Thursday, 12 December 2019

Ilm O Hikmat

لوگ پوچھتے ہیں کہ میں ایلوپیتھی کو اتنا پسند کیوں کرتا ہوں۔ دراصل میں ہر مفید ایجاد سے فائدہ اٹھانے کے حق میں ہوں۔ انسان نے لاکھوں سال کا وقت اس زمین پہ گزارا ہے۔ جب اس نے ہوش کی آنکھ کھولی، تو آہستہ آہستہ اس نے سمندر سے مچھلیاں پکڑنا سیکھا۔ فصل کاشت کرنا سیکھی۔ شروع شروع میں اسے صرف ایک سمت کا علم تھا۔ یہ سمت وہ تھی، جہاں سے سورج طلوع ہوتا تھا، پھر اس نے باقی تین سمتوں کے نام رکھے۔ قافلے قطبی ستارے کی مدد سے اپنی سمت کا تعین کرتے۔ چاند کے بڑھنے اور گھٹنے سے، آسمان پہ اس کے نمودار ہونے کی سمت سے بھی انہوں نے فائدہ اٹھایا۔ یوں وہ ایک مہینے کی مدت کا تعین کر لیتے تھے۔

پھر انسان نے قطب نما ایجاد کیا۔ اب سمتوں کا تعین بے حد آسان ہو گیا تھا۔ ہزاروں سال تک قافلے کمپاس کی مدد سے اپنی سمت کا تعین کرتے ہوئے طویل فاصلے طے کرتے رہے اور وہ بھی بالکل مفت۔ وقت گزرتا چلا گیا؛حتیٰ کہ گوگل میپ کا زمانہ طلوع ہوا۔ آج ہم کسی بھی نئے شہر جاتے ہیں۔ موبائل میں اپنی منزل کا نام درج کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نقشہ بنا آجاتا ہے۔ کہاں کس گلی میں مڑنا ہے، موبائل بتاتا رہتا ہے۔ اگر آپ اس کا استعمال سیکھ لیں، تو آپ کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ کمپاس کے استعمال میں ہزاروں خامیاں موجود تھیں۔ گوگل میپ میں یہ خامیاں دُور ہو چکی ہیں۔

قطبی ستارے اور کمپاس کی مدد سے انسان نے ہزاروں سال اپنی سمت کا تعین کیا۔ اس کے مقابلے میں گوگل میپ کو ابھی صر ف چند برس ہوئے ہیں، لیکن ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ گوگل میپ کا کمپاس سے کوئی موازنہ کیا جا ہی نہیں سکتا۔ یہ نئی ایجاد ہزاروں گنا زیادہ مفید ہے۔ جب ایک نئی چیز ایجاد ہوتی ہے، تو زمانہ بدل جاتا ہے۔ جانوروں پر انسان نے ہزاروں سال سواری کی، لیکن پھر پہیہ اور انجن ایجاد ہو ا۔ اس کے ساتھ سفر کی ساری سائنس بدل کے رہ گئی۔

آج، اگر آپ ایک شخص کو دیکھیں کہ وہ کمپاس اٹھا ئے، گھوڑا دوڑاتا جا رہا ہے کہ جلد از جلد اپنی منزل پہ جا پہنچے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ آپ اسے کہیں گے کہ بھائی گوگل میپ اور گاڑی لے اور اپنی زندگی آسان کر۔ تو کس مصیبت میں گرفتار ہے۔ یہی صورتِ حال میڈیکل سائنس کی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہزاروں سال تک حکما، مریض کی نبض اور چہرے کو دیکھ کر بیماریوں کے اندازے لگاتے رہے، لیکن یہ مراحل غلطیوں سے بھرپور تھے۔ بالکل اسی طرح، جیسے کہ قافلے قطبی ستارے کو دیکھتے دیکھتے کہیں کے کہیں نکل جاتے تھے۔ اس زمانے میں قطبی ستارے اور کمپاس سے زیادہ جدید ٹیکنالوجی اور کوئی تھی ہی نہیں۔ صحت سے متعلق ٹیکنالوجی میں آپ دیکھتے ہیں کہ ظہیر الدین بابر جیسا بادشاہ خون تھوکتا مر جاتا ہے، جبکہ آج کے دور میں غربا بھی ٹی بی کا علاج با آسانی کرا لیتے ہیں۔

اینڈوسکوپی، آنتوں میں سے biopsy ایکو، الٹرا سائونڈ، ایم آر آئی اور خون کے سو قسم کے ٹیسٹ ایجاد ہو چکے ہیں، جن سے یقینی طور پر پتہ چل جاتاہے کہ آپ کے جسم میں کیا خرابی واقع ہو چکی ہے۔ ریڈ بلڈ سیلز کم ہیں یا ہڈیوں میں کیلشیم اور جسم میں فولاد کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ کوئی nerveخراب ہو چکی ہے اور اس میں سے کرنٹ نہیں گزر پا رہا۔ خون کے ٹیسٹ سے جسم میں کیلشیم اور فاسفورس کی مقدار کا پتا چلالینا ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ ہمیں جس کا ادراک نہیں کہ ہمیں مفت ملی ہے۔

