صومالیہ کے امن کو لاحق خطرات کی نوعیت بڑی عجیب اور پچیدہ ہے۔ یہاں نہ صرف کئی مقامی گروہ سرگرم ہیں بلکہ بیرونی عوامل بھی ہیں جن کی ظاہری ترجیحات میں فرق کے باوجود جو قدر مشترک ہے وہ حکومتی املاک کو نقصان پہنچانا اور انسانی جانوں کو تلف کرنا ہے جس سے امن و امان کی صورتحال دگرگوں اور معیشت ناہموار ہے۔
صومالیہ کا ایک حصہ صومالی لینڈ ہے یہ مشرقی افریقہ میں واقع ہے اِس کا 176120 مربع کلومیٹر رقبہ ہے یہاں ستاون لاکھ نفوس آباد ہے اکثریتی آبادی مسلمان ہے، زبان صومالی اور عربی ہے۔ یہ اٹھارہ مئی 1991 سے خود ساختہ آزاد ریاست ہے جسے اعلان کرنے کے باوجود 2025 تک کسی ملک نے آزاد تسلیم نہیں کیا اِس لیے تین دہائیوں سے عالمی شناخت سے محروم ہے مگر گزشتہ برس کے آخری ایام میں اسرائیل نے اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے اِسے ایک آزاد و خود مختار ملک تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات استوار کرلیے ہیں۔
اِس اسرائیلی فیصلے پر اسلامی دنیا سے شدید ردِ عمل آیا پاکستان سمیت بیس اسلامی ممالک نے صومالیہ کی تقسیم کو قبول کرنے کے فیصلے کی مذمت کی خیر یہ کوئی اچانک ہونے والا اعلان نہیں کیونکہ اسرائیل کی یہاں دلچسپی اور دخل اندازی عشروں پر محیط ہے۔ آج سے پانچ برس قبل 2020 میں جب اسرائیل اور عرب امارت میں معاہدہ ہوا تو صومالی لینڈ کی علیحدگی پسند قیادت نے پُرجوش خیر مقدم کیا۔ اب بھی اسرائیلی وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے کہا ہے کہ صومالی لینڈ کے دارالحکومت ھر جیسا اور تل ابیب کے حکام میں ایک برس سے ملاقاتیں اور روابط ہیں جو ابراہیمی معاہدے کی کڑی ہیں ہم نے مستقبل کے حوالہ سے باقاعدہ مشاورت کی اور پھر صومالی لینڈ کو آزاد و خودمختار ملک کی حثیت سے تسلیم کیا ہے۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ اسرائیل نے صومالی لینڈ کو بطور آزاد ملک کیوں تسلیم کیا اور اِس طرح اُن امریکی کوششوں کو کیوں نقصان پہنچایا ہے جن کا مقصد عرب ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کراناہے؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اِس فیصلے سے خطے میں ایک نئی محاز آرائی اور کشیدگی جنم لے گی؟ تو اِس کا جواب ہاں کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتا کیونکہ مسلم ممالک کو کمزور اور تقسیم کرنا اسرائیل کی ہمیشہ سے اولیں ترجیح رہی ہے۔ اُس کے حالیہ فیصلے سے بھی صومالیہ کی تقسیم یقینی ہوگئی ہے۔
اکتوبر2024 میں ایسی اطلاعات منظرِ عام پر آئی تھیں کہ صومالی لینڈ نے اسرائیل کو فوجی اڈا دینے کی پیشکش کی ہے جس اِسرائیل نے قابلِ عمل پیشکش قرار دیا ہے یہاں اڈا بناکر اسرائیل بیک وقت حوثیوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ سعودی عرب اور مصر جیسے طاقتور عرب ممالک کو دباؤ میں رکھ سکتا ہے۔ مصر چاہتا ہے کہ بحیرہ احمر پر صرف اِس کے ساحلی ممالک کا کنٹرول ہو۔ اِس مقصد کے لیے وہ موغادیشو کی کوششوں کی اعلانیہ حمایت کرتا ہے جو اسرائیل کو ناپسندہیں۔ اگر صومالی لینڈ کی پیشکش کے مطابق اسرائیل اِس خطے میں فوجی اڈا بنالیتا ہے تو یمن کی طرف سے اسرائیلی تجارت کے لیے بحیرہ احمر بند کرنے سے اُسے جس تجارتی دباؤ کا سامنا سے اُس سے نکل آئے گا اور ایشیا سے مشرقی افریقہ تک بلا روک ٹوک تجارت جاری رکھنے کے قابل ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ نہر سویز پر کنٹرول سے مصر کو بلیک میل کرنے کی اضافی سہولت بھی حاصل ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز سے سعودیہ، عمان، عرب امارات سمیت یمن کی برآامدات کو جب چاہے گا روکنے پر قادر ہوجائے گا۔ اسی بنا پر عالمی امور پر دسترس رکھنے والے اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ صومالی لینڈ دراصل خطے میں اسرائیل کی ایسی نئی کالونی ثابت ہوگی جہاں سے عرب ممالک کو گھیرنے کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔
