Tuesday, 16 August 2022
  1.  Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Kash Aap Molana Na Hote

Kash Aap Molana Na Hote

میں نے مولانا جلیل احمد شرقپوری کو وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے دیکھا تو اچھا لگاکہ صبح کا ایک اور بھولا شام کو واپس آ گیا ہے، ایک منٹ ٹھہرئیے، اس محاورے کو واقعاتی لحاظ سے درست کر لیجئے کہ یہ شام کا بھولا تھا اور صبح کو واپس آیا ہے۔ اس بھولے نے اپنی پارٹی کی مشکلوں بھری سیاہ رات کہاں گزاری یہ سب جانتے ہیں کہ جہاں روشنی تھی، جہاں مزا تھا، جہاں سرور تھا۔

راتیں باہر گزارنے والوں کو آج بھی شریف گھرانوں میں اچھا نہیں سمجھا جاتا کہ اس سے کوئی نہ کوئی غلطی، بدی اور برائی جڑی ہوتی ہے۔ جب گھر والوں کو جوتے مارے جار ہے تھے تو یہ جوتے مارنے والوں کی مٹھی چانپی کر رہے تھے۔ مجھے ایک دوست کہتا ہے کہ جب وہ بازار جاتا ہے تو اس دکان سے ہرگز خریداری نہیں کرتا جس کے پھٹے پر کوئی مولوی بیٹھا ہو، اس کی لمبی داڑھی ہو، ماتھے پر نشان ہو اور ہاتھ میں تسبیح ہو کہ اس کا مال سب سے ناقص ہاتھ کی چھری ہمیشہ سب سے زیادہ تیز دھار ہوتی ہے۔

میں اس دوست کی ہمیشہ مذمت کرتا ہوں، اپنی معاشرتی روایت کے مطابق توہین مذہب کا مجرم قرار دیتا ہوں لیکن جب میں خود بازار میں جاتا ہوں تو مجھے اپنے دوست کی بات یاد آجاتی ہے سو میں ایسی دکانوں سے گریز کرتا ہوں جہاں دنیاوی سامان کی بجائے مذہب فروخت کیا جا رہا ہو۔

یہ میرے دوست کا ذکر ایسے ہی بیچ میں آ گیا۔ میں پنجاب اسمبلی کے شرقپور شریف سے رکن پنجاب اسمبلی اور مولانا شیر محمد شرقپوری جیسی بڑی شخصیت کے وارث کی بات کر رہا ہوں۔ جن لوگوں نے مولانا جلیل احمدشرقپوری کا خوبصورت نورانی چہرہ دیکھا ہے جو ہم جیسے سیدھے سادھے مسلمانوں کو گرویدہ کرنے کے لئے کافی ہے۔

مجھے ایسے چہرے دیکھ کر ابا میاں (میرے دادا مرشد علی خان مرحوم) یاد آ جاتے تھے جو ایک دبنگ روحانی شخصیت کے مالک تھے لیکن اب میں اس یاد کو ابا میاں کی توہین سمجھتا ہوں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب پنجاب اسمبلی میں لوٹے ہو رہے تھے تو ان میں جہا ں نشا ط ڈاہا مرحوم تھے یا گوجرانوالہ کے انصاری برادران تھے وہاں شرقپور اورنارووال کے مولوی بھی تھے یعنی جلیل شرقپوری کے ساتھ مولانا غیاث الدین۔ برسبیل تذکرہ، نشاط ڈاہا کی وفات پر میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے موقعے پر میں خانیوال میں تھا اور میں نے خانیوال کے لوگوں کو نشاط ڈاہا کی بے وفائی کا انتقام لیتے ہوئے خود دیکھا۔

پی ٹی آئی نے ان کی اہلیہ کو ٹکٹ جاری کی تھی مگر وہ وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باوجود الیکشن ہار گئی تھیں مگر ہمارے باقی لوٹے الحمد للہ زندہ ہیں اور مکمل صحت کے ساتھ ان میں گھومنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان مولانا صاحبان کے بارے میں پارلیمانی رپورٹنگ کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ ہر دور میں اقتدار کی غلامی کر لیتے ہیں اوراس کے لئے ہر قسم کی ذلت بھی برداشت کر لیتے ہیں، مشرف دور کی باتیں رہنے دیں، عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد یہ صاحب بنی گالہ پہنچ گئے تھے۔

