Thursday, 06 May 2021
  1.  Home/
  2. Bilal Ur Rasheed/
  3. Dunya Aik Ajeeb Ghar

Dunya Aik Ajeeb Ghar

ذرا سا ہوش سنبھالتے ہی بچّے کا جس چیز سے واسطہ پڑتا ہے، وہ یہ ہے کہ آپ جس چیز کو بھی ہاتھ سے چھوڑیں گے، وہ زمین پہ جا گرے گی۔ بڑے ہونے تک انسان اس چیز کا عادی ہوجاتا ہے اور یہ اس کے لیے کوئی عجیب بات نہیں رہتی۔ غور کرنے والوں کے لیے، لیکن یہ عجیب چیز ہی تھی۔ انہوں نے اس پر غور کرنا شروع کیا اور زمین کی کششِ ثقل دریافت کی۔ یہ کششِ ثقل اب فارمولے کے تحت سمجھائی جاسکتی ہے۔ ایک قوت ہے، جس سے زمین ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ جتنا کسی چیز میں مادے کی مقدار زیادہ ہوگی، اتنا ہی اس میں یہ قوت بڑھ جائے گی۔ یہ قوت ماپی جا چکی۔ اب، آپ آسانی سے حساب لگا سکتے ہیں کہ آسمان سے اگر ایک ہوائی جہاز گرے گا تو اس کی رفتار کیاہوگی اور ایک کاغذ گرایا جائے تو اس کی رفتار کیا ہو گی؟

جب آپ اس کششِ ثقل سے باہر نکل جاتے ہیں تو چیزیں بے وزن ہو کر خلا میں تیرنے لگتی ہیں۔ کششِ ثقل کرّہ ٔ ارض پہ زندگی کو گزارنے کے قابل بناتی ہے، اگر یہ کششِ ثقل نہ ہوتی تو کیتلی سے چائے کپ میں نہ جاتی، بلکہ اِدھر اُدھر بکھر جاتی۔ چھت پر موجود ٹینکی سے پانی پائپ میں آپ کے باتھ روم تک نہ پہنچ سکتااور اگر پہنچ جاتا تو شاور سے آپ کے سر پہ گرنے کی بجائے ہوا میں اڑنے لگتا۔ کششِ ثقل کی عدم موجودگی زندہ چیزوں پہ انتہائی برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ نارمل زندگی گزارنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

جب آپ تھوڑا سا دور جاتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ زمین کی کششِ ثقل نے چاند کو اپنے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاند زمین کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ مزید دور جائیں تو معلوم ہوتاہے کہ سورج نے زمین سمیت تمام سیارے اور ان کے چاند اپنی کششِ ثقل کی مدد سے اپنے مدار میں باندھ رکھے ہیں۔ کوئی بھی اس کششِ ثقل سے، اپنے اس مدار سے فرار نہیں ہو سکتا۔ مزید دور جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سورج بھی آزاد نہیں۔ سورج آٹھ لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کہکشاں کے مرکز کے گرد گھوم رہا ہے۔

اب، آپ زمین کو دیکھیں کہ وہ کتنی قسم کی گردش کر رہی ہے۔ اسے لٹو کی طرح اپنے محور کے گرد گھومنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اسے سورج کے گرد گھومنا ہے۔ سورج کے ساتھ ساتھ اسے کہکشاں کے مرکز کے گرد بھی گھومنا ہے۔ اتنی قسم کی گردشوں کے باوجود ہم آرام سے زمین پر ساکن بیٹھ کر اپنے کام کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں اس گھومتی ہوئی دنیا میں اپنا سر گھومتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ ہمیں زمین کی کوئی بھی گردش محسوس نہیں ہوتی لیکن، اگر بلڈ پریشر یا شوگر ذرا سا ہائی ہوجائے تو سر گھومنے لگتا ہے۔

ان سب چیزوں نے ایک دوسرے کو پکڑ رکھا ہے۔ اگر نہ پکڑرکھا ہوتا توزمین اور سورج سمیت سب اجرامِ فلکی ادھر ادھر ہو جاتے۔ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ کہکشائیں بھی اپنی جگہ پہ ساکن نہیں، بلکہ وہ بھی حرکت کر رہی ہیں۔ انسان زمین پہ مزے سے ساکن بیٹھا چائے پی رہا ہے۔ اسے کچھ بھی گھومتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ گاڑی سو کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار پہ آپ کو بہت تیز محسوس ہوتی ہے۔ دوسری طرف آپ سورج کے ساتھ ساتھ آٹھ لاکھ کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے ایک حرکت کر رہے ہیں اور آپ کو محسوس بھی نہیں ہوتا۔ کس قدر عجیب بات! لاکھوں کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے ہونے والی یہ حرکت اس انداز سے انجام پاتی ہے کہ پیالی سے چائے چھلکنے نہیں پاتی۔

