Sunday, 14 June 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Mazar Shareef Ka Marka

Mazar Shareef Ka Marka

افغانستان کی طویل خانہ جنگی کے متلاطم اور تہہ در تہہ تاریخی مناظر میں مزار شریف کا معرکہ ایک ایسے فیصلہ کن مگر پیچیدہ باب کی حیثیت رکھتا ہے جس میں داخلی انتشار، قبائلی و نسلی کشمکش، عسکری عدم توازن اور بیرونی طاقتوں کی ہمہ جہت مداخلت بیک وقت متحرک دکھائی دیتی ہے۔ یہ واقعہ محض ایک عسکری جھڑپ نہیں بلکہ خطے کی مجموعی جیو اسٹریٹجک ساخت میں ایک ایسے تغیر کی علامت ہے جس نے طاقت کے توازن کو غیر مستقل اور غیر یقینی خطوط پر استوار کر دیا۔

اس دور میں شمالی افغانستان کی عسکری قوت کا مرکزی ستون جنرل عبدالرشید دوستم کی قیادت میں ازبک دھڑے پر قائم تھا، تاہم ان کے نائب کمانڈر عبدالمالک پہلوان کے ساتھ پیدا ہونے والی شدید بداعتمادی نے اس پورے عسکری ڈھانچے کو اندرونی طور پر کمزور کر دیا۔ یہ بداعتمادی محض سیاسی یا تنظیمی اختلاف تک محدود نہ رہی بلکہ ذاتی نوعیت کے ان شکوک و شبہات تک جا پہنچی جن میں عبدالمالک کے نزدیک اپنے بھائی رسول پہلوان کی ہلاکت میں دوستم کے مبینہ کردار کا تصور مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ یہی داخلی دراڑ بعد ازاں اس پورے محاذ کی کمزوری کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان نے منظم سیاسی و عسکری حکمتِ عملی کے تحت مقامی عناصر سے روابط استوار کیے اور مزار شریف کی سمت پیش قدمی کی راہ ہموار کی۔

اس داخلی انتشار کے ساتھ ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن عنصر مالی و انتظامی بدحالی بھی تھا۔ دوستم کی افواج کو طویل عرصے تک تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے نہ صرف سپاہیوں کے اندر اضطراب اور بے چینی کو جنم دیا بلکہ عسکری نظم و ضبط کی بنیادوں کو بھی متزلزل کر دیا۔ جنگی اداروں میں معاشی استحکام دراصل وفاداری اور تنظیمی ہم آہنگی کا بنیادی ستون ہوتا ہے اور جب یہ ستون کمزور پڑ جائے تو پوری عسکری مشینری داخلی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ شمالی محاذ پر یہی کیفیت بتدریج واضح ہوتی گئی، جس کے نتیجے میں وفاداریاں غیر مستقل اور مواقع کی تابع ہوتی چلی گئیں۔

اسی دوران متعدد مقامی کمانڈروں کی جانب سے بدلتی ہوئی صف بندیاں بھی ایک اہم اسٹریٹجک عنصر کے طور پر سامنے آئیں۔ بعض ازبک و دیگر علاقائی رہنماؤں نے طالبان کے ساتھ مفاہمت یا عدم مزاحمت کی راہ اختیار کی، جس نے دفاعی ڈھانچے کو مزید کمزور اور منتشر کر دیا۔ اس داخلی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں شمالی افغانستان کے متعدد خطے بتدریج طالبان کے زیرِ اثر آتے گئے اور بالآخر عبدالرشید دوستم کو منظم پسپائی اختیار کرنا پڑی، جو بعد ازاں ان کے جلاوطنی پر منتج ہوئی۔

مزار شریف کا داخلی منظر نامہ اس پورے معرکے کا مرکزی اور فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا، جہاں طالبان افواج نے شہر میں داخل ہو کر ایک نئے انتظامی و نظریاتی نظم کے نفاذ کی کوشش کی۔ اس نظم میں اسلحے کی ضبطی، سماجی ضوابط کی سختی اور ایک مخصوص اخلاقی فریم ورک کا اطلاق شامل تھا، تاہم یہ اقدامات مقامی سماجی ساخت، تاریخی مزاج اور ثقافتی تنوع سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث فوری مزاحمت کو جنم دینے کا سبب بنے۔ خصوصاً ہزارہ اور بعض ازبک عناصر نے اس نئے نظم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں شہر ایک شدید اور ہمہ گیر تصادم کا مرکز بن گیا۔

