Friday, 23 April 2021
  1.  Home/
  2. Munir Ahmad Baloch/
  3. Wazir e Azam Ka Dora Sri Lanka Aur Aik Waday Ki Takmeel

Wazir e Azam Ka Dora Sri Lanka Aur Aik Waday Ki Takmeel

وزیر اعظم عمران خان کا دورۂ سری لنکا علاقائی سفارت کاری اور خطے کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان صاحب کا یہ سری لنکا کا پہلا دورہ تھا۔ کولمبو آمد پر وزیر اعظم کا پر تپاک استقبال کیا گیا۔ دو روزہ قیام کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے وفود کی سطح پر سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پاکسے اور وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے سے ملاقاتیں کیں، دونوں ملکوں نے تعاون کے مختلف شعبوں میں کثیرالجہتی تعلقات کا تفصیل سے از سر نو جائزہ لیا اورمذاکرات باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئے۔ فریقین نے حال ہی میں خارجہ سیکرٹریوں کی سطح کے دو طرفہ سیاسی مشاورت، مشترکہ اقتصادی کمیشن سیشن اور کامرس سیکرٹریز کی سطح پر بات چیت کو آگے بڑھانے نیز قریبی اور مسلسل مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ فریقین نے جامع طریقہ کار کے تحت تعاون مزید مستحکم کرنے، متواتر ملاقاتیں کرنے، اعلی سطح اور وفود کی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینے، مشاورت کے عمل کو آگر بڑھانے اور متعلقہ اداروں کے مابین تعاون پر اتفاق کیا۔

وزیر اعظم عمران خان کے اس دورے کی ایک بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ سری لنکا میں کورونا کے باعث انتقال کر جانے والے مسلمانوں کی نعشوں کو آگ کی بھٹی کی نذر کیا جا رہا تھا مگر عمران خان صاحب نے سری لنکا کے صدر اور وزیر اعظم کو قائل کیا کہ آپ مسلمانوں کی لاشوں کو جلانے کی بجائے انہیں مذہبی روایات کے مطا بق دفنانے کی اجا زت دیں اوراسلام آباد واپسی سے پہلے سری لنکن حکومت کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوگیا کہ آج سے کورونا سے انتقال کرنے والے کسی مسلمان کی میت کو جلایا نہیں جائے گا بلکہ ان کی مذہبی رسومات کے مطا بق با قاعدہ تدفین کی جائے گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس فوری اور عملی پیش رفت پر سری لنکن حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ جمعہ کو ایک ٹویٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ کووڈ19 سے جاں بحق ہونے والوں کی تدفین کی اجازت دینے کے حوالے سے سری لنکا کی حکومت کے سرکاری نوٹیفکیشن کے اجرا کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس پر سری لنکا کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا کے اختتام پر جاری کیا گیا مشترکہ اعلامیہ اس اہم ترین دورے کی اہمیت، افادیت اور کامیابی کو واضح کرتا ہے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے پر امن ہمسائیگی ویژن کے تحت سری لنکا کی سماجی و اقتصادی ترقی میں پاکستان کی جانب سے تعاون کا اعادہ کیا۔ فریقین نے ثقافتی روابط کو فروغ دینے، انسانی وسائل کی ترقی اور مختلف شعبوں میں استعدادِ کار بڑھانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور تکنیکی تعاون کا بھی جائزہ لیا۔ پاکستان نے پاک سری لنکا ہائر ایجوکیشن کوآپریشن پروگرام کے تحت ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے شعبے میں 100 سکالرشپ کا اعلان کیا، جبکہ سری لنکا نے انسانی وسائل کی ترقی میں پاکستان کے تعاون کو سراہا۔ بدھ آثار ِقدیمہ کے مقامات کے حوالے مذہبی سیاحت کے وسیع تر مواقع اور گندھارا تہذیب سے قدیم اور ثقافتی رشتوں کو محسوس کرتے ہوئے فریقین نے سیاحت کے شعبہ میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا اور اس میں مہمان نوازی کی صنعت، بشمول تربیت اور استعداد کاری میں اضافے سمیت مہارت شیئر کرنے کے فوائد کو اجاگر کیا۔ پاکستان نے یونیورسٹی آف پیراڈینیہ کینڈی میں ایشین تہذیب اور ثقافتی مرکز کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