اگر آپ دنیا کو کبھی غور سے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تخلیق کرنے والا بہت زیادہ طاقتور ہے، جس کے پاس طاقت، وقت اور وسائل لامحدود تھے۔ دنیا، اگر اتنی سی ہوتی کہ ایک سورج ہوتا، اس کے گرد ایک سیارہ، کرّہ ٔ ارض تو کافی تھا، لیکن یہاں تو ایک ایک کہکشاں میں اربوں سیارے موجود ہیں۔ زمین پہ انسان کے علاوہ اگر صرف بکرا اور بیل پیدا کر دیے جاتے تو کافی تھا۔ یہاں تو ایک وقت میں زمین پر 87لاکھ سپیشیز زندگی گزار رہی ہیں۔ زمین، اگر صرف گندم اور چاول اگاتی تو کافی تھا، یہاں تو پتہ نہیں کیا کچھ اُگ رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ کسی نے اپنی قوت (might)اور وسعت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اپنی ربوبیت کا اظہار کیا ہے۔ اس میں ایک اشارہ ہے۔ یہ دنیا ایک ٹریلر ہے، اگلی زندگی کا۔ جس دماغ پہ مہر لگ چکی ہو، اس کے لیے یہ سب اشارے بے معنی ہیں۔ وہ تو یہی کہے گا کہ بھلا جب ہم خاک ہو جائیں گے، جب ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی تو کیا ہمیں پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟

انسان جب اس دنیا کو نظر بھر کے دیکھتاہے تو اسے یہ حیرتوں کا جہان لگتا ہے۔ ایک طرف آپ یہ دیکھیں کہ ایک ستارہ پھٹ کر فنا ہوتاہے اور اربوں ٹن سونا خلا میں بکھر جاتا ہے۔ ایسے لگتاہے کہ بے تحاشہ وسائل ضائع کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف آپ کرّہ ٔ ارض کو دیکھیں کہ یہاں بہت محدود وسائل میں کیسے ایک پورا جہان آباد کر دیاگیا ہے۔ اگر زمین آپ کے حوالے کر کے آپ کو ٹاسک دے دیا جائے کہ آپ نے 87لاکھ قسم کی مخلوقات (سپیشیز) کو خوراک مہیا کرنی ہے، جب تک کہ وہ زندہ ہیں۔ آپ کبھی بھی نہیں کر سکیں گے۔ ایک کے بعد دوسری مخلوق بھوکی مرتی پھرے گی۔ دوسری طرف دیکھیے تو سترہ کروڑ سال تک ڈائناسار اس زمین پہ ایک بھرپور زندگی گزارتے رہے۔

زمین کو تمام مخلوقات کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اس کی اندرونی سخت تہوں کے اوپر نرم مٹی کی تہہ چڑھائی گئی ہے۔ اس مٹی کو اس قابل بنایا گیاہے کہ اس میں بیج پھوٹ سکتا ہے اور ننھا سا پودا زمین کو پھاڑ کر باہر نکل آتاہے۔ اس مٹی اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کے اندر ایک خاص گہرائی میں پانی جمع ہوتا رہتاہے۔ سخت جان پودے ڈیزائن کیے گئے ہیں، جو ہر جگہ پھوٹ پڑتے ہیں۔ جیسے ہی ننھا سا پودا زمین کو پھاڑ کر باہر نکلتاہے تو فوراً اسے سورج کی روشنی سے توانائی میسر آتی ہے۔ سورج کی روشنی اور پانی کو ملا کر پودا فوٹو سینتھیسز کا عمل کرتا ہے۔ اس دوران پودا خود توانائی حاصل کرتا ہے۔ اس دوران آکسیجن پیدا ہوتی ہے اور اس پودے پر وہ غلہ پیدا ہوتا ہے، جسے جانور کھاتے ہیں۔ جانوروں میں سے جو گوشت خور ہیں، وہ ایک دوسرے کو کھاتے ہیں۔ ان سب سپیشیز کو زندہ رکھنے کے لیے مختلف مخلوقات میں بچوں کی پیدائش اور ان کا میٹابولزم مختلف رکھا گیا ہے۔ ریپٹائلز ایک ساتھ بہت سے انڈے دیتے ہیں۔ یہ انڈے کئی جانوروں کو پروٹین مہیا کرتے ہیں، جبکہ دو تین بچّے ہی زندہ رہنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ سبزی خور جانور تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ یہ ہزاروں کے گروہ میں زندگی گزارتے ہیں۔ گوشت خور تعداد میں بہت کم ہیں۔

یہ دنیا ایک عجائب گھر ہے۔ سبزی اور خشکی، دونوں فوڈچینز میں انسان سب سے اوپر ہے۔ انسانوں میں بچّے بہت آہستگی سے بڑے ہوتے ہیں اور زیادہ تر بچّے زندہ رہتے ہیں۔ انسان اس دنیا کو تباہ کرنے کے درپے ہے، لیکن اس بیچارے کو یہ نہیں پتا کہ خود اس کی تباہی کا وقت اب بہت قریب ہے۔ زندگی کی یہ داستان، جس نے رقم کی تھی، وہ اب اس پر فل سٹاپ لگانے والا ہے۔