Thursday, 21 October 2021
  1.  Home/
  2. Kanwar Muhammad Dilshad/
  3. Khasare Ka Soda

Khasare Ka Soda

پُرامن پاکستان کے حصول کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے مکمل خاتمے پر توجہ دینا ہوگی۔ آج اسلامی فلاحی اور قائداعظم کے نظریاتی پاکستان کی منزل نہ پانے کی وجہ یہ ہے کہ 1951ء سے 2002ء تک کے عرصے کے دوران جو انتخابات ہوئے وہ عوامی سوچ اور جمہوری اصولوں کے عین مطابق نہیں تھے۔ اسی باعث ہم سیاسی استحکام حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے۔ پاکستان کے دانشور اورسیاسی رہنما مجموعی طور پر 1970ء کے انتخابات کو شفاف قرار دیتے ہیں، میں اس سے جزوی طور پر اختلافِ رائے رکھتا ہوں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1970ء کے انتخابات مغربی پاکستان میں بھی غیر جانبدارانہ نہیں تھے، ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے بائیس خاندانوں کو دباؤ میں رکھ کر ان سے پارٹی فنڈز میں کروڑوں روپے جمع کروائے اور صوبائی اور قومی اسمبلی کے امیدواروں کو انتخابات میں اخراجات کیلئے تیس تیس ہزار روپے تقسیم کیے۔ بھٹو نے بااثر قومی اخبارات کو بھی لاکھوں روپے دیے، اس طرح مغربی پاکستان کے میڈیا ہاؤسز نے مسٹر بھٹو کا امیج بامِ عروج پر پہنچایا اور مخالفین کی کردار کشی کر کے ان کو گھروں تک محدود کر دیا۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن نے بھی ان بڑے خاندانوں کو اپنے پروگرام کیلئے استعمال کیا، اس طرح شیخ صاحب کی عوامی لیگ اپنے من پسند نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی جس کے نتیجے میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ پیش آیا۔ الیکشن میں دھاندلی صدر ایوب خان سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ صدر یحییٰ خان منقسم مینڈیٹ کیلئے کوشاں تھے اور صدر اسکندر مرزا نے خان عبدالقیوم خان کی مقبولیت کے ڈر سے مارچ 1959ء میں انتخابات ملتوی کرانے کیلئے 7اکتوبر 1958ء کو ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔

