یومِ یکجہتیٔ کشمیر محض ایک علامتی دن یا رسمی قرارداد کا نام نہیں بلکہ یہ قومی ضمیر کی وہ صدا ہے جو ہر سال سات دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک ایسے خطے کے لیے بلند ہوتی ہے جہاں انسانی حقوق، آزادیِ رائے اور حقِ خودارادیت کو طاقت کے زور پر دبایا گیا۔ کشمیر کی وادی، جو فطری حسن، تہذیبی وقار اور تاریخی شعور کی امین ہے، آج بھی عسکری محاصرے، سیاسی جمود اور سماجی اضطراب کے سائے میں سانس لے رہی ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر دراصل اس عہد کی تجدید ہے کہ پاکستان، اخلاقی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی جدوجہد کو عالمی ضمیر کے سامنے زندہ رکھنا اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کسی وقتی تنازع یا سرحدی اختلاف سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ایک زندہ انسانی المیہ ہے، جس میں نسل در نسل قربانیاں دی جا رہی ہیں، اجتماعی سزاؤں کا سامنا ہے اور بنیادی انسانی آزادیوں کو معطل رکھا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بندشیں، سیاسی قیادت کی نظربندیاں، آبادیاتی تبدیلی کے اقدامات اور جبری قوانین نے نہ صرف خطے کی سماجی ساخت کو مجروح کیا بلکہ عالمی قانون اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو بھی عملاً بے معنی بنا دیا ہے۔ ایسے میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر عالمی برادری کے ضمیر پر ایک دستک ہے کہ خاموشی خود ایک جرم بن جاتی ہے جب ظلم مسلسل اور منظم ہو۔
کشمیر کی جدوجہد ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ آزادی کی تحریکیں محض جذبات سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی، اجتماعی شعور اور بیانیے کی جنگ سے جیتی جاتی ہیں۔ آج کی دنیا میں طاقت صرف عسکری میدان میں نہیں آزمائی جاتی بلکہ اطلاعات، قانون، سفارت کاری اور رائے عامہ کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہے۔ اسی لیے کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی ذمہ داری محض بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایک جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے، جس میں حقائق پر مبنی ابلاغ، قانونی دلائل، انسانی حقوق کی دستاویزات اور عالمی فورمز پر مسلسل پیروی شامل ہو۔ یہ وہ محاذ ہے جہاں سچ کو منظم انداز میں پیش کرنا، جھوٹے بیانیوں کا مدلل جواب دینا اور متاثرہ انسانوں کی آواز کو مرکز میں رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں اپنی داخلی کمزوریوں پر غور کی دعوت بھی دیتا ہے۔ کوئی بھی ریاست اس وقت مؤثر اخلاقی موقف اختیار کر سکتی ہے جب اس کا اپنا طرزِ حکمرانی قانون، انصاف اور انسانی وقار سے ہم آہنگ ہو۔ داخلی سلامتی، ادارہ جاتی ہم آہنگی، قانون کی بالادستی اور ریاستی رِٹ کا یکساں نفاذ وہ عناصر ہیں جو کسی بھی بین الاقوامی مقدمے کو وزن عطا کرتے ہیں۔ جب ایک ریاست اپنے اندر دہشت گردی، انتہا پسندی اور غیر ریاستی تشدد کے خلاف مؤثر، قانونی اور شفاف اقدامات کرتی ہے تو اس کا مؤقف عالمی سطح پر زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ داخلی استحکام اور بیرونی سفارت کاری ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔
کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا کے امن سے جڑا ہوا ہے۔ یہ خطہ ایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کا مسکن ہے، جہاں کسی بھی طویل تنازع کا برقرار رہنا علاقائی عدم استحکام کو جنم دیتا ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر دراصل اس نکتے کی یاد دہانی بھی ہے کہ پائیدار امن طاقت کے توازن یا عسکری دباؤ سے نہیں بلکہ انصاف پر مبنی حل سے جنم لیتا ہے۔ کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دیے بغیر نہ تو خطے میں اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور نہ ہی مستقبل کے لیے پائیدار امن کی ضمانت پیدا کی جاسکتی ہے۔
اس دن کی معنویت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ہم اسے محض جلسوں، نعروں اور رسمی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے فکری اور عملی سطح پر زندہ رکھیں۔ تعلیمی اداروں میں تحقیق، میڈیا میں ذمہ دارانہ مکالمہ، سول سوسائٹی کی شمولیت اور نوجوانوں کی فکری تربیت وہ ستون ہیں جن پر کشمیر کے مقدمے کو نئی نسل تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ کشمیر کو صرف ایک جذباتی موضوع کے طور پر نہیں بلکہ ایک قانونی، انسانی اور اخلاقی مسئلے کے طور پر پیش کیا جائے، تاکہ عالمی رائے عامہ اسے محض دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ ایک دبے ہوئے عوام کی آواز سمجھے۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ وقت کے ساتھ بیانیے بدلتے ہیں، مگر اصول نہیں بدلتے۔ طاقت کے توازن، عالمی سیاست اور سفارتی ترجیحات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، مگر انسانی حقوق، آزادی اور انصاف کی قدر ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ کشمیر کی جدوجہد اسی اصولی بنیاد پر کھڑی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ پاکستان کے لیے یہ دن اس عزم کی تجدید ہے کہ وہ اس اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، چاہے عالمی سیاست کے موسم کتنے ہی سرد یا گرم کیوں نہ ہوں۔
آخرکار، یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموش تماشائی بن جانا بھی ظلم کے تسلسل کو تقویت دیتا ہے اور آواز بلند کرنا ہی وہ پہلا قدم ہے جو کسی بھی جدوجہد کو زندہ رکھتا ہے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ان کی کہانی کو فراموش نہ ہونے دیا جائے، ان کے حق کو وقتی مصلحتوں کی نذر نہ کیا جائے اور ان کے مستقبل کو طاقت کی سیاست کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر دراصل اسی عہد کا نام ہے کہ حق کی یہ صدا دبائی نہیں جائے گی اور انصاف کی یہ تلاش وقت کی گرد میں گم نہیں ہونے دی جائے گی۔