بات ذرا پرانی ہے۔ ٹرین چونکہ لیٹ تھی اسٹیشن پر گھومتے ہوئے وقار مجروح کو خیال آیا کہ ابھی ٹرین کے آنے میں کافی وقت ہے چلو اسٹیشن سے باہر چلتے ہیں تاکہ اس دوران میں میں اپنے کان صاف کروا لوں گا۔ یہاں اسٹیشن کے باہر میرا ایک ماہر جاننے وا لا ہے۔ باہر باغیچہ کے ارگرد کافی "ماہرین"کرسی میز سجائے بیٹھے تھے اور انہوں نے اپنے اپنے اڈے پر مختلف بورڈز لگا رکھے تھے مثلاً:
کامران ماہر کان صفائی آپ کا پرانا خادم کامران عرف کیدو۔۔ دانتوں کا اصلی ایکسپرٹ دلاور دہلوی۔۔ زرتاج زلف ماسٹر عرف تاجہ وغیرہ۔
کانوں کی صفائی والے نے لکھوا رکھا تھا:
یہاں کانوں کی ہر بیماری کے دانت کھٹے کیے جاتے ہیں
اور دانتوں کے ایکسپرٹ نے لکھوا رکھا تھا:
یہاں خراب دانتوں کو کان سے پکڑ کا نکال دیا جاتا ہے
ہم دونوں وہاں پر لگے نوٹس بورڈز دیکھ کر تفریح لیتے لیتے پہلے پہل دانتوں کے ایکسپرٹ کے اڈے پر ذرا سا رُکے اور پھر وہاں سے اپنے"پرانے خادم" کے کان صفائی والے کیدو کے اڈے پر پہنچ گئے تاکہ وقار مجروح کے کانوں کی صفائی کروائی جا سکے۔ اتنے میں دانتوں کا ایکسپرٹ دلاور وہاں آ کر کیدو کانوں کی صفائی والے سے کہنے لگا تم نے میرے یہ گاہک گھیر لئے ہیں انہیں میری طرف بھیجو۔ وہ کہنے لگا انہوں نے تجھے دانت نہیں دکھانے یہ میرے پرانے گاہک ہیں (یہ واحد جگہ تھی جہاں مریض کو گاہک کہا جاتا تھا اور کلینک کو اڈا) دانتوں کا ایکسپرٹ دلاور ہمیں اس کے سامنے اپنے دانت پیستے ہوئے کہنے لگا۔ خادم قابل اعتماد بندہ نہیں ہے اس نے میرے کانوں کی صفائی کرتے ہوئے کانوں کا صفایا پھیر دیا ہے حالانکہ اس کے والد کو میں پرانا جانتا ہوں وہ اپنے کام میں ماہر تھا اس کی کبھی کہیں سے شکایت نہیں ملی تھی وہ بچپن میں خادم کو کان سے پکڑ کر یہاں لا کر کام سکھاتا تھا لیکن یہ کان لپیٹ کر یہاں سے پتنگیں لوٹنے نکل جاتا تھا۔
کانوں کا ماہر کیدو کہنے لگا دیکھیں کیسے جھوٹ بول رہا ہے کیا اس کے کان ثابت نظر نہیں آ رہے ہیں؟
دلاور ماہر دنداں کہنے لگا اس نے صفائی کرتے ہوئے میرے کانوں کا اندرونی حلیہ بگاڑ دیا ہے اب مجھے آدھا سنتا ہے اتنے میں پاس سے گزرتے ہوئے بس نے ہارن دیا تو یہ کہنے لگا سن لیں ابھی موٹر سائیکل کا ہارن بجاہے۔ کوئی 100 روپیہ کا کہے مجھے زیادہ سے زیادہ پچاس سنتا ہے۔ پروگرام ففٹی ففٹی بھی مجھے ٹونٹی ٹونٹی سمجھ آتا ہے۔ یہ کان صاف کرتے ہوئے گاہکوں پر جملے بھی بڑے کستا ہے ایک دن ایک گاہک کو تسلی دیتے ہوئے کہہ رہا تھا آپ کے کان اندر باہر سے ایسے صاف کیے ہیں کہ کوئی اب ان کو جتنا مرضی بھرے گا مگر ان پر جوں بھی نہیں رینگے گی۔ لوگوں کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوتا ہے مگر اس کانوں پر بھی پڑا ہے یہ کسی مریض کی شکایت پر کان نہیں دھرتا۔
