Saturday, 25 June 2022
  1.  Home/
  2. Ayaz Amir/
  3. Rona Kis Baat Ka?

Rona Kis Baat Ka?

صنفِ نازک سے معذرت کے ساتھ کہ اُن کا صیغہ استعمال کرنے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ وہ پردہ نشین جس کا نام ریاست کی رِٹ ہے، اپنی عزت بچانے میں کامیاب رہی۔ یہ کیا کم کامیابی ہے؟ اگلے تو دندنا رہے تھے اور اپنی بات منوانے پہ تلے ہوئے تھے۔ پنجاب پولیس کی اچھی رگڑائی ہوئی۔ جانوں کا ضیاع بھی ہوا لیکن سمجھدار خاتون تھی اور اُس کی حکمت و دانائی کا ثبوت ہے کہ تصادم سے گریز کیا اور اِسی میں عافیت سمجھی۔ عزت تو آنی جانی چیز ہے، اہمیت تو جان اور اُس کی حفاظت کی ہے۔ جان محفوظ رہے تو سمجھئے کہ سب کچھ حاصل ہو گیا۔

یوں تو ہماری تاریخ انوکھے واقعات سے بھرپور ہے لیکن یہ انوکھی مثال بھی قائم ہوئی ہے کہ طے شدہ معاہدے کے ضامن کے طور پہ کچھ تو علمائے کرام ہیں جن کے نام اِتنے عام نہیں اور ضامنوں میں ایک مشہور بلڈر صاحب بھی ہیں، یعنی بات جب بلڈروں اور تاجروں تک پہنچ جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عزتِ ریاست کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ بہرحال بڑے ثالث ہمارے جانے پہچانے حضرت مفتی منیب الرحمن قبلہ ہیں۔

اب تک تو قبلہ مفتی صاحب عید کے چاند کی تلاش کیلئے مشہور و معروف تھے۔ اب وہ ریاستی ثالث کے طور پہ سامنے آئے ہیں۔ درست قبلہ مفتی صاحب نے فرمایا کہ طے شدہ معاہدہ جس کی تفصیلات سخت پہرے میں رکھی ہوئی ہیں اسلام اور پاکستان کی فتح ہے۔ مزید ایسی فتوحات حاصل ہوں تو فتح اور ریخت میں فرق بتانا مشکل ہو جائے گا۔

سوال البتہ اُٹھتا ہے کہ معاہدے کی شقوں پہ اِتنا سخت پہرا کیوں رکھا گیا ہے۔ یہ تو نہیں کہ تفصیلات کے سامنے آنے سے ریاست اور حکومت کی مزید جگ ہنسائی ہو جائے؟ جو ہوا وہ تو اِک تماشہ تھا اور اب ہنسنے کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں لیکن معاہدے کو اِتنے سخت صیغۂ راز میں رکھنا کچھ شکوک ضرور پیدا کرتا ہے۔ اس بات سے یہ خیال اٹھتا ہے کہ حکومت نے صرف گھٹنے نہیں ٹیکے بلکہ مکمل لیٹ گئی ہے۔ یہی کرنا تھا تو پہلے کر لیتے۔

اِتنی بڑھکوں کی کیا ضرورت تھی اور وہ جو خندقیں چناب اور جہلم کے پلوں کے سامنے کھودی گئیں اُن کی کیا ضرورت تھی؟ سفیر والا مطالبہ تو ظاہر ہے حکومت نہیں مان سکتی تھی لیکن جب لیٹنا ہی تھا تو پہلے سے سب کچھ مان لیا جاتا بلکہ اب تو متعلقہ کالعدم تنظیم کو یقین دہانی کرا دینی چاہئے کہ وہ جو بھی کرے نہ مقدمے درج ہوں گے نہ گرفتاریاں ہوں گی۔ متعلقہ تنظیم نے تو اپنا لوہا ایسا منوایا ہے کہ عملاً اب اُس پہ جو فرضی پابندی لگی تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔

انتخابات زیادہ دور نہیں۔ تنظیم کی طاقت کو دیکھ کے اب سے سمجھدار لوگ تنظیم میں شامل ہونے کی سوچ رہے ہوں گے۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگلے انتخابات سے پہلے تنظیم کے ٹکٹ کی ڈیمانڈ بہت ہو گی۔ تنظیم کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ تو حلوہ کھانے والے لوگ ہیں۔ اگر تہمت کے طور پر یہ فقرہ چسپ کیا جاتا تھا تو اب اُس کی گنجائش نہیں رہی۔ حلوے سے بات بہت آگے جا چکی ہے۔ اِس تنظیم نے تو وہ کر دکھایا ہے جو باقی مذہبی جماعتیں اب تک نہیں کر سکیں۔ بات ایک ہی ہے، یا تو تنظیم بڑی طاقت ور ہے یا ریاست عزت بچانے میں شاطر ہو چکی ہے۔ کالعدم تنظیم بہرحال ایک تنظیم ہی ہے۔ ریاست کچھ زیادہ سمجھدار ہو گئی ہے۔ وہ فوٹو بھی نظروں سے گزری ہو گی جس میں دو تین علمائے کرام کھڑے ہیں اور ساتھ ہی ریاست بھی کھڑی ہے۔ چہروں سے سب کچھ عیاں ہو جاتا ہے۔

