Saturday, 24 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Gul Plaza Se Ghaza Aman Board Tak

Gul Plaza Se Ghaza Aman Board Tak

زیادہ مناسب یہی تھا کہ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ پارلیمنٹ کی مشاورت سے کیا جاتا۔ ایک عام رائے دہندہ کے طور رائے یہی ہے کہ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت درست نہیں، البتہ پارلیمنٹ میں عام بحث ہوجاتی اور فیصلہ بھی تو قیامت برپا نہیں ہوجانی تھی۔ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے اس فیصلے سے ایک بار پھر ہماری اس فہم کو رزق ملا کہ سیکورٹی اسٹیٹ کا طبقاتی نظام اور منتخب ادارے بس نمائشی ہوتے ہیں ہوتا وہی ہے جو "پیا" چاہے طبقاتی نظام کی سہاگن پیا کا جی بہلانے کیلئے ہوتی ہے یہی ہماری ریاستی تاریخ کا کڑوا سچ ہے۔

بہر حال ہمارا میڈیا ہمیں بتارہا ہے کہ "صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف سے قبلہ گاہی فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر کے بارے میں پوچھا وزیراعظم نے اشارے سے ان کی موجودگی کی نشاندہی کی صدر ٹرمپ نے مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے پرجوش انداز میں تھمز کا اشارہ کیا" بھاگ لگے رین جوڑی دی خیر ہووے۔

ہماری دانست میں پاکستان تحریک انصاف سمیت متعدد جماعتوں کی یہ تجویز بجا طور پر درست ہے کہ امن بورڈ میں شرکت قومی مشاورت تک واپس لی جائے۔

کیا ایسا ممکن ہے؟ غالباً کیا حقیقت میں یہ ممکن نہیں ٹرمپ کو کون اور کس لئے ناراض کرنے کا خطرہ مول لے اب سوال یہ ہے کہ غزہ امن بورڈ کی رکنیت کے ایک ارب ڈالر کہاں سے آئیں گے؟ آپ بھی ہماری طرح اس پہ غور کیجے ہم ذرا سندھ کے دارالحکومت کراچی کا چکر لگا کر آتے ہیں۔

کراچی میں ایک معروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں چنددن قبل آگ لگنے سے پیدا ہوئی افسوسناک صورتحال کے بعد الزاماتی ملاکھڑے کا آغاز پورے جوش و جذبہ سے شروع ہوا اور تادم تحریر جاری و ساری ہے۔

ملاکھڑے میں شریک پہلوان کامل "جذبہ ایمانی" کے ساتھ ایک دوسرے کو "دھو رہے ہیں" فقیر راحموں کہتا ہے شاہ چونکہ تم پیپلز پارٹی کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہو اس لئے دھو رہے ہیں لکھ رہے ہو ورنہ تمہیں لکھنا چاہئے تھا کہ سارے پہلوان اپنے اپنے گندے کپڑے ایم اے جناح روڈ پر دھورہے ہیں۔

آگے بڑھنے سے قبل ذرائع ابلاغ میں آگ لگنے سے بھسم ہوجانے والے گل پلازہ کی تعمیر سے اب تک کی کچھ تفصیل شائع ہوئی وہ آپ کے استفادے کیلئے درج کیئے دیتا ہوں۔ اس چند سطری تفصیل کے مطابق "گل پلازہ کی عمارت 1980ء کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی، 2003ء میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا تھا۔

گل پلازہ کے نقشے کے مطابق 1021 دکانیں بنانے کی اجازت تھی لیکن تعمیر 1200 دکانیں کی گئیں، گل پلازہ میں 179 دکانیں قانون کیخلاف تعمیر ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق 1998ء میں گل پلازہ میں اضافی منزل تعمیر ہوئی، پارکنگ ایریا میں دکانیں، چھت پر پارکنگ بنی، 2003ء میں اضافی منزل کو ریگولرائز کیا گیا، مالک نے 14 اپریل 2003ء کو کمپلیشن حاصل کیا، گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت 3 منزلوں کی اجازت تھی۔ ایس بی سی اے کے مطابق پلازہ میں راہداری، باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں"۔

یہ رپورٹ درست ہے یا محض ڈھمکیری اس پر سر کھپانے کی بجائے ہم سبھی کو یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے ایک ایسا عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جسے تعمیراتی ماہرین کے ساتھ مختلف محکموں اور ایجنسیوں کا تعاون حاصل ہوتاکہ پورا سچ عوام الناس کے سامنے آسکے۔

ویسے تو پورے سچ سے عوام کا آگاہ کرنے کا ہمارے ہاں رواج نہیں ہے پھر بھی عرض کرنے اور مطالبہ کرنے میں کیا امر مانع ہے؟