دلاور میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا ہمارے پاس ہر کام دانت اور مسوڑھے کا علیحدہ اوزار ہوتا ہے مگر یہ کیدو اپنی لوہے کی سلائی کو مریض کے دانتوں میں بھی مار رہا ہوتا ہے حتی کہ گردے کے مریضوں اور ان میں پتھری کے علاج کی اسی سلائی سے تشفی کرواتا ہے۔ کسی گاہک کے کان ویسے بھی اس کی پہنچ سے دور نہیں ہیں یہ کانوں سے ایسی جعلی قسم کی برآمدات کرتا ہے کہ مجھے ادھر بیٹھے ہوئے اس کی کمنٹری پر ہنسی آ رہی ہوتی ہے جب یہ کہتا ہے کہ دیکھو! یہ کنکھجورے کی ٹانگ ہے جو ادھر کان کنی کرتے ہوئے چھوڑ گیا ہے اگر یہاں میں اپنی ٹانگ نہ اڑاتا تو یہ اپنا سفر جاری رکھ کر دماغ تک پہنچ سکتی تھی۔ اس نے دفتر برائے رشتہ بھی کھول رکھا ہے اور جھوٹ سچ بول کر رشتے بھی طے کرواتا ہے۔ اس کو پتہ تو اس وقت لگے گا جب"سوکنان" شہر اس کے خلاف مظاہرہ کریں گی اور یہ یہاں سے بھاگ کر ہوش کے ناخن لینے گیا ہوگا۔
وقار مجروح اس دلاور دانتوں والے کے قابل اعتراض جملوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خادم سے کہنے لگا تم اس کی باتوں کو چھوڑو اور میرے کان صاف کرو وقت کم ہے۔ محسوس ہو رہا تھا وقار کو بھی دلاور کی آدھی بات بھی پلے نہیں پڑ رہی اور اسے ٹرین کے دو گھنٹے لیٹ ہونے کا اعلان بھی آدھ گھنٹہ محسوس ہو رہا ہوگا۔
اب کیدو کان صفائی والے کے جوابی رسپونس کا انتطار تھا اور وہ کہنے لگا۔ یہ دلاور ہر گاہک کو کہتا ہے اگر دانت میں درد ہے تو لیجئے میں ابھی نکال دیتا ہوں۔ میں نے اپنے مریضوں کو کبھی یہ نہیں کہا کہ اب ذرا کان کھول کے رکھو یا ان کامنہ بند کر لو یا آپ کے کان گرائنڈ کرکے برابر کرنا ہوں گے۔ میں نے تو یہ بات کرکے مریض کو کبھی نہیں ڈرایا کہ آپ کے دودھ کے کان ہیں پہلے ان کو نکالنا ہوگا۔ کبھی گاہک اسے بڑا نوٹ دے دے تو کہتا ہے مجھ سے بقایا پیسوں کے بدلے ایک اور دانت نکلوا لیں۔ گاہک کے دانت چیک کرتے ہوئے ایسا منہ بناتا ہے جیسے کسی گٹر کی صفائی میں لگا ہو میں سمجھتا ہوں یہ بھی گاہک کی تضحیک ہے اور اُسے یہ تک کہہ دیتا ہے اگر آپ کے کانوں کی میل بکنے لگے تو آ پ چند دنوں میں ہزاروں کما لیں گے۔
میں نے آج تک کسی گاہک کے کان اس کے درد کی وجہ سے نہیں نکالے ہاں میں اس میں دوا لگا کر"تونبہ" رکھ دیتا ہوں۔ میں اپنا کام ایمان داری سے دل اور کان لگا کر تا ہوں۔ کئی لوگوں کے کان اتنے گندے ہوتے ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ ان کو کارپوریشن والوں کے پاس بھیچ دوں لیکن میں پھر بھی انہیں خود ہی "خالی" کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں نے کبھی گاہک کو نہیں کہا کہ کان صاف کروا کر تین گھنٹے کچھ نہیں کھانایا سونے سے پہلے کانوں کو صاف کرکے سونا ہے۔ ہاں اگر کام کے دوران کوئی خرابی ہو تو اس میں گاہک کا اپنا قصور بھی ہوتا ہے جیسے یہ دلاور بڑے دنوں سے میری منتیں کر رہا تھا کہ میرے کان صاف کر دو۔ میں نے باہر سے ملاحظہ کرکے اسے کہا کہ تمہارے کان پہلے ہی صاف ہیں ان کی صفائی کی خاص ضرورت نہیں ہے لیکن یہ بضد تھا۔