Sunday, 05 February 2023
  1.  Home/
  2. Irshad Ahmad Arif/
  3. Doodh Ki Rakhwali

Doodh Ki Rakhwali

ایم این اے ریاض فتیانہ کو سچ بولنا مہنگا پڑ گیا، انہوں نے گلاسگو کی ایک کانفرنس میں وزارت ماحولیات کے کرتا دھرتا افراد کی بیوی بچوں، اور اپنے چہیتوں کے ساتھ شرکت، باہمی توتکار اور پاکستانی مفادات سے روگردانی کا بھانڈا قومی اسمبلی کی کمیٹی میں پھوڑا تو عام خیال یہی تھا کہ انہیں سادگی کفایت شعاری اور دیانتداری کے علمبردار حکمران کی طرف سے داد ملے گی اور جن لوگوں نے ملک و قوم کے سرمائے پر عیاشی کی، وہ سزا پائیں گے، مگر اُلٹاریاض فتیانہ کو شوکاز نوٹس جاری ہو گیا کہ قومی خزانے کو حلوائی کی دکان سمجھ کر"نانا جی کی فاتحہ پڑھنے والے وزیر، مشیر اور چہیتوں پر تنقید کیوں کی؟ اور اس قدر حساس قومی راز افشا کیوں کر ڈالا۔

ٹی وی پر ہاہا کار مچی تو وزیر اعظم عمران خان نے اگلے تین ماہ کے لئے وفاقی وزیروں کے بیرون ملک دوروں پر پابندی لگا دی، کوئی وزیر اب باہر جائے گا نہ کوئی سکینڈل بنے گا، تین ماہ تک لوگ یہ واقعہ بھول جائیں گے پھر سب خیر ہے، یہ واقعہ پڑھ کر مجھے سابق پاکستانی سفیر کرامت اللہ غوری کی کتاب روزگار سفیر" میں درج ائر مارشل (ر) اصغر خان اور ایوب دور کے وزیر خزانہ این ایم عقیلی کے واقعات یاد آئے، کیا زمانہ تھا اور کیسے لوگ۔ پاکستان کے قومی خزانے کی رکھوالی پر تعینات تھے، کرامت غوری لکھتے ہیں:

"روشنی بلکہ چاندنی کی برات لانے والی تو ہماری قومی ہاکی ٹیم تھی، جس نے 1968ء کے میکسیکو اولمپکس میں ایک مرتبہ پھر سونے کا تمغہ جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا تھا۔ فتح مندی اور کامرانی کے بعد وطن واپس جاتے ہوئے ٹیم نے نیو یارک میں مختصر قیام کیا۔ ایک تو ٹورنامنٹ کی تھکن اتارنی تھی، دوسرے واپسی کی فلائٹ نیو یارک سے ہی لینی تھیPIAان دنوں جتنی اپنی اعلیٰ سروس کے لئے مشہور تھا، اتنی ہی اس کی ساکھ پاکستانی ثقافت اور کھیلوں کی سرپرستی کے حوالے سے بھی مستحکم تھی۔ سو پی آئی اے نے ٹیم کی فتح کا جشن منانے کے لئے عالمی شہرت کے مالک والڈورف اسٹوریا Waldorf Astoriaہوٹل کے گرینڈ ہال روم میں ایک پرتکلف استقبالیہ کا اہتمام کیا۔

ایئر مارشل اصغر خاں جو ان دنوں PIAکے سربراہ تھے، اس جشن میں شرکت کے لئے خاص طور سے نیو یارک آئے تھے۔ میں نے زندگی میں ان جیسے میانہ رو اور سادگی پسند بہت کم دیکھے ہیں۔ ان کی ذات سے جڑا ایک واقعہ تو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ انہیں نیو یارک سے واشنگٹن بھی جانا تھا لیکن اس سے ایک روز پہلے انہوں نے بہت عاجزی سے مجھ سے درخواست کی کہ اگر ممکن ہو تو میں دو ایک گھنٹے کے لئے قونصل خانے کی اسٹاف کار اور ڈرائیور انہیں دے دوں تاکہ وہ کچھ شاپنگ کر سکیں۔ کہنے لگے کہ "نیو یارک سے میں اتنا واقف نہیں ہوں کہ اسٹور تلاش کرنے میں وقت ضائع کروں "۔

