Friday, 24 September 2021
  1.  Home/
  2. Abdullah Babar Awan/
  3. Aik, Do, Teen Nahi Char

Aik, Do, Teen Nahi Char

ایک، دو، تین نہیں بلکہ چار الیکشن ہو چکے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں؟ چوتھے الیکشن میں آلِ شریف کو کوئی 32 سال بعد وہاں سے شکست دے سکا، لیکن خود فریبی اور خود نُمائی، خوش خیالی سے بھی آگے گزر جائے تو اس کا کوئی کیا علاج کرے گا؟

2018 کے الیکشن سے پہلے پشاور سے کراچی تک بُلٹ ٹرین جیسے خیالی اور خلائی گھوڑے دوڑائے گئے مگر 'سٹیٹس کو، ٹوٹ کر رہا۔ پاکستان کے ووٹروں نے تھرڈ آپشن کا کُھل کر انتخاب کیا، جس کے بعد دھاندلی کی صفِ ماتم بچھا کر تاثر یہ دیا گیا کہ 'سٹیٹس کو، تو ناقابل شکست تھا، اُسے شکست نہیں ہو سکتی، مگر وقت نے ثابت کردیا کہ میڈیائی لہروں کے علاوہ کسی جگہ سے دھاندلی کی نشاندہی ہوئی، نہ ہی کوئی ثبوت سامنے لایا جاسکا۔ نظریہ ذاتی ضرورت کی سیاست کرنے والوں کیلئے نظریہ Paul Joseph Goebbels آرڈر آف دی ڈے بن گیا یعنی اتنا جھوٹ بولو کہ لوگ اُسے سچ سمجھنے پہ مجبور ہو جائیں۔

بے رحم دروغ گوئی کی اس طرزِ سیاست پر جمہوریت کی خوبصورتی کا لیبل چپکا کرووٹ کو عزت دی جارہی ہے۔ ایک اور پہلو بھی ہے۔ وہ ہے غرض مندوں اور ضرورت مندوں کی تجزیاتی بٹالین۔ اس بٹالین کے فُٹ سولجرز کی تازہ کارروائیوں کے بارے میں تین منظر دیکھنے کے قابل ہیں۔

پہلا منظر آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات والے دن کے تجزیے اور شام کی صفِ ماتم پر مشتمل ہے۔ بیباک ضرورت مندوں کے ایسے تجزیوں کے مطابق نون لیگ کی نائب صدر انتخابی میلہ لُوٹ کر جا چکی تھیں۔ اِن کے نزدیک نائب صدر صاحبہ کے جلسوں سے الیکشن کا رزلٹ طے ہوگیا تھا۔ اے جے کے الیکشن کمیشن کی طرف سے ان کیلئے صرف اتنا سا کام کرنا باقی رہ گیا تھا کہ وہ 31 سیٹوں والی نون لیگی حکومت کو 32 سیٹیوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت دے کر تیسری بار حکومت بنانے کی دعوت دے۔ ان تجزیوں میں البتہ یہ نہیں بتایا گیاکہ بھمبر سے لیپا تک پی ایم ایل این کے لیڈروں اور وَرکروں کو تحریری طور پر ہدایات بھیجی جاتی رہیں کہ وہ نواز شریف کی بیٹی کا استقبال کرکے نواز شریف کے جلسوں میں باجماعت شریک ہوکر نواز شریف سے اظہارِ یکجہتی کا ثوابِ دارین حاصل کریں۔ اس سلسلے کا سب سے مشہور خط کہوٹہ والا ہے، جسے آپ سوشل میڈیا پر وائرل دیکھ سکتے ہیں۔ صرف اتنا لکھ کر ڈالیں، تو خط باہر آجائے گا "شبیریا! تم میرے استقبال کو آئو گے نا!" بھلوال والے مختاریا کے بعد کہوٹہ والا شبیریا آزاد کشمیر الیکشن کا وائرل ہیرو ثابت ہوا ہے۔

اس لئے نہیں کہ کہوٹہ میرا آبائی علاقہ ہے، بلکہ کہوٹہ اور پوٹھوہار کا ذکر اے جے کے الیکشن میں یوں بنتا ہے کہ جہلم سے میرپور، کھڑی شریف والا راستہ کشمیر جاتا ہے جبکہ کہوٹہ سے دان گلی اور آزاد پتن، کروٹ والے راستے دریائے جہلم کراس کرکے کشمیر جاتے ہیں۔ ایک راستہ کوٹلی ستیاں سے، ایک کوہِ مری سے اور ایک ایبٹ آباد مانسہرہ سے بھی مظفر آباد پہنچتا ہے۔ نون لیگی نائب صدر صاحبہ کے جلسوں کی اصل رونق یہیں سے ٹرانسپورٹ کی جاتی رہی۔ اسی حوالے سے ایک اور بات آپ کو یادکرانا ضروری ہے۔ یہی کہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چھوٹے میاں صاحب نے آزاد کشمیر کی انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا تھا۔ ظاہر ہے پارٹی صدر کو پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کیلئے انتخابی مہم ضرور چلانی چاہئے، لیکن اگر پارٹی صدر الیکشن مہم کا شیڈول دینے کے بعد بھی غائب رہے تو اس کی وجہ جاننے میں کیا حرج ہے۔ شہباز شریف صاحب کا کشمیر کی الیکشن مہم میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ زمینی حقائق سے واقفیت کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ ویسے بھی شہباز شریف موسم دیکھ کر کپڑے اور بوٹ کا انتخاب کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