دونوں فریقوں نے عوام سے عوامی روابط، سیاحت، تجارت اور ثقافت کو فروغ دینے کیلئے فضائی رابطوں کو بڑھانے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ د ونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے نئی راہیں تلاش کرنے کیلئے دونوں ملکوں نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ دونوں ملکوں نے ایک ارب امریکی ڈالر سالانہ دوطرفہ تجارتی حجم ہدف کے حصول کی اہمیت پر زور دیا اور پاک سری لنکا آزاد تجارتی معاہدے کو وسیع اور گہرا کرنے کیلئے کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس دورے کے دوران پاکستان اور سری لنکا کے مابین سیاحت، سرمایہ کاری بورڈ، صنعتی ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ، جمہوری سوشلسٹ جمہوریہ سری لنکا اور انٹرنیشنل سینٹر برائے کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز، صنعتی ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ آف سری لنکا اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد اور یونیورسٹی آف کولمبو، سری لنکا اور لاہور سکول آف اکنامکس پاکستان کے مابین تعاون سے متعلق معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے مشترکہ طور پر سری لنکا پاکستان پارلیمانی فرینڈشپ ایسوسی ایشن کی تشکیل نو کا اعتراف کیا۔ فریقیں نے دونوں کے مابین پارلیمانی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ فریقین نے دفاع کے شعبے میں موجودہ دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے 50 ملین ڈالر نئی دفاعی کریڈٹ لائن کی سہولت کا بھی اعلان کیا۔ فریقیں نے سلامتی، دہشت گردی، منظم جرائم اور منشیات اور منشیات کی سمگلنگ کے علاوہ انٹیلی جنس شیئرنگ سے متعلق معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کیلئے مضبوط شراکت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کھیلوں کی سفارت کاری کو مستحکم کرنے کیلئے سری لنکا کی سپورٹس کمیونٹی کے ساتھ بھی ایک اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کے سپیکر کی موجودگی میں سری لنکا کے وزیر کھیل اور یوتھ نمل راجاپاکسہ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر کھیل نے کولمبو میں "عمران خان ہائی پرفارمنس سپورٹس سنٹر" قائم کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستان نے سری لنکا میں کھیلوں کے فروغ کیلئے 52 ملین روپے فراہمی کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ فریقین نے ثقافتی تنوع، پرامن بقائے باہمی اور باہمی ہمدردی کو فروغ دینے کیلئے بین المذاہب مکالمہ اور ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر دونوں ممالک کے مابین قریبی تعاون اور اس طرح کے معاملات پر مربوط نقطہ نظر کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے سارک کے اصولوں اور مقاصد سے وابستگی کا اعادہ کیا اور سارک کے رکن ممالک کی خطے میں عوام کی بھلائی کیلئے ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ فریقیں نے خطے میں خوشحالی کے حصول کیلئے علاقائی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کیلئے سارک کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ علاقائی اور عالمی ماحول میں ہونے والی پیشرفت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے فریقین نے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کیلئے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے علاقائی معاشی نمو اور خوشحالی کیلئے سی پیک سے عوام کی خوشحالی کیلئے اقتصادی و سماجی فوائد کو اجاگر کیا۔ سری لنکا جیسے خطے کے اہم ترین ملک کے دو روزہ دورے کے نتائج پر اگر کوئی شبہات ظاہر کرتا یا پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ بہرکیف اس دورے کی سب سے حیران کن خبر اور رپورٹ وزیر اعظم عمران خان کی سری لنکا سے واپسی کے بعد آئی کہ وزیر اعظم کے اس دورے پر اس ملک و قوم کے صرف34 ہزار ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔

اب آخر میں 23 نومبر 2019ء کو بنی گالہ میں محترم بابر اعوان کی موجودگی میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران کئے گئے ایک وعدے کی یاددہانی بھی کرواتا چلوں کہ یہ درخواست کی تھی کہ براہ کرم قصبہ کھڈیاں خاص کو سرکلر روڈ اور ماں اور بچے کا ایک ہسپتال عنایت کردیں جس کیلئے شہر کے وسط میں دو ایکڑ سرکاری زمین بھی موجود ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کا وعدہ اہل علاقہ کے لیے انتہائی خوشی کا سبب تھا اور امید کی جارہی تھی کہ عوامی فلاح و بہبود کا یہ منصوبہ جلد تکمیل کو پہنچ جائے گا مگر اس امید کو اب ایک سال سے زیا دہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن حاجی مائو کے ڈیرے سے تھانہ کھڈیاں اور وہاں سے چار کلو میٹر کی اس سرکلر روڈ اور ہسپتال کا کوئی وجود ہی نہیں۔