میں نے اسٹاف کار کے ڈرائیورJoeسے کہا کہ وہ ایئر مارشل صاحب کو شاپنگ کرانے کے لئے لے جائے۔ اگلی صبح میں ایئر مارشل صاحب کو واشنگٹن کے لئے ہوائی جہاز میں میں بٹھانے کے لئے اس اسٹاف کار میں La Guavdiaایئر پورٹ گیا، جہاں سے ان دنوں واشنگٹن اور بوسٹن کے لئے ہوائی Shuttle(شٹل) سروس چلا کرتی تھی۔ بالکل بسوں کی طرح ہر گھنٹے پر ایک شٹل روانہ ہوتی تھی۔ Eastern Airlineتھی۔ جس کا نعرہ ہی یہ تھا Every Hour on Hourنہ پہلے سے سیٹ بک کرانے کی ضرورت تھی نہ ٹکٹ خریدنے کی۔ جہاز کی پرواز کے بعدایئر ہوسٹس ٹرالی لے آتی تھی اور وہیں آپ سے کریڈٹ کارڈ لے کر ٹکٹ بنا دیا کرتی تھی۔ تیس ڈالر تو صرف کرایہ تھا۔ وہ سستا زمانہ تھا۔ 18ڈالر یومیہ میں اور ہفتے بھر کے لئے لیں تو اور بھی رعایت سے۔ ہالیڈے ان Holiday innجیسے بڑھیا موٹیل (Motel) میں کمرہ مل جایا کرتا تھا۔

ایئر مارشل صاحب کے جہاز نے جیسے ہی پرواز کی اور میں دفتر واپسی کے لئے اسٹاف کار کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ Joeپیٹ پکڑے بے تحاشہ دانت چمکاتے ہوئے ہنس رہا تھا۔ ایسے ہنس رہا تھا کہ دوہرا ہوا جا رہا تھا۔ میں نے ہنسی کے دورہ کا سبب پوچھا تو وہ اور زیادہ ہنسنے لگا۔ اور جب جی کھول کے ہنس چکا تو ہانپتے ہوئے بولا"یہ ایئر مارشل بھی عجیب انسان ہے"۔

میں نے پوچھا کہ اس نے کیا عجیب بات دیکھی تھی تو Joeنے دانت نکالتے ہوئے کہا "وہ اتنا بڑا آدمی ہے۔ PIAجیسی بڑی کارپوریشن کا ہیڈ ہے لیکن معلوم ہے کل وہ شاپنگ کہاں کر رہا تھا"۔

میں نے پوچھا کہ کہاں کر رہے تھے، اس نے بتایا کہ ایئر مارشل صاحب نے تمام شاپنگ ڈالر اسٹور میں کی جہاں ہر چیز ایک یا ڈیڑھ ڈالرمیں ملتی تھی۔ Joeنے کہا "اس نے ساری شاپنگ وہیں کی۔ ایک ایک ڈالر کی قمیصیں اور ٹائیاں خرید رہا تھا۔ کنجوس لگتا ہے"۔ میں نے کہا "کنجوس نہیں۔ سادگی پسند۔ ایئر مارشل میں دکھاوا اور ٹیپ ٹاپ نہیں ہے"۔ وہ واقعی بہت سادہ لوگ تھے ایئر مارشل اصغر خاں جیسے۔ آج کے چھچھورے اور دنیا دار چھٹ بھیوں کے مقابلے میں تو وہ واقعی فرشتے لگتے تھے۔