یہ مزاحمت جلد ہی ایک وسیع پیمانے کی مسلح جھڑپ میں تبدیل ہوگئی، جس میں طالبان کو غیر متوقع اور شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ محدود شہری جغرافیہ، منظم مزاحمتی گروہوں اور داخلی تنظیمی چیلنجز کے باعث طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور ان کی صفوں میں متعدد اہم گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ یہ صورتِ حال اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ افغانستان کا تنازع کسی یک رخے عسکری تسلسل کا نام نہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی اور پیچیدہ داخلی جنگ ہے جس میں مقامی عوامل فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی عرصے میں شمالی اتحاد کے دیگر نمایاں رہنماؤں، بالخصوص احمد شاہ مسعود، نے اس صورتحال سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی عسکری پیش رفت کو تیز کیا، جس کے نتیجے میں کابل کے اطراف میں طاقت کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔ یوں افغانستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوا جہاں متعدد محاذ بیک وقت فعال تھے اور کسی ایک فریق کے لیے حتمی برتری کا حصول عملی طور پر دشوار تر ہوتا جا رہا تھا۔

اس پورے تنازعے کے دوران علاقائی و بین الاقوامی قوتوں کی مداخلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ اور ہمہ گیر بنا دیا۔ مختلف ریاستوں کی جانب سے اسلحہ، مالی معاونت اور سیاسی حمایت کے تسلسل نے اس داخلی جنگ کو علاقائی جیو پولیٹیکل کشمکش میں تبدیل کر دیا۔ پاکستان، سعودی عرب، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی مختلف سطحوں پر شمولیت نے اس تنازعے کو محض داخلی خانہ جنگی کے دائرے سے نکال کر ایک وسیع تر اسٹریٹجک مقابلے کی شکل دے دی۔

اسی پس منظر میں طالبان کی بین الاقوامی حیثیت اور ان کی حکومت کی سفارتی شناخت کا سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا۔ مزار شریف کے واقعات کے بعد بعض علاقائی ریاستوں کی جانب سے طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے کے فیصلے نے اس تنازعے کے سیاسی پہلو کو ایک نیا رخ دیا، تاہم یہ فیصلے نہ تو عالمی اتفاقِ رائے کے حامل تھے اور نہ ہی داخلی استحکام کی ضمانت فراہم کرتے تھے، بلکہ یہ زیادہ تر علاقائی مفادات اور جغرافیائی حکمتِ عملیوں کا نتیجہ تھے۔

اس پورے تاریخی مرحلے کا مجموعی تجزیہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جب داخلی سیاسی و عسکری اختلافات بیرونی مداخلت کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں تو تنازعات نہ صرف طویل المدتی ہو جاتے ہیں بلکہ ان کی پیچیدگی بھی غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ مزار شریف کا واقعہ اسی حقیقت کا ایک نمایاں مظہر ہے جہاں داخلی کمزوریاں، علاقائی مفادات اور عالمی اسٹریٹجک ترجیحات ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہوگئیں کہ کسی ایک فریق کے لیے مکمل کنٹرول کا حصول ممکن نہ رہا۔

یوں یہ پورا باب افغانستان کی تاریخ میں ایک ایسے دور کی نمائندگی کرتا ہے جس میں طاقت مستقل تغیر پذیر رہی، اتحاد ناپائیدار ثابت ہوئے اور عسکری کامیابیاں وقتی نوعیت اختیار کرتی رہیں۔ یہ محض ایک جنگی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسے خطے کی سیاسی و سماجی ساخت کا عکاس ہے جو مسلسل عدم استحکام، تغیر اور بیرونی اثرات کے زیرِ سایہ اپنی داخلی سمت متعین کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہا۔