سانحہ گل پلازہ کے بعد اٹھارہویں ترمیم کے مخالفوں اور چند دیگرز کی باسی کڑی میں جس طرح اُبال آیا ہوا ہے اس سے ان اطلاعات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ بھی اس سانحہ کی طرح کا ایک سانحہ ہے جو چند برس قبل ایک کراچی میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے پیش آیا تھا۔

آگ جس تیزی سے لگی کیا بجلی کا شارٹ سرکٹ ہونے سے ایسا ممکن تھا؟ گزشتہ روز ابتدائی رپورٹ کے حوالے یہ خبر سامنے آئی کہ آگ پلاسٹک کے کھلونوں کی ایک دکان میں لگی جہاں غالباً بچے لیٹر یا ماچس سے کھیل رہے تھے اس ابتدائی رپورٹ کو اگر سوا توپ کی سلامی نہ دی جائے تو یہ زیادتی ہوگی۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان والے آستینیں الٹ کر کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جماعت اسلامی اپنی دُھن میں کشتوں کے پشتے لگارہی ہے ساعت بھر کے لئے رُکیئے جماعت اسلامی کی ایک باریک واردات سامنے آئی ہے۔

جماعت کے پوسٹر بوائے امیر حافظ نعیم الرحمن نے 2024 کے انتخابات میں کراچی سے سندھ اسمبلی کے ایک حلقے سے رکن منتخب ہوئے تب انہوں نے ذرائع ابلاغ اور جماعتی اجتماعات میں بڑھک ماری کہ وہ چوری کی خیراتی نشست نہیں لیتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حوالے سے انہوں نے تحریری طور پر سپیکر سندھ اسمبلی یا الیکشن کمیشن کو کبھی آگاہ نہیں کیا۔

بس بڑھکیں ماریں اب گوشوارے جمع نہ کرانے والے ارکان اسمبلی میں ان کا نام بھی شامل ہونے کی خبر سامنے آئی ہے، ظاہر کہ اگر صوبائی اسمبلی کی نشست نہ لینے کے حوالے سے انہوں نے طریقہ کار کے مطابق کام کیا ہوتا تو اب تک اُس خالی نشست پر ضمنی انتخابات ہوچکے ہوتے ان میں کون جیتتا ہارتا یہ الگ بات ہے لیکن ایک حلقے کے رائے دہندگان اپنی نمائندگی سے محروم ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟

ایم کیو ایم کراچی کو وفاق کا حصہ قرار دینے کا مطالبہ کررہی ہے پیپلز پارٹی جوابی "فائرنگ" میں جُتی ہوئی ہے۔ ان ساری باتوں کے بیچوں بیچ پاکستان میں خود کو بادشاہ گر سمجھنے والے ایک میڈیا ہاوس کے اینکرنے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کے والدین سال 1984 میں بھارت سے پاکستان منتقل ہوئے اور موصوف سال 1985 میں دنیا میں تشریف لائے، کراچی کی نجکاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کراچی کی نجکاری کردے کراچی والے اسے خرید لیں گے اور موجودہ سے اچھے انداز میں چلالیں گے۔

اس پر کچھ لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ یہی مشورہ بھارت سے نقل مکانی کے سال 1984 میں ان کے والدین نے بھارتی حکومت کو کیوں نہ دیا؟

لاریب سانحہ گل پلازہ ایک المناک واقعہ ہے لیکن حقائق جاننے اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کی شعوری کوششوں اور اقدامات کی بات کرنے کی بجائے لایعنی باتیں کرکے کون کسے خوش کررہا ہے؟ یہ بذاتِ خود ایک سوال ہے۔

البتہ بعض حلقوں کا یہ شکوہ درست ہے کہ چندماہ قبل فیصل آباد میں فیکٹری کا بوائلر پھٹنے سے تین درجن سے زائد محنت کش وفات پا گئے تھے تب تو کسی نے فیصل آباد کی نجکاری کا مطالبہ کیا نہ تجویز دی۔

پچھلے برس کے سیلاب نے پنجاب جنوبی حصے کو بدترین صورتحال سے دوچار کیا لاکھوں خاندان "زبر سے زیر" ہوگئے کسی نے جنوبی پنجاب کی نجکاری کا مشورہ دیا نہ مطالبہ کیا۔

بہر طور یہ عرض کرنا غلط نہ ہوگا کہ سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے جس جس کی جو ذمہ داری بنتی ہے وہ اسے قبول کرے۔ اٹھارہویں ترمیم کے لتے لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے باتیں اور خبریں مزید بھی ہیں مگر آج کیلئے اتنا ہی باقی کسی آئندہ کالم میں۔