پاکستان، ایران، ترکی اوآئی سی سمیت کئی عرب ممالک صومالی لینڈ کو آزاد ملک تسلیم کرنے کے اسرائیلی اقدام کو امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے اور صومالیہ کی وحدت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ صاف عیاں ہے کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ ایسا شرپسندانہ ہے جس سے وہ خطے کے مسلم ممالک کونہ صرف بدامنی میں دھکیلے گا بلکہ اُنھیں تقسیم کرنے کے دیرینہ خواب کو پورا کر سکے گا۔ مسلم ممالک کے ایسے شدید ردِ عمل پر ہی امریکہ نے وضاحت کی ہے کہ وہ اسرائیل کے اِس فیصلے سے متفق نہیں مگر ماضی کے پیشِ نظر کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی اسرائیلی فیصلہ امریکی علم اور منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا عین ممکن ہے آج کے موقف پر نظرثانی کرتے ہوئے اسرائیلی اقدام کی مستقبل میں تائید کردی جائے جس طرح گزشتہ دورِ صدارت میں ٹرمپ نے یوروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت کرتے ہوئے امریکہ سفارتخانہ تل ابیب سے یہاں منتقل کرنے کی منظوری دی۔ اب بھی کچھ ایسا ہی کوئی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے کیونکہ اسرائیلی مفادات کی نگہبانی سے امریکہ کبھی چشم پوشی کرہی نہیں سکتا۔
حماس جیسے خطرے کا مستقل خاتمہ اسرائیل کی ترجیحات میں شامل ہے اِس میں امریکی معاونت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دونوں اب یہ مقصد مسلم ممالک کی افواج سے حا صل کرنا چاہتے ہیں تاکہ حماس کا مذہب کارڈ بے اثر ہونے کے ساتھ اُس کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔ علاوہ ازیں دونوں ممالک کا غزہ سے انسانی آبادی کے انخلا پر بھی اتفاق ہے۔ ایسی قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا ایک مقصد غزہ سے بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں کو یہاں منتقل کرنا ہے جنھیں قبول کرنے پر صومالی لینڈ آمادہ ہے اِس کے لیے غزہ مکینوں کو جبری طورپر فضائی اور زمینی راستوں سے منتقل کیا جا سکتا ہے اِس میں صومالی لینڈ کی قیادت اسرائیل کو ہر ممکن سہولت دینے پر تیار ہے۔
اسی بناپر خیال کیاجاتا ہے کہ امریکی ظاہری ناپسندیدگی اور تائید سے انکار میں کوئی صداقت نہیں اور اِس کا مقصد محض عربوں کو مطمئن کرنا ہے کیونکہ اِس ایک فیصلے سے غزہ ساکنین سے جان چھڑانا اور سارا علاقہ خالی کرانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ صومالی لینڈ کی بطور ایک آزاد ملک شناخت کو تسلیم کرنے میں انسانی حقوق جیسے معامالات کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ اسرائیل کو انسانی حقوق سے کوئی سروکار نہیں بلکہ یہ عرب ممالک کی جغرافیائی حدبندی کو تبدیل کرنے کی ایک ایسی بڑی سازش ہے جس سے عربوں کی معیشت و دفاع دونوں متاثر ہوں گے۔
صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی آڑ میں اسرائیل کے لیے شام اور لیبیا کی طرح دیگر عرب ممالک میں خانہ جنگی کو فروغ دینا آسان ہوجائے گا۔ اِس طرح عرب بادشاہتوں سے تمام مطالبات منوانا آسانی رہے گی اِس میں امریکی معاونت اسرائیل کو حاصل ہونا عین قرین قیاس ہے۔ ایسی سازشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں خطے سے ایتھوپیا کا تعاون الگ نعمت ہے۔ بحیرہ احمر پر کنٹرول، عرب ممالک کودباؤ، حوثیوں کا گھیراؤ اور غزہ کے مکینوں کی منتقلی جیسے مقاصد کے لیے اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا گیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی، محاز آرائی اوربے چینی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ صومالی لینڈ کو بطور آزاد ملک تسلیم کرنے سے عرب ممالک داخلی انتشار و تقسیم کا شکار ہوں گے کیونکہ مشرقی افریقہ کی یہ ریاست خطے میں اسرائیلی مفادات کی نگہبانی کا زریعہ بن سکتی ہے۔