سپر پاور یونان اپنی موت آپ مر چکا۔ ارسطوکے اکثر نظریات غلط ثابت ہو چکے۔ یونانیوں کی عظمتِ رفتہ کو داد دی جا سکتی ہے، ان کے نظریات پہ چلنا ایسے ہی ہے، جیسے گوگل میپ اورانجن کے زمانے میں آپ گھوڑے اور کمپاس کو استعمال کرنے پر مصر ہوں۔ آپ اندازہ وزن کم کرنے والی ادویات سے لگائیں۔ بڑھا ہوا وزن کوئی بیماری نہیں۔ یہ جسم کی ضرورت سے زیادہ کھائی گئی خوراک ہے، جو چربی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ وزن کم کرنے میں خوراک(Diet)کی اہمیت 80فیصد ہے۔ خوراک کی سائنس کو اگر آپ سمجھیں گے نہیں، تومستقل بنیاد پرموٹاپا روکنے میں یقینا ناکام رہیں گے۔

میرے دو عزیزوں نے حکیمی ادویات کھا کر وزن کم کیا ہے ؛البتہ اس دوران ان کی کرسیاں بیت الخلا کے باہرہی رکھی تھیں۔ اگر اس طرح سے وزن کم ہونا ہے کہ بندہ دن میں سو دفعہ بیت الخلا کا رخ کرے تو ایسے وزن کم کرنے پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات سو فیصد یقینی ہے کہ اس طرح سے کم کیا گیا وزن واپس آئے گا، جیسے ہی آپ دوا لینا بند کریں گے۔ اگر ایلو پیتھی ان حرکتوں پہ اتر آئے، تو آپ کا وزن دنوں میں کم ہو سکتاہے ؛البتہ آپ کے جسم کو جو نقصان ہوگا، وہ ایک الگ داستان ہے۔

آپ سرجری کو دیکھ لیں۔ ایلو پیتھی کے علاوہ سرجری کہیں بھی نہیں ہو رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس لیے کہ سٹیرائیڈز کھلا کر لوگوں کو وقتی قوت سے نوازنابہت آسان کام ہے، لیکن معالج کی طبی مہارت کا اصل پتا اس وقت لگتا ہے، جب وہ جسم پر کٹ لگاتا ہے۔ بہتے ہوئے خون کو روکنا، جسم کے اندر ا س مہارت سے کام کرنا کہ کوئی بھی چیز Damage نہ ہو۔ خرابی کی مرمت کرنااور زخم کو سی کر بند کر دینا۔ یہ انتہائی مہارت کے کام ہیں۔ خون زیادہ بہہ گیا تو مریض مر جائے گا۔ ہاتھ کی ایک ذرا سی غلط حرکت مریض کی موت یا ساری زندگی کے عذاب کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سٹنٹ ڈالنے اور بڑی آنت کے کینسر سمیت، کسی بھی سرجری کی ضرورت پڑتی ہے، تو بڑے بڑے طبیبوں کو آخر ایک دن بے بس ہو کر ایلو پیتھک سرجنز کے سامنے لیٹنا پڑتا ہے۔ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کی استعداد ان کے پاس نہیں۔ اگر انہیں سرجری کا اختیار دے دیا جائے، تو ملک میں ہر روز ہزاروں لاشیں اٹھیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے، جب یہی لوگ مخلوقِ خدا کو ایلوپیتھک ڈاکٹرز کے پاس جانے سے روکتے اور اپنے زمانہ ٔ قدیم کے نسخوں پہ عمل کراتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔

میں بے شمار لوگوں کو جانتا ہوں، جنہوں نے میٹرک، ایف اے اور بی اے مر مر کے پاس کیا۔ وہ کبھی بھی brilliant طالب علم نہیں تھے، لیکن انہوں نے کورسز آسانی سے پاس کیے اور آج وہ لوگوں کا علاج کر رہے ہیں، جبکہ میں ایک بھی ایسے ایلوپیتھک ڈاکٹر کو نہیں جانتا، جو کہ ایک نکما طالب علم رہا ہو، اگر انسانی جسم کی مختلف ہڈیوں، نروز، شریانوں کے نام بھی ان سے پوچھیں جائیں تو وہ بتا نہیں سکیں گے۔ نظامِ انہضام کی شکل (ڈائیگرام ) تک بنا نہیں سکتے، لیکن ایک پڑیا سے وہ برسوں پرانی بیماری کا علاج کرنے کادعویٰ رکھتے ہیں۔

اصل میں ملک میں آبادی بہت زیادہ ہے اور زیادہ تر لوگ نا خواندہ اور بے روزگار ہونے کی وجہ سے اتنی اہمیت نہیں رکھتے کہ ان کی زندگی کو قیمتی سمجھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہی لوگوں کے ہاتھوں لوٹ پوٹ کر، آخر اپنے امیون سسٹم کی وجہ سے ٹھیک ہو جاتے ہیں یا سسکتے ہوئے مر جاتے ہیں۔ ملک میں اگر جنگل کا قانون نہ ہو تو تین چار لاکھ طبیبوں کو کروڑوں افراد کی زندگیوں سے کھیلنے، بالخصوص گردے ناکارہ کرنے کی پاداش میں سزائے موت دے دی جائے۔