ایک خیال البتہ ذہن میں اُٹھتا ہے کہ یہ ہنگامہ وسطی پنجاب کے بجائے کہیں بلوچستان میں ہوتا اور تنظیم کے سربراہ کا نام سعد رضوی کے بجائے سردار نوروز خان یا اکبر بگٹی ہوتا تو پھر جس ریاست پہ پھبتیاں کَسی جا رہی ہیں اُس کے جاہ و جلال کو ہم دیکھتے۔ کسی قبلہ مفتی کو بیچ میں نہ لایا جاتا۔ زبان جو استعمال ہوتی وہ مخمل اور روئی والی نہ ہوتی۔ 1971ء میں بنگالیوں نے بھی جسارت کی کوشش کی تھی۔ دنیا نے دیکھا کہ اُن کا حشر کیا ہوا۔ اِسی لئے یہ کہنا غلط نہیں کہ پاکستان میں جغرافیے کی بڑی اہمیت ہے۔ اس موضوع پہ مزید کچھ کہنا آسان نہیں کیونکہ احتیاط لازم ہے۔

لیکن جو ہو رہا ہے اور جو کچھ ہوچکا ہے باعثِ حیرانی نہیں ہونا چاہئے۔ کچھ خرابی ہماری تعمیر میں تھی۔ کئی موضوعات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ شروع کے دنوں سے ملک کو فروعی بحثوں میں ڈال دیا گیا۔ آئین بنا نہیں لیکن پاکستان کے مقاصد بیان کرنے پر زور دیا گیا۔ تعمیرِ وطن کے بجائے تعمیرِ نظریات ہونے لگی۔ پاکستان بنانے والے سیاست دان تھے لیکن ادارے طاقت کا منبع بنتے گئے۔ جوں جوں حکمرانی میں مشکلات پیش آئیں مذہب کا نعرہ بلند ہوتا رہا۔

اِس کا قدرتی نتیجہ تھا کہ علمائے کرام کی اہمیت بڑھتی گئی، اور اب تو کمال ہی ہو گیا ہے، معاہدہ حکومت اور سرکش گروہ کے درمیان اور اعلان کرنے والے قبلہ مفتی صاحب۔ بنگلہ دیش ہمارے سابقہ بھائی بہنوں کا دیس ہے۔ بھاری اکثریت وہاں مسلمانوں کی ہے لیکن وہاں جو موجودہ حکومت ہے اور جس کی سربراہ ایک خاتون ہے وہ ایسی چیزیں برداشت کرے گی جو یہاں کا معمول بنتی جا رہی ہیں؟ وہاں تو شیخ حسینہ واجد نے وہ کچھ کیا ہے جس کا ہم سوچ نہیں سکتے۔ شروع کے دنوں میں ہماری سوچ تھی کہ بنگلہ دیش اپنے پاؤں پہ نہیں کھڑا ہو سکے گا۔ آج حالت یہ ہے کہ بنگلہ دیش ہمیں بہت کچھ سکھا سکتا ہے۔

بہرحال جسے اسلام اور پاکستان کی فتح قرار دیا جا رہا ہے کمزوریوں کی ایک طویل داستان کا شاخسانہ ہے۔ بات شروع ہوئی تھی سانحہ گورنر پنجاب سے اور اُن کا جب قصہ ہوا تو نہ صرف حکومت بلکہ معاشرہ بھی یہ کہنے سے قاصر رہا کہ قاتل کون ہے اور مظلوم کون۔ زبانیں بند ہو گئیں اور ذہنوں کو تالے لگا دیئے گئے۔ کمزوری اور بے بسی کی فلم جو ہم اب دیکھ رہے ہیں یہ وہاں سے شروع ہوئی تھی۔ مزید کیا کہا جائے؟ کھل کے بات کرنا پاکستان میں ممکن نہیں رہا۔ بات بات پہ لوگ طیش میں آ جاتے ہیں اور احتیاط کرنا پڑتی ہے۔ نتیجہ پھر یہی ہونا ہے جو ہم نے دیکھا ہے۔ جو ہنگامہ ہوا بلا جواز تھا۔ کوئی بات ہی ایسی نہ تھی جس پہ اِتنا اشتعال پکڑا جاتا، لیکن حالات میں بگاڑ پیدا ہوتا رہا اور آخرکار قوم نے وہ دیکھا جس کا ڈر تھا کہ حکومت لیٹ جائے گی۔

ڈر یہ ہے کہ یہ کہیں سنگِ میل ثابت نہ ہو۔ دیگر مذہبی جماعتیں یہ نتیجہ نہ اخذ کرلیں کہ اس کالعدم تنظیم کا راستہ ہی بہتر اور سودمند راستہ ہے۔ پنجاب پولیس پہ کیا گزر رہی ہوگی اُس کا تو ہم اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔ اِتنا البتہ ضرور ہے کہ پولیس کو پھر سے کھڑا ہونے کا کہا گیا تو سپاہی سے لے کر آئی جی تک کئی بار سوچیں گے کہ جہاں حکومتیں ایسی ہوں وہاں اپنی جانوں کو خطرے میں کیوں ڈالا جائے۔ ایک اور ڈر بھی ہے کہ دیگر کسی انتہا پسند تنظیم نے اِن تمام واقعات کا بغور جائزہ لیا ہوگا یہ دیکھنے کیلئے کہ پاکستانی ریاست میں کتنا دم خم ہے۔ خطرہ ٹلا نہیں، مزید خطرات کو دعوت دی گئی ہے۔

About Ayaz Amir

Ayaz Amir is a prominent Pakistani journalist, columnist and a senior politician . He was previously elected a Member of National Assembly representing Chakwal in 2008 as a candidate of Pakistan Muslim League (Nawaz), he resigned from the party on 19 April 2013 after he was refused a ticket for the National Assembly for the 2013 general elections.