Friday, 24 September 2021
  1.  Home/
  2. Kanwar Muhammad Dilshad/
  3. Azad Kashmir Ke Intikhabaat Kayi Sawal Chor Gaye

Azad Kashmir Ke Intikhabaat Kayi Sawal Chor Gaye

آزاد کشمیر کے انتخابات میں کئی پارٹیوں نے الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے ضابطۂ اخلاق اور قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور الیکشن کمیشن کے نوٹسز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متعدد پارٹیوں نے اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر کو انتظامیہ سے بھی مناسب معاونت حاصل نہیں رہی۔ سیاسی جماعتوں نے ایسی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔ حالانکہ آزاد کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ وزیراعظم تھے اس کے باوجود آزاد کشمیر کی انتظامیہ الیکشن میں غیر جانبدار نہیں رہی۔ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات نے 2023ء کے قومی انتخابات کی جھلک دکھا دی ہے۔ امکان ہے کہ پاکستان کے اگلے عام انتخابات پر بھی اس کے اثرات دیکھنے میں آئیں گے، خاص طور پر پنجاب میں اس کے اثرات سب کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان کو اس حقیقی رائے کا ادراک ہونا چاہیے کہ آزاد کشمیر میں مجموعی طور پر ووٹ ان کے خلاف گئے ہیں، ان کے کامیاب ہونے والے اور اپوزیشن کے ہارنے والے زیادہ تر امیدواروں کے ووٹوں میں کوئی بڑا فرق دیکھنے میں نہیں آیا مگر اپوزیشن کو بھی حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے۔ آزاد کشمیر کے الیکشن میں افواجِ پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کی معاونت کی لیکن اس دوران سوشل میڈیا پر افواج ِپاکستان اور حساس اداروں کے خلاف جو معاندانہ مہم چلا ئی گئی اس کی پشت پر بھارتی سوشل میڈیا کے جعلی اکاؤنٹس تھے جبکہ چند پاکستانی بھی اس گمراہ کن پروپیگنڈاکا حصہ بنے ہوئے ہیں، لہٰذا حکومتی اداروں کو چاہیے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سرکردہ ماہرین پر مبنی کمیشن کے ذریعے ایسے جعلی اکاؤنٹس کا کھوج لگایا جائے۔ نادرا کے حساس ٹیکنالوجی کے ماہرین کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے جبکہ ایف آئی اے کے ممتاز ماہرین کی ٹیم بھی اس کام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

تحریک آزادیٔ کشمیر کا بیس کیمپ مظفرآباد ہے لہٰذا میری تجویز یہ کہ فکری تقسیم روکنے کے لیے وزیراعظم عمران خان اپنے چند ہاکس ٹائپ وزرا کو فارغ کریں جن میں ایک نے 25 جولائی کی شام کو سات بجے ہی آزاد کشمیر کے انتخابات میں فتح کا اعلامیہ جاری کرنے کا برملا اعلان کر دیا تھا۔ وزیراعظم کو اس وزیر سے جواب طلبی کرنی چاہیے کہ وہ کس قانون کے تحت آزاد کشمیر کے الیکشن میں فتح کا اعلان کرنے جا رہے تھے جبکہ حقیقی طور پر آزاد کشمیر کے الیکشن کا پہلا رزلٹ رات گیارہ بجے سامنے آیا۔ کیا آزاد کشمیر کے انتخابات میں وفاقی وزیر وہی گیم کھیلنے جا رہے تھے جو نواز شریف نے 11 مئی 2013ء کی رات 11 بجے فتح کا اعلان کر کے کھیلی تھی جبکہ اس وقت تک ملک بھر سے کسی بھی جگہ غیر سرکاری نتیجہ نہیں آیا تھا اور اپوزیشن کے لیڈر کی حیثیت سے عمران خان پانچ سال تک نواز شریف سے اس تقریر کا حساب لیتے رہے۔ میں نے فوری طور پر ٹوئٹ کے ذریعے اطلاع دی تھی کہ اگر شام سات بجے فتح کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا تو یہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔

چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کی طرف سے حالیہ انتخابی نتائج کے اعلان کے مطابق آزاد کشمیر کے 33حلقوں میں تحریک انصاف نے 16 نشستیں حاصل کیں جو آزاد جموں و کشمیر کے حدود میں آتے ہیں، مہاجرین کی نشستیں شامل کر کے 25 نشستیں تحریک انصاف کے حصہ میں آئی ہیں۔ بہرحال آزاد کشمیر کے انتخابات نے سیاسی سسٹم کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف چھ لاکھ 13 ہزار 590 ووٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے سامنے آئی، جس نے کل 32 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ووٹوں کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر مسلم لیگ (ن) تھی جس نے چار لاکھ 91 ہزار 71 یعنی 25 فیصد ووٹ حاصل کیے، اسے چھ نشستیں ملیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر سے تین لاکھ 49 ہزار 895 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھی جبکہ اس کی نشستوں کی تعداد پاکستان مسلم لیگ (ن) سے زیادہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو 18 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ ریاستی جماعت مسلم کانفرنس نے ایک لاکھ 53ہزار 861 اور آزاد امیدواروں نے ایک لاکھ 33 ہزار 130 ووٹ لیے جبکہ تحریک لبیک نے انتخابات میں 94 ہزار ووٹ حاصل کیے ہیں۔ الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کے اعداد و شمار کے مطابق 2016ء کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 66 فیصد جبکہ حالیہ انتخابات میں 62فیصد رہا۔ حالیہ انتخابات میں فوج کو پولنگ سٹیشن کے اندر تعینات نہیں کیا گیا، وہ امن و امان کو کنٹرول کرتے ہوئے باہر ہی پٹرولنگ کرتی رہی۔

انتخابات کی ٹیکنالوجی ایک سائنس کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کی جماعتیں جلسے، جلوس کی طرف توجہ مبذول کئے رکھتی ہیں اور مخالفین کی کردار کشی میں بڑھ چڑھ کر الزامات کے سہارے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ بظاہر پرکشش نعرے ہوتے ہیں لیکن اس طرح سیاستدان اندرونی طور پر عوام کے اضطراب کی لہروں سے غافل رہتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے عوام باشعور ہیں مگرایک وفاقی وزیر اور امیدوار نے کشمیری نوجوانوں میں رقوم تقسیم کیں تو حکومتی ترجمانوں نے کشمیری عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے اسے صدقہ خیرات کا نام دے دیا، گویا خیرات کی رقوم تقسیم کر کے کشمیری عوام کو ووٹ دینے کی ترغیب دلائی جا رہی تھی، جبکہ ملک میں زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ تقسیم کرنے کے ضابطہ اخلاق بنے ہوئے ہیں۔ بہرحال وزیراعظم عمران خان کشمیر کے انتخابات میں برتری حاصل کر چکے ہیں، لہٰذا انہیں چاہیے کہ آزاد کشمیر میں وزیراعظم ایسی شخصیت کو بنایا جائے جو وہاں ہوٹلز اور صنعتوں کا جال بچھا دے اور شاپنگ مالز، یونیورسٹیوں اور جدید ترین ہسپتالوں کی بنیاد رکھ سکے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دو معزز ارکان جسٹس (ر) الطاف ابراہیم اور جسٹس (ر) قیصر ارشاد 26جولائی کو ریٹائر ہو چکے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 213 کے تحت 45 دن کے اندر ارکان کے نئے نام آنے چاہئیں۔ آئین کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں چیف الیکشن کمشنر اور ہر صوبے سے ایک رکن شامل ہوتا ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کا سیاسی ماحول جس طرح تنازعات کا شکار رہا ہے اس نے الیکشن کمیشن کی قواعد و ضوابط کے مطابق تشکیل کو بھی متاثر کیا ہے۔ گزشتہ سال سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے اراکین کے تقرر میں بھی آئینی بحران پیدا ہو گیا تھا اور صدر مملکت نے وزیراعظم کے آئینی ماہرین کے مشورے سے دو ارکان کا تقرر کر دیا تھا جو آئین کے آرٹیکل 217 سے مطابقت نہیں رکھتا اوراُس وقت کے چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے ان دونوں نامزد ارکان سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دانشمندانہ فیصلے سے آئینی بحران پر قابو پایا گیا اور دو ارکان الیکشن کمیشن پر فیصلہ ہو گیا۔ اب بھی یہی صورت حال درپیش ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ارکان کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے ارکان کے تقرر میں پیش رفت نہیں ہوئی اور مقررہ آئینی مدت میں اس مسئلے کے حل کے کوئی آثار بھی نظر نہیں آتے، گزشتہ دور میں بلوچستان کے ممبر الیکشن کمیشن کا تقرر بھی آئین کے آرٹیکل 207 کے خلاف ہی ہوا تھا، اسی طرح نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا تقرر بھی آئین کے آرٹیکل 207 سے متصادم تھا اور اس کی تشریح بھی آئینی طور پر درست نہیں تھی لیکن تکنیکی بنیاد پر ان کے تقرر کو چیلنج نہیں کیا گیا حالانکہ خیبر پختونخواکے لیے 2018ء کے انتخابات کے لیے نگران وزیراعلیٰ کا تقرر درست نہیں تھا۔ ملک میں بلدیاتی انتخابات اور پھر عام انتخابات کی تیاریوں کے لیے مکمل الیکشن کمیشن ناگزیر ہے، لہٰذا وزیراعظم سپیکر قومی اسمبلی کی وساطت سے لیڈر آف اپوزیشن شہباز شریف سے بامقصد مشاورت کے عمل کو مکمل کریں۔