میری نظر میں پاکستان کاانتخابی نظام برادری ازم میں تبدیل ہو چکا ہے، اس لیے ملک کی سیاسی جماعتوں کے بعض دانشور رہنما موجودہ انتخابی نظام کو فرسودہ اور غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں ؛چنانچہ پاکستان کو جمہوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ چند سال قبل میری ملاقات بھارتی چیف الیکشن کمشنر سے ہوئی تو میں نے اُن سے بھارت کی وحدت کی بنیادی وجہ دریافت کی جس پر انہوں نے کہا کہ بھارت کی وحدت سپریم کورٹ آف انڈیا اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی مرہونِ منت ہے۔ بھارتی چیف الیکشن کمشنر کی اس بات نے مجھے بڑا متاثر کیا اور میں اس بات کا قائل ہوں کہ اگر انصاف فراہم کرنے والے ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک کی جڑیں مضبوط ہوں گی۔ سوویت یونین کے استحصالی نظامِ حکومت نے عوام کی عزت و آبرو کا حق، بنیادی ضروریاتِ زندگی، آزادیٔ فکر اورمواخذہ کا حق چھین لیا اور سوویت یونین کا نظام سیاسی اشرافیہ کی اجارہ داری بن کر رہ گیا تو بے سمت اور بے مقصدیت اور زوال پذیر نظامِ سیاست نے سوویت یونین کی بنیادیں ہلا دیں۔ اسی پس منظر میں 1988ء میں روس کے اُس وقت کے صدر گوربا چوف نے اپنے دورہ ٔبرطانیہ کے دوران بھارت کے اُس وقت کے ہائی کمشنر کلدیپ نیّر سے جب یہ سوال کیا کہ سوویت یونین اپنے استحصالی نظامِ سیاست اور انتخاب کی وجہ سے تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور ٹوٹ رہا ہے اور میں حیران ہوں کہ انڈیا اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے تو اس پر کلدیپ نیّر نے گوربا چوف کو جواب دیا کہ بھارت کے انتخابی عمل میں سیاسی جماعتوں کے وجود کا نظام خاندانی سیاست سے مبرا ہو کر مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے اور انتخابات سیاسی جماعتوں کے منشور کے مطابق ہوتے ہیں، جس دن بھارت میں سیاسی جماعتوں کے نظام کی جگہ ذات پات اور برادری کے نظام اور موروثی سیاست نے لے لی اُسی دن بھارت ٹوٹ جائے گا؛چنانچہ اس بات کا جائزہ جب ہم پاکستان کے تناظر میں لیتے ہیں تو بدقسمتی سے عملی طور پر انتخابی عمل میں سیاسی پارٹیوں کے نظام کے بجائے ذات پات اور برادری کی بنیاد پر انتخابات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہم خوشحال اور پُرامن پاکستان کی منزل سے دُور ہوتے جا رہے ہیں، پاکستان میں ایسے سیاسی کلچر کی وجہ سے ہی انتخابات کے دوران ٹرن آؤٹ 35 فیصد اور 45 فیصد کے درمیان رہتا ہے اور ملک کی اکثریت خاموش رہتی ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق دھاندلی کے عنصر کی وجہ سے پاکستان میں ٹرن آؤٹ 25 تا 30 فیصدرہتا ہے اور ملک بھر میں 75 فیصد ووٹرز اس غیر منصفانہ انتخابی نظام کے خلاف ہیں کیونکہ پریذائیڈنگ آفیسرز کی "اُستادی" کے سبب جو نتائج آتے ہیں وہ متنازع ہی تصور کیے جاتے ہیں۔ تین فروری 1997ء کے انتخابات میں اصلی اور حقیقی ٹرن آؤٹ 28 فیصد تھا جس کا اعتراف صدر فاروق لغاری کر چکے تھے، لیکن شام پانچ بجے کے بعد جو نتائج سامنے آئے تو ٹرن آوٹ 38فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ یہی وہ کرپٹ اجارہ دارانہ نظامِ انتخاب ہے جس کے اردگرد ریاست کا سیاسی نظام گھومتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اپنے تجربے اور انتخابی علم کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے آزمودہ اور بار بار آزمودہ سیاسی لیڈروں کو قائداعظم کے مشن کا ادراک ہے نہ وژن اور نہ ہی اسے عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت ان میں ہے۔ یہ مفادات کے مارے روایتی سیاست کے شاہکار ملک میں کوئی بڑی تبدیلی لانے اور سیاسی نظام کو نئے خطوط پر تعبیر کرنے کی اہلیت اور صلاحیت سے محروم ہیں۔ پاکستانی سیاست اس فرسودہ نظامِ انتخاب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے نتیجے میں جو حکومتیں وجود میں آتی ہیں بدقسمتی سے ان حکومتوں کا نام جمہوری حکومت رکھ دیا جاتا ہے۔ ہمارے جمہوری نظام کو اوور ہالنگ درکار ہے اور ملک کی خودمختاری کو گرہن سے بچانے کیلئے مخصوص خاندانوں کی سیاسی اجارہ داری کے چنگل سے نکلنے کیلئے حقیقی معنوں میں بیداری کی لہر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ایوب خان کے صدارتی نظامِ حکومت میں چینی کا ریٹ ایک روپیہ فی سیر تھا (کلو کا نظام صدر ضیاء الحق نے وزیر خزانہ غلام اسحاق خان کی مشاورت سے نافذ کیا تھا۔ ایک سیر سوا کلو کے برابر تصور کیا جاتا ہے) صدر ایوب کے نافذ کردہ پرائس کنٹرول کے ذریعے روزمرہ کی اشیاء 1958ء سے 1970ء تک ایک ہی سطح پر برقرار رہیں، اب وزیراعظم عمران خان چینی سکینڈلز کی انکوائری کرا رہے ہیں تو ان کے مالیاتی مشیروں کو اس کی وجوہ جاننے کیلئے پلاننگ کمیشن کی پرانی فائلوں کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے کہ صدر ایوب خان کے دورِ حکومت میں ان اشیا میں اضافہ کس طرح نہیں ہوا۔

وزیراعظم عمران خان ان دنوں جہانگیر ترین فیکٹر کی وجہ سے پارٹی کے بحران میں گھرے ہوئے ہیں اور اسی بحرانی کیفیت میں وزیراعظم، جہانگیر ترین کے گروپ سے ملنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کی ملاقات کا بادی النظر میں کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا اور وزیراعظم نے جہانگیر ترین کا معاملہ ملک کے ممتاز قانون دان سینیٹر علی ظفر کے سپرد کر دیا ہے جو حقیقت کا جائزہ لیں گے۔ قوی امکان ہے کہ علی ظفر اپنے عظیم باپ سید محمد ظفر کی مفاہمتی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو اس بحران سے نکالیں گے اور اب جبکہ قومی بجٹ عیدالفطر کے فوراً بعد پیش ہونے والا ہے تو جہانگیر ترین کے ہم خیال ارکانِ قومی اسمبلی ممکنہ طور پر قومی بجٹ کے موقع پر آئینی بحران پیدا کرنے سے گریز کریں گے۔ بجٹ اگر کسی سازش کے وجہ سے منظور نہ کرایا جا سکا اور اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد جہانگیر ترین فیکٹر آڑے آیا تو حکومت عدم اعتماد کا شکار ہو جائے گی۔ ایم کیو ایم بھی حکومت کو مطالبات منوانے کیلئے وارننگ دے رہی ہے اور متحدہ قومی موومنٹ میں جارحانہ پالیسی کے حامیوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ بہرکیف جہانگیر ترین کے ہم خیال ارکان کا سیاسی مستقبل تاریک ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے، وزیراعظم ان کو آئندہ الیکشن میں ٹکٹ نہیں دیں گے اور ان ارکان کو دیگر سیاسی جماعتیں قبول نہیں کریں گی، لہٰذا ان حالات میں علی ظفر کمیشن کی رپورٹ سے جہانگیر ترین فیکٹر ہی خسارے میں رہے گا۔