران خان خود لفٹر سے گراتب عیادت کے لئے گئے۔ سیاسی مشاورت کے لےے بنی گالہ گئے تو ان سب کے جواب میں نوا زشریف کوجو کچھ ملا وہ بھولے نہیں ہوں گے!