Thursday, 18 April 2024
  1.  Home/
  2. Amir Khakwani/
  3. Jamaat e Islami, Istefa Kahani

Jamaat e Islami, Istefa Kahani

جماعت اسلامی کی شوریٰ نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا استعفا مسترد کر دیا ہے اور انہیں بطور امیر کام کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ فیصلہ شوریٰ نے متفقہ طور پر کیا ہے۔ جماعت اسلامی جانے اور اس کی شوریٰ جانے، ہم تو ویسے ہی اپنا صحافیانہ کمنٹ بلکہ پوسٹ کر رہے ہیں، امید ہے جماعتی دوست اس پر برا نہیں مانیں گے۔

میری معلومات کے مطابق جماعت اسلامی کے ایک امیر قاضی حسین احمد نے 1993 میں جماعت اسلامی کی امارت سے استعفا دے دیا تھا جب ترانوے کے الیکشن میں شکست ہوئی تھی۔ تب جماعت اسلامی نے اسلامک فرنٹ کا پلیٹ فارم بنا کر الیکشن لڑا تھا جس میں جماعت کے لوگ ہی تھے مگر تھوڑے بہت جماعت کے ہم خیال مگر غیر جماعتی افراد بھی شامل تھے۔

تب جماعت اسلامی کی شوریٰ نے قاضی حسین احمد کا استعفا رد کر دیا تھا، انہیں بطور امیر کام کرنے کا کہا گیا اور جناب قاضی صاحب بطور امیر کام کرتے رہے۔

ایک اور موقعہ دو ہزار تیرہ میں آیا یعنی ترانوے کے بیس سال بعد، جب سید منور حسن نے امیر جماعت اسلامی ک عہدے سے استعفا دے دیا۔ سید صاحب نے بھی دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں شکست کے بعد استعفا دیا۔

جماعت اسلامی کی شوریٰ نے وہ استعفا مسترد کر دیا اور سید صاحب پھر سے بطور امیر کام کرنے لگے، حتیٰ کہ کچھ عرصے بعد ہونے والے جماعت کے امارت کے انتخاب میں ارکان جماعت نے سید منور حسن کی جگہ سراج الحق کو امیر منتخب کر لیا۔

اب گیارہ برس بعد پھر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اپنی امارت سے استعفا دیا۔

جماعت کی شوریٰ نے ایک بار پھر یہ استعفا مسترد کر دیا اور سراج الحق کو بطور امیر اپنا کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

میرے ذہن میں سوال بس یہ پیدا ہوا تھا کہ کیا جماعت اسلامی کی شوریٰ اسی کام کے لئے ہے کہ اگر امیر استعفا دے تو فوری طور پر اس کا استعفا رد کر دے اور ہر دور میں شوریٰ کے ارکان گو بدل گئے، مگر ان کا طرزعمل ایک سا رہا۔

1993,2013,2024 ہر بار ایک ہی نتیجہ برآمد ہوا۔ جماعت کی شوریٰ کے مستقل مزاجی اور کیریکٹر کی بھی داد دینا بنتی ہے۔

دوسرا سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا جماعت اسلامی کا امیر بے چارہ اتنا گیا گزرا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے استعفا بھی نہیں دے سکتا۔ استعفا دے دے تب بھی شوریٰ اسے رد کر دیتی ہے۔

یہاں پر کوئی گستاخ یہ فاسد خیال سوچ سکتا ہے کہ شائد استعفا دیا ہی اس لئے جاتا ہے کہ اس نے کون سا منظور ہوجانا ہے۔ خیر ہم ایسی بدگمانی بالکل نہیں کریں گے بلکہ ہمیں تو امیر کی بے چارگی اور اختیارات کی کمی پر تاسف ہوا جو اپنی مرضی سے استعفا تک نہیں دے سکتا۔

تو صاحب اس پورے معاملہ میں اصل گل اے نکلی ہے کہ جناب سراج الحق صاحب ایک بار پھر سے امیر جماعت اسلامی کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ اللہ ان کی صحت، ارادوں اور بیانات میں برکت دے۔ خیر سے جماعت کا الیکشن جیت گئے تو بھائی جان اگلے پانچ سال تک ایسی ہی شعلہ بیانی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ سلگتے، دہکتےآتشی بیانات۔

جاتے جاتے ہمارے شہر سے وابستہ ایک حوالہ، ہمارے احمد پورشرقیہ میں ایک بار میونسپل کمیٹی کے مئیر وہ صاحب بنے جو ہر ایک سے خوش مزاجی سے ملتے، وعدے وعید کرتے اور پھر بھول جاتے۔ ان کے بارے میں مشہور ہوگیا تھا کہ۔۔ صاحب ہاں دی بھک نہیں ڈیندے۔ (ہر ایک کو ہاں کر دیتے ہیں، کسی کو انکار نہیں کرتے بے شک بعد میں کچھ بھی نہ کریں)۔

اپنے سراج صاحب بھی بیان کی بھوک ہرگز نہیں رہنے دیتے۔ خوب گرج کر برستے ہیں اور برس کر کڑکتے ہیں۔ خیر خوش رہیں اور یوں ہی گرجتے برستے رہیں۔

سدا بادشاہی اس رب کی، باقی رہے نہ کو۔