Sunday, 09 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. Haram Ke Saaye Mein Muahida

Haram Ke Saaye Mein Muahida

جمعے کی سہ پہر مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کی قیادت نے ایک کاغذ پر دستخط کیے اور مسلم دنیا کی عسکری تاریخ میں ایک نئے معاہدے کا اضافہ کردیا۔ ایک دن پہلے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عمرہ ادا کیا تھا۔ اگلے دن حرم کے سائے میں وہ دستاویز سامنے آئی جس کا نام ہے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ۔

شاید چودہ سو برس میں پہلی بار کسی دفاعی اتحاد پر دستخط اسلام کے مقدس ترین شہر میں ہوئے ہیں اور مقام کا انتخاب اتفاق نہیں۔ مقام ہی اصل پیغام ہے۔

پہلے اپنی پوزیشن صاف کر دوں۔ دل کہتا ہے مبارک ہو، امت کی تین بڑی طاقتیں ایک چھتری تلے آ گئیں۔ مگر دل کے ساتھ پاسبانِ عقل بھی رکھنا پڑتا ہے۔ سو پہلے حقائق، پھر تین کڑوے سوال اور آخر میں وہ بات جو کوئی نہیں کر رہا۔

حقائق یہ ہیں۔ معاہدے کی بنیادی شق وہی ہے جو نیٹو کے آرٹیکل پانچ کی ہے۔ تینوں میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق مذاکرات تقریباً ایک سال چلے۔ یہ معاہدہ ستمبر 2025 کے اُس پاک سعودی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی توسیع ہے جو اسرائیل کے قطر پر حملے کے بعد ہوا تھا اور جس میں اب ترکی شامل ہوگیا ہے۔ ترک حکام کہتے ہیں معاہدہ دفاعی ہے، کسی کے خلاف نہیں، دوسرے ممالک کے لیے دروازہ کھلا ہے اور ترکی کی نیٹو ذمہ داریوں کو نہیں چھیڑتا۔

اور تینوں کیا لائے ہیں، وہ بھی گن لیجیے۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ اور عرب دنیا کی واحد جی ٹوئنٹی معیشت، جس کا دفاعی بجٹ تقریباً اسی ارب ڈالر ہے۔ ترکی نیٹو کی دوسری بڑی فوج اور ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت، جس نے 2023 میں سعودی عرب کو ڈرون بیچ کر اپنی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی سودا کیا اور پاکستان، چھ لاکھ سے زائد فعال فوج کے ساتھ دنیا کی چھٹی بڑی عسکری قوت اور عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت۔ مجموعی آبادی تقریباً چھتیس کروڑ۔ تیل، بارود اور بم، تینوں ایک میز پر۔

اب وہ بات جو سرخیوں میں نہیں ہے اور یہی اِس لکھت کا مغز ہے۔

اِس معاہدے کی تاریخ دیکھیے۔ سات اگست اور اسلام آباد میمورنڈم کی ساٹھ روزہ مہلت کب ختم ہو رہی ہے؟ سولہ اگست۔ صرف آٹھ دن بعد اور وہ جنگ بندی جس پر جون میں ورسائے اور تہران میں دستخط ہوئے تھے، جولائی سے چٹخ رہی ہے۔ نو جولائی کو بوشہر کے ایٹمی پلانٹ کے قریب امریکی گولہ گرا۔ ایران بحری جہازوں پر فائر کرتا ہے، امریکہ محدود جواب دیتا ہے، ایران بحرین اور کویت پر برستا ہے۔ معاہدہ اندر سے گھل رہا ہے۔ ایٹمی فائل پر ایک انچ پیش رفت نہیں ہوئی۔

مکہ کا یہ معاہدہ امن کے جشن میں نہیں ہوا۔ یہ امن کے جنازے کے خدشے میں ہوا ہے۔ تینوں دارالحکومتوں نے وہ حساب لگا لیا ہے جو سفارت کار زبان پر نہیں لاتے۔ کہ اگر سولہ اگست کو مہلت ختم ہوئی اور جنگ لوٹی، تو اگلا نشانہ خلیج ہوگا۔ یہ معاہدہ چھتری نہیں، بارش سے پہلے کی چھتری ہے۔

