انسانی تاریخ کے موجودہ مرحلے میں طاقت کی تعریف صرف اقتصادی حجم، آبادی کی تعداد یا عسکری نفری سے نہیں ہوتی بلکہ اس کا سب سے فیصلہ کن پیمانہ وہ تباہ کن صلاحیت ہے جو کسی ریاست کے پاس آخری حربے کے طور پر موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار آج بھی عالمی سیاست کے سب سے اہم اور حساس ستون سمجھے جاتے ہیں۔ بظاہر سرد جنگ کا خاتمہ تین دہائیاں قبل ہو چکا، مگر جوہری مقابلے کی روح آج بھی زندہ ہے اور اب یہ مقابلہ ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ دور میں داخل ہو رہا ہے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کی تازہ سالانہ رپورٹ نے دنیا کے جوہری منظرنامے کی ایک ایسی تصویر پیش کی ہے جو بیک وقت تشویشناک، سبق آموز اور غور طلب ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے کل جوہری ذخائر کا تقریباً بیاسی فیصد حصہ صرف دو طاقتوں، روس اور امریکہ، کے پاس موجود ہے۔ روس چار ہزار تین سو اسی جبکہ امریکہ تین ہزار سات سو کے قریب فعال یا ذخیرہ شدہ وارہیڈز کا مالک ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ اگرچہ دنیا ایک کثیر القطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، مگر جوہری قوت کے میدان میں اب بھی دو بڑی ریاستوں کی اجارہ داری نمایاں ہے۔
تاہم اصل توجہ کا مرکز صرف یہ اعداد و شمار نہیں بلکہ وہ رجحانات ہیں جو آنے والے برسوں کی عالمی سیاست کو تشکیل دے سکتے ہیں۔ چین کے جوہری ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے پاس اب چھ سو بیس کے قریب وارہیڈز موجود ہیں۔ فرانس، برطانیہ، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا بھی اپنے اپنے سکیورٹی تصورات کے مطابق جوہری صلاحیت کو برقرار رکھنے یا بڑھانے میں مصروف ہیں۔ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوہری تخفیفِ اسلحہ کے عالمی وعدے اور عملی اقدامات کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
جنوبی ایشیا اس تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اسٹریٹجک رقابت اب صرف روایتی عسکری میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ جوہری صلاحیت بھی اس مقابلے کا مرکزی عنصر بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 تک بھارت کے پاس تقریباً ایک سو نوے جبکہ پاکستان کے پاس ایک سو ستر وارہیڈز موجود تھے۔ اگرچہ دونوں ممالک نے زمین، فضاء اور سمندر سے جوہری حملے کی صلاحیت پر مشتمل نیوکلیئر ٹرائیڈ کے مختلف پہلوؤں میں پیش رفت کی ہے، تاہم ان کی دفاعی حکمت عملیوں میں نمایاں فرق موجود ہے۔
بھارت اپنی جوہری قوت کو ایک وسیع تر عالمی اور علاقائی اسٹریٹجک فریم ورک کا حصہ سمجھتا ہے، جس میں چین سمیت دیگر علاقائی عوامل بھی شامل ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی جوہری حکمت عملی کا بنیادی مقصد روایتی عسکری عدم توازن کے مقابلے میں مؤثر بازدار قوت قائم رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے جوہری پروگرام بظاہر ایک ہی خطے میں موجود ہونے کے باوجود مختلف سکیورٹی تصورات اور خطرات کے ادراک سے تشکیل پاتے ہیں۔
رپورٹ کا سب سے اہم اور فکرمند کر دینے والا پہلو مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار سے متعلق ہے۔ ماضی میں جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز بنیادی طور پر انسانی فیصلہ سازی کے تابع تھے، لیکن اب جدید الگورتھمز، خودکار تجزیاتی نظام اور مشین لرننگ ٹیکنالوجیز اس عمل کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ بظاہر یہ پیش رفت تیز رفتار تجزیے، بہتر نگرانی اور فوری ردعمل کی صلاحیت پیدا کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک سنگین خطرہ بھی وابستہ ہے۔ اگر کسی تکنیکی خرابی، غلط ڈیٹا، سائبر حملے یا الگورتھمک غلط فہمی کے نتیجے میں صورتحال کا غلط اندازہ لگایا جائے تو چند لمحوں میں ایسے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں جن کے اثرات پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جوہری دور کے آغاز سے اب تک سب سے بڑا حفاظتی عنصر انسانی احتیاط، سیاسی تدبر اور فیصلہ سازوں کی ذمہ داری کا احساس رہا ہے۔ اگر مستقبل میں حساس ترین عسکری فیصلوں میں مصنوعی ذہانت کا کردار بڑھتا گیا تو غیر یقینی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے، جس کے نتائج کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عسکری طاقت، تکنیکی ترقی اور جغرافیائی سیاست ایک دوسرے میں اس طرح گتھم گتھا ہو چکی ہیں کہ کسی ایک شعبے میں ہونے والی تبدیلی پوری عالمی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ، علاقائی تنازعات کی شدت، بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت اور مصنوعی ذہانت کا عسکری استعمال مل کر ایک ایسی فضا تشکیل دے رہے ہیں جس میں غلطی کی گنجائش پہلے سے کہیں کم رہ گئی ہے۔
آج ضرورت صرف اس امر کی نہیں کہ ممالک اپنے جوہری ذخائر کا حساب رکھیں، بلکہ اس بات کی بھی ہے کہ اعتماد سازی، سفارتی روابط، اسلحہ کنٹرول کے نئے معاہدے اور مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال کے لیے بین الاقوامی ضابطہ اخلاق تشکیل دیا جائے۔ بصورت دیگر انسانیت ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ سکتی ہے جہاں طاقت کے مراکز زیادہ ہوں گے، فیصلے زیادہ تیز ہوں گے، مگر ان فیصلوں کے نتائج کو روکنے کے مواقع پہلے سے کہیں کم رہ جائیں گے۔