این ایم عقیلی صاحب، جو اس وقت ہمارے وزیر خزانہ تھے، بھی ایسے ہی سادہ انسان تھے۔ عقیلی صاحب ورلڈ بنک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے واشنگٹن آئے ہوئے تھے، جہاں سے انہیں نیو یارک بھی آنا تھا۔ میرے پاس سفارت خانے سے حکم آیا کہ عقیلی صاحب کی رہائش کا بندوبست کرو اور انہیں ایئر پورٹ سے لے بھی لوں۔ ان کے ساتھ شعیب صاحب، جو ان سے پہلے وزیر خزانہ تھے اور سبکدوشی کے بعد واپس ورلڈ بنک میں آ گئے تھے، بھی نیو یارک آ رہے تھے۔ انہوں نے بھی فون کر کے مجھ سے کہا کہ جہاں میں عقیلی صاحب کے لئے بندوبست کروں وہیں ان کے لئے بھی انتظام کر دوں۔ میں نے دونوں حضرات کے لئے 6th Avenueپر واقع ہلٹن ہوٹل میں بندوست کر دیا۔ شعیب صاحب نے مجھ سے سنگل روم کے لئے کہا تھا، لہٰذا ان کے لئے میں نے وہ بک کروا دیا اور عقیل صاحب چونکہ مرکز میں وزیر تھے اور بہ لحاظ عہدہ فائیو اسٹار ہوٹل میں Suite(سوئیٹ) کے حقدار تھے لہٰذا ان کے لئے سوئیٹ ہی مخصوص کروایا۔

دونوں حضرات کو لے کر میں جب ہلٹن ہوٹل پہنچا تو ہوٹل کی لابی میں ہوٹل کا منیجر ان کا منتظر تھا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ پاکستان کے وزیر خزانہ اس کے ہاں قیام پذیر ہوں گے لہٰذا وہ پروٹوکول کے تقاضے پورے کرنے کو وہاں استقبال کو موجود تھا۔ منیجر نے عقیلی صاحب سے لپک کر مصافحہ کیا اور کہا"سر تشریف لے چلئے۔ آپ کا سوئیٹ تیار ہے"۔ عقیلی صاحب نے سوئیٹ کا لفظ سنا تو ٹھٹھک کر وہیں کھڑے ہو گئے اور مجھ سے پوچھا "آپ نے میرے لئے سوئیٹ بک کروایا ہے؟ "میں نے جواب میں کہا "سر۔ آپ سوئیٹ کے حقدار ہیں تو میں نے وہی بک کروایا ہے"۔ جس پر انہوں نے کہا "ارے میاں۔ میں اکیلا اتنے بڑے سوئیٹ کا کیا کروں گا۔ بلاوجہ کا خرچہ ہو گا۔ نہیں۔ آپ ایسا کیجیے کہ مجھے سنگل روم دلوا دیجیے۔ کیوں حکومت کا پیسہ غیر ضروری خرچ ہو"۔

میں آج عہد حاضر کے حکمرانوں کے متعلق پڑھتا ہوں اور ٹیلی ویژن پر اپنی آنکھوں سے دیکھتا بھی ہوں کہ وہ پورے پورے کنبے، سرکار کے خرچ پر لے کر سفر کرتے ہیں۔ دنوں بلکہ ہفتوں Waldorf Astoriaجیسے ہوٹلوں میں جہاں ایک رات کا کمرہ کا کرایہ ہزار ڈالر تک ہوتا ہے۔ پورے ٹبر کے ساتھ قیام کرتے ہیں۔ شوفر سمیت لمبی لمبی لیموزین گاڑیاں، کرائے کی، ہوٹل کے باہر ان کے انتظار میں کھڑی رہتی ہیں اور ان کے میٹر چلتے رہتے ہیں۔ یہ سب اللّے تللّے اس لئے ہوتے ہیں کہ یہ حضرات سرکاری خزانے کو باپ کی میراث سمجھتے ہیں۔ تو مجھے ایسے وقت میں عقیلی صاحب جیسے بزرگ بہت یاد آتے ہیں جو خزانے کو امانت سمجھتے تھے اور اس میں صرف اتنا ہی لیتے تھے جس میں سفید پوشی کے ساتھ گزارہ ہو جائے۔"آج کے زمانے میں وفاقی وزیر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے باز آجائے تو لوگ اسے پاگل کہتے اور سمجھتے ہیں، واقعی زمانہ بدل گیا۔