اب تین سوال اور تینوں کڑوے ہیں۔

پہلا سوال۔ کیا کاغذ گولی روکتا ہے؟ نیٹو کا آرٹیکل پانچ ستتر برس پرانا ہے اور پوری تاریخ میں صرف ایک بار استعمال ہوا، نائن الیون کے بعد۔ دھمکی کی طاقت دستخط میں نہیں، دشمن کے یقین میں ہوتی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے چوبیس گھنٹے کے اندر بتا دیا۔ لکھا، سعودیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدہ اُنہیں سلامتی نہیں دے گا، جیسے امریکہ پر عشروں کا یک طرفہ انحصار نہیں دے سکا۔ طنز تلخ ہے مگر سوال جائز ہے۔ اگر کل ایرانی میزائل ریاض پر گرا تو اسلام آباد عملاً کیا کرے گا؟ نو سو پانچ کلومیٹر کی مشترکہ سرحد والے پڑوسی کے خلاف فوج بھیجے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب معاہدے کے متن میں نہیں، جی ایچ کیو کے دل میں ہے اور دھمکی اُتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنا اُس پر عمل کا یقین۔

دوسرا سوال۔ ثالث یا فریق؟ یہ سوال میرے دل پر سب سے بھاری ہے۔ سات ہفتے پہلے دنیا کے سب سے بڑے امن معاہدے پر میرے ملک کے دارالحکومت کا نام لکھا گیا۔ اسلام آباد میمورنڈم۔ پاکستان ثالث تھا، ضامن تھا، دونوں دشمنوں کا معتمد تھا اور آج وہی پاکستان ایک ایسے بلاک میں شامل ہوگیا ہے جو عملاً اُسی تہران کے خلاف ڈھال ہے جس کا وہ ضامن بنا تھا۔ ریفری نے ایک ٹیم کی قمیض پہن لی ہے۔ اب دو ہی راستے ہیں۔ یا تو پاکستان تہران کو یقین دلائے کہ یہ معاہدہ ڈھال ہے، تلوار نہیں اور ثالثی کا دروازہ کھلا رکھے۔ یا پھر سولہ اگست کو میمورنڈم کے ساتھ پاکستان کی ثالثی کا سرمایہ بھی دفن ہو جائے گا۔ مگر ایک الٹا سچ بھی ہے۔ نہتے ثالث کی بات کوئی نہیں سنتا، مسلح ثالث کی سنی جاتی ہے۔ پاکستان اب تاریخ کی باریک ترین رسی پر چل رہا ہے۔ ایک ہاتھ میں ریاض کا حلف، دوسرے میں تہران کا اعتماد۔ دونوں بیک وقت تھامنا ہی اصل امتحان ہے۔

تیسرا سوال اور یہ کوئی نہیں پوچھ رہا۔ قیمت کیا ہے؟ اسی ارب ڈالر سالانہ دفاع پر خرچ کرنے والی سلطنت کو تقریباً دس ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ والے پاکستان کی ضرورت کیوں پڑی؟ جواب صاف ہے۔ سعودی عرب پیسے سے سب کچھ خرید چکا، سوائے اُس ایٹمی سائے کے جو صرف پاکستان کے پاس ہے اور یہیں کڑوا سوال جنم لیتا ہے۔ جو ملک آئی ایم ایف کے چوبیسویں پروگرام پر سانس لے رہا ہو، جس کے مرکزی بینک میں تین ارب ڈالر سعودی امانت پڑی ہو، جس کے اننچاس لاکھ شہری خلیج میں مزدوری کرکے اڑتیس ارب ڈالر سالانہ بھیجتے ہوں، وہ جب کسی کے گھر کی ضمانت دیتا ہے تو دنیا پوچھتی ہے کہ ضمانت عقیدے پر دی گئی ہے یا قرض پر۔ ستمبر 2025 والے معاہدے کا مکمل متن آج تک منظرِ عام پر نہیں آیا۔ اب یہ سہ فریقی حلف بھی بند لفافے میں ہے۔ پارلیمنٹ کا حق ہے کہ جانے، فیصلے کی انگلی کس کی ہے۔ پاکستانی سپاہی کا لہو کب اور کہاں بہے گا، یہ فیصلہ اسلام آباد کرے گا یا کسی اور دارالحکومت کی ٹیلی فون کال۔

اور اب وہ تاریخ جو اِس معاہدے کے پیچھے کھڑی مسکرا رہی ہے۔

اکہتر برس پہلے، 1955 میں، بغداد پیکٹ بنا تھا۔ ارکان یاد ہیں؟ ترکی، پاکستان، عراق، برطانیہ اور ایران۔ جی ہاں، ایران اُس اتحاد کے اندر تھا۔ آج کا اتحاد عملاً ایران کے خلاف ہے۔ ستر برس میں دوست دشمن ہوگیا اور دشمن کا خوف دوستی کی بنیاد۔ وہ پیکٹ مرا، پھر آر سی ڈی بنی، وہ بھی مری۔ مسلم اتحادوں کا قبرستان بھرا پڑا ہے۔ مگر اُن سب میں اور مکہ کے اِس معاہدے میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ سب مغرب کی تعمیر تھے، اُن کی صفوں میں مغرب خود بیٹھا تھا۔ یہ پہلا اتحاد ہے جو مغرب کے جانے کے بعد بنا ہے۔ خالی کرسی کے خوف نے بنایا ہے۔ امریکی چھتری پر شک نے بنایا ہے۔ اِس کی سند واشنگٹن سے نہیں، مکہ سے آئی ہے اور یہی اِس کا سب سے نیا پن ہے۔ یہ خطے کا پہلا مابعد امریکہ سکیورٹی ڈھانچہ ہے۔

مگر تاریخ کا کڑوا ترین مذاق ابھی باقی ہے۔ عشروں سے امت مسلم نیٹو کے خواب دیکھتی رہی اور ہر خواب میں اُس اتحاد کا رخ ایک ہی طرف تھا۔ آج مسلم نیٹو کی پہلی اینٹ رکھی گئی ہے تو اُس کا عملی رخ ایک مسلمان ملک کی طرف ہے، جبکہ لبنان پر اسرائیلی بم اب بھی گر رہے ہیں اور معاہدے کے متن میں اسرائیل کا نام تک نہیں۔ خواب پورا ہوا، مگر قبلہ بدل گیا۔

ترک حکام نے معاہدے کے بارے میں تین باتیں کہی ہیں جو غور طلب ہیں۔ یہ دفاعی ہے۔ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور اِس کا دروازہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے کھلا ہے۔ آخری فقرہ سب سے وزنی ہے، کیونکہ اکہتر برس پہلے بغداد پیکٹ میں ترکی اور پاکستان کے ساتھ ایران خود بیٹھا تھا۔ جغرافیہ نہیں بدلا، حکومتیں بدلی ہیں اور حکومتیں پھر بدل سکتی ہیں۔

یہاں عمان کا ذکر ضروری ہے، جس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ اسلام آباد میمورنڈم میں لکھا ہے کہ ہرمز کا مستقبل کا انتظام عمان کے ساتھ مل کر طے ہوگا۔ گیارہ جولائی کو مسقط نے آبنائے کے راستوں کے انتظام کا مسودہ بھی تیار کیا۔ عمان ایران کا پرانا دوست اور خطے کا آخری ایماندار ڈاکیا ہے۔ مگر جولائی میں ایرانی میزائل عمانی پانیوں میں اماراتی ٹینکروں پر گرے اور خود عمان بھی نشانہ بنا۔ یعنی تہران کے موجودہ فیصلہ ساز اپنے قدیم ترین دوست کے آنگن میں بھی آگ پھینک رہے ہیں۔ میں اپنے پچھلے کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ ایران میں دو حکومتیں ہیں، ایک پاسپورٹ والی، ایک پستول والی۔ مکہ کا معاہدہ پستول والی حکومت کے لیے دیوار ہے اور پاکستان اور عمان کا کام یہ ہے کہ پاسپورٹ والی حکومت کے لیے دروازہ کھلا رکھیں۔ دیوار اور دروازہ ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں۔

ہندوستان معاہدے کے حوالے سے چپ ہے۔ معاہدہ کہتا ہے کسی بھی جارحیت کی صورت میں۔ اِس جملے میں مشرقی سرحد کی کوئی رعایت درج نہیں۔ ستمبر والے معاہدے پر دلی کی پیشانی پر بل پڑے تھے، اب اردوان بھی پاکستان اور سعودی عرب والے خیمے میں داخل ہوگیا ہے۔ دلی کی خاموشی بہت بلند ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اِس پورے سودے کا واحد غیر مبہم منافع ہے۔

آخری بات۔

پاکستان کے لیے اصل سبق وہی پرانا ہے۔ ضامن وہی ملک بن سکتا ہے جس کا اپنا کشکول ٹوٹا ہوا ہو۔ بندوق ادھار مل جاتی ہے، بھرم ادھار نہیں ملتا۔ جس دن ہماری معیشت ہمارے بم جتنی مضبوط ہوگئی، اُس دن مکہ کا یہ حلف واقعی تاریخ بدلے گا۔

اُس دن تک، دعا بھی رکھیے اور پاسبانِ عقل بھی۔