دوسرا منظر: آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی شعور کی خواندگی 100 فیصد ہے۔ اس خطے کو جاننے والے سمجھتے ہیں کہ یہ آزاد خطہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کا "بیس کیمپ" ہے۔ یہاں کھڑے ہو کر اگر کوئی اُس پاک فوج پر گولہ باری کرے، جس کے جری جوان کشمیریوں کی آنکھوں کے سامنے اِنہیں بچانے کیلئے بھارتی گولہ باری کے سامنے اپنی جوانیاں، چھاتیاں اور جانیں پیش کرتے ہیں۔ ان محافظوں کے خلاف زبان دراز بیانیہ کیسے کامیاب ہوسکتا تھا۔ زبان درازی سے یاد آیا کہ اے جے کے میں نون لیگی حکومت کی کابینہ کے صرف وزیر زبان دراز نہیں تھے بلکہ وزیر اعظم خود اُن سب پر بھاری ثابت ہوا۔ اس زبان درازی کے ثبوتوں کیلئے سوشل میڈیا سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ مین سٹریم میڈیا پر انتہائی مہذب خواتین و حضرات اینکرز کے ساتھ اُن کی زبان درازی آپ شام 7 تا 11 کہیں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

تیسرا منظر: کہتے ہیں کسی گائوں کے پہلوان کو نوجوان نے چیلنج کیا، پھر نیچے گرایا اور اس کی پُشت زمین پر لگا دی۔ پہلوان فوراً اُٹھا اور کہا کہ اُس کا پائوں شلوار کے پائنچے میں پھنس گیا تھا، اس لئے وہ ہارا نہیں۔ کُشتی کا رائونڈ پھر ہوا، جس میں دوبارہ چیمپئن نیچے تھا اور چیلنجر اُس کی چھاتی پہ۔ پہلوان نے کھڑے ہوکر کہا کہ اس کا پائوں کیلے کے چھلکے پر آگیا ہے، وہ نوجوان کے ہاتھوں نہیں گرا، اس لئے وہ ہار نہیں مانے گا۔ دیہات والوں کو کیلے کا چھلکا ڈھونڈنے پر لگا کر پہلوان خود پتلی گلی سے نکل گیا۔ یہی حال نون لیگ کی نائب صدر صاحبہ کا بھی ہے۔ نون لیگ کے صدر صاحب تو کیلے کا چھلکا ڈھونڈنے کیلئے بھی باہر نکلنے کو تیار نہیں۔

پی پی38 پنجاب اسمبلی سیالکوٹ کے تازہ الیکشن میں نتائج دیکھیں تو ملک میں عموماً اور پنجاب میں خصوصاً ووٹنگ ٹرینڈ آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے۔ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار سعید احمد بھلی کو پی پی38 پر ہی 40 ہزار 575 ووٹ ملے تھے۔ پچھلے امیدوار صاحب کو اس ضمنی الیکشن میں ٹکٹ نہ مل سکا۔ نئے امیدوارچودھری احسن سلیم بریار سامنے لائے گئے۔ اس طرح سے پی ٹی آئی کے اوّلین دور حکومت میں اس کے ووٹوں میں پچھلے دو سال اور گیارہ ماہ میں اسی سیٹ پر 20 ہزار ووٹوں کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی سیٹ پر نون لیگ کے مرحوم ایم پی اے چودھری خوش اختر سبحانی نے 2018 میں 57 ہزار 636 ووٹ لیے تھے۔ اب نون لیگ کا ٹکٹ مرحوم ایم پی اے صاحب کے چھوٹے بھائی مسٹر طارق سبحانی کو دیا گیا، جن کے ووٹ 2018 کے مقابلے میں ووٹ کم نکلے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جی بی سے شروع کرکے اے جے کے اور اب پنجاب میں بھی نون لیگ کا لوگوں کو تقسیم کرنے اور اداروں پر الزامات کی بارش برسانے والا بیانیہ ریجیکٹ ہو گیا ہے۔

اے جے کے اور سیالکوٹ کے الیکشن سے پہلے ایک اور اہم فیکٹر بھی سامنے آیا جس کے انتخابی نتائج پر اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہے پاکستان کے بارے میں دشنام طرازی کرنے والے افغان این ایس اے کے ساتھ نواز شریف کی ملاقات، وہ بھی دشنام طرازی کے فوراً بعد۔ اس ملاقات میں بڑے میاں صاحب کے سمدھی کے علاوہ کسی اور پاکستانی کو شریک ہونے کی اجازت نہ دی گئی جس کا پاکستانیوں کے ذہنوں میں گہرا اثر پڑا ہے۔ اس سے پہلے کی سٹریک کسے یاد نہیں۔ نواز شریف اور انڈین پی ایم، دونوں نے کارگل جنگ کو مِس ایڈونچر کہا، جس میں دادِ شجاعت دیتے ہوئے کیپٹن کرنل شیر خان اور حوالدار لالک جان، دونوں نے جامِ شہادت بھی نوش کیا اور نشانِ حیدر بھی پایا۔

ووٹر کی آنکھیں کُھلی ہیں، اسی لیے سینیٹ الیکشن شامل کریں تو آلِ شریف کے بیانیہ کی سیالکوٹ شکست تیسری نہیں بلکہ چوتھی ہے۔

تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے

ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے

(پروین شاکر)