ذلت والی بات سے یاد آیا کہ یہی مولانا صاحب تھے جن پر پنجاب اسمبلی کے نون لیگی ارکان نے لوٹے برسائے تھے اور یہ ان کے نشانے پر بھی آئے تھے۔ انہوں نے تب جو ردعمل دیا تھا اورجو زبان استعمال کی تھی وہ ارکان پنجاب اسمبلی کو بہت اچھی طرح یاد ہو گی، بہرحال، وہ وقت گزر گیا اور اب حمزہ شہباز شریف سے ملاقات کرتے ہوئے مولانا نے بتایا کہ ان سے نواز لیگ کے رہنماوں رانا تنویر اور جاوید لطیف نے رابطہ کیا اور نواز شریف کا پیغام پہنچایا کہ وہ اختلافات ختم کر کے پارٹی میں واپس آجائیں (انہوں نے یہ بھی کہا ہو گا کہ پارٹی اب ااقتدار میں آ گئی ہے مگر شائد وہ یہ اصل بات حذف کر گئے)۔ انہوں نے بھی نواز شریف کو پیغام دیا تھا کہ وہ کرپشن کے مقدمات کا سامنا کرنے کے لئے وطن واپس آجائیں، ہوسکتا ہے کہ مولانا اب بتائیں کہ نواز لیگ نے بھی ان کا مشورہ مان لیا ہے۔

میرے کئی دوست کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کو اس وقت تنقید کا ہرگز نشانہ نہیں بنانا چاہئے کیونکہ انہیں اس وقت ایک ایک ایم پی اے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سیانوں کے مطابق تو ضرورت کے تحت گدھے کو بھی باپ بنایا جا سکتا ہے تو پھر یہ تو صرف اور صرف لوٹے ہیں اور داغوں کی طرح ضرورت کے موقعے پر لوٹے بھی بہت ضروری، بہت مفید اوربہت کارآمد ہوتے ہیں۔

مجھے کوئی بتا رہا تھا کہ نواز لیگ کے دو اور منحرف ارکان واپس آ گئے ہیں جن میں گوجرانوالہ کے اشرف انصاری اورنارووال کے مولوی غیاث الدین شامل ہیں۔ مولوی غیاث الدین فل مولوی ہیں جبکہ اشرف انصاری ہاف مولوی کیونکہ ان کی داڑھی بس رسمی سی ہے۔ مسلم لیگ نون نے پی ٹی آئی سے لوٹے ہونے والے تمام ارکان کو ٹکٹیں جاری کردی ہیں اور ان میں وہ صاحب بھی شامل ہیں جن پر سابق دور میں کاشانہ کی یتیم بچیوں کواپنے لوگوں کے حوالے کرنے کی سازش کا مکروہ الزام ہے۔

میں نے اس معاملے پر بہت تحقیق کی ہے اور کہہ سکتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ الزام سو فیصد درست نہ ہو مگر دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔ اب میں مسلم لیگ نون کو کیا کہوں کہ پارلیمانی صورتحال ایسی ہے کہ بہت سارے لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ مجبور ہے۔ یہ مجبوری بھی عجیب شے ہوتی ہے، بے چارگی برا بھلا بہت کچھ کروا لیتی ہے۔

یقین کیجئے مجھے اقتدار کے سورج کے پجاریوں سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کہ ہر کسی کو اپنا مذہبی، سیاسی اور سماجی عقیدہ رکھنے کا حق ہے مگر میں ان سے اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے لوٹا ہونا ہے تو کم از کم آپ اپنا دینی مقام اور مرتبہ چھوڑ دیں، وہ بلند پایہ گدی چھوڑ دیں جسے رسول اللہ اورامام حسین علیہ سلام کی وراثت سمجھا جاتا ہے، آپ خود کو مولانا کہلوانا چھوڑ دیں اور پھراس کے بعد آپ جو دل چاہے وہ کرتے پھریں مگر یہ کتنی بری بات ہے کہ دین کے وارثوں کے ساتھ بے وفائی، موقع پرستی، مفاد پرستی اور لوٹا کریسی جیسی اصطلاحات جڑی ہوں۔

ہم آپ کے نورانی چہروں کو دیکھتے ہیں تو دھوکا کھا جاتے ہیں۔ نجانے مجھے کیوں یقین ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندگی اور صحت دی اور اس کے ساتھ آپ کو پھر دوبارہ منتخب ہونے کی عزت بھی تو آپ اپنی پارٹی کے کسی بڑی مشکل تو ایک طرف رہی محض اپوزیشن میں آنے کے بعد اسے ایک بار پھر دھوکا دیں گے، ایک بار پھر چھوڑ دیں گے کہ یہ آپ کا ٹریک ریکارڈ ہے۔

آپ اپنی پٹڑی پر چلتے رہیں مگر میں اپنے رب سے تو دعا کر سکتا ہوں، التجا کر سکتا ہوں، شکوہ کر سکتا ہوں کہ کاش آپ اس کردار کے ساتھ مولانا نہ ہوتے، کاش آپ کا چہرہ نورانی نہ ہوتا، کاش آپ کے معتقدین آپ سے دین کا درس نہ لے